مفت علاج کا فلیگ شپ منصوبہ…محمد شریف شکیب

 

 

خیبر پختونخوا حکومت نے صحت کارڈ پروگرام کی کامیابی کے پیش نظر اسے مزید وسعت دینے کا فیصلہ کیا ہے رواں مالی سال کے دوران ضلعی ہیڈ کوارٹر ہسپتالوں کو بھی صحت کارڈ پروگرام میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اگلے سال صحت کارڈ پروگرام کو تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتالوں تک توسیع دینے کا فیصلہ ہوا ہے۔صوبے میں ضم ہونے والے قبائلی اضلاع سمیت خیبر پختونخوا کی تمام آبادی کو صحت کارڈ کے زریعے مفت علاج کی سہولت فراہم کی گئی ہے صوبے کے تمام بڑے سرکاری اور پرائیویٹ ہسپتال اس پروگرام کے زریعے داخل مریضوں کا مفت علاج کررہے ہیں۔ہر مریض کو سال میں دس لاکھ روپے تک مفت علاج کی سہولت میسر تھی بعد میں حکومت نے اعلاں کیا کہ دس لاکھ سے زائد اخراجات آنے کی صورت میں بھی مریض کا علاج جاری رہے گا اور اضافی اخراجات اگلے سال کے کھاتے میں شمار ہوں گے۔سرکاری ریکارڈ کے مطابق گزشتہ سال صحت کارڈ پروگرام کے سو فیصد نتائج حاصل کئے گئے اب تک گائنی کے دو لاکھ چھ ہزار مریضوں کا مفت علاج کیا جا چکا ہے امراض قلب کے ایک لاکھ سے زائد مریض پروگرام سے استفادہ کر چکے ہیں مختلف بیماریوں میں مبتلا 63 ہزار مریضوں کا سرکاری اور پرائیویٹ ہسپتالوں میں علاج ہوا جبکہ کڈنی کے 97 اور جگر کے 23 مریضوں کی پیوندکاری ہو چکی ہے۔ صحت کارڈ سے دوسالوں کے اندر 8 لاکھ سے زائد مریض فیض یاب ہوئے ہیں۔مفت علاج پروگرام سے جہاں مریضوں کو اپنی پسند کے ہسپتالوں میں علاج کی مفت سہولت میسر آئی ہے وہیں نجی ہسپتالوں کو بھی فائدہ ہوا ہے اور وہ صحت کی بہتر سے بہتر سہولتیں فراہم کرنے کے لئے کوشاں ہیں۔صوبے کے بعض سرکاری ہسپتالوں میں صحت کارڈ کے مریضوں کے ساتھ ڈاکٹروں کے امتیازی برتائو کی شکایات بھی سامنے آئی ہیں جن کا وزیر اعلی نے سخت نوٹس لیتے ہوئے کوتاہی برتنے میں ملوث اہلکاروں کے خلاف فوری کاروائی کا حکم دیا ہے۔ہسپتالوں میں مفت علاج کی سہولت کے باعث بعض ڈاکٹروں کے پرائیویٹ کلینکوں کا کاروبار متاثر ہوا ہے اس وجہ سے وہ دانستہ طور پر مفت علاج پروگرام میں روڑے اٹکانے اور مریضوں کو تنگ کرنے میں ملوث پائے گئے ہیں۔عوامی فلاح وبہبود کے پروگرام سے لوگوں کو متنفر کرنے والے عناصر کے ساتھ سختی سے نمٹنے کی ضرورت ہےتاکہ فلاحی منصوبوں کی راہ میں دانستہ روڑے اٹکانے والوں کا قلع قمع ہوسکے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔