انتہا پسندانہ رویوں پر تحقیق…محمد شریف شکیب

خیبر پختونخوا حکومت نے انتہا پسندانہ رویوں، دہشتگردی اورمعاشرتی برائیوں پر تحقیق ، ان کی وجوہات معلوم کرنے اور ان کا تدارک کرنے کے لئے سینٹر آف ایکسی لینس کے نام سےادارہ قائم کیا ہے جو نہ صرف پاکستان بلکہ جنوبی ایشیا میں اپنی نوعیت کا واحد ادارہ ہے وزیر اعلی کے زیر صدارت سینٹر آف ایکسی لینس کے اجلاس میں ادارے کو تمام جدید سہولیات سے آراستہ کرنے اور سٹاف کی تقرری کے لئے کمیٹیاں تشکیل دی گئیں۔سینٹر کو فعال بنانے کے لئے مختلف شعبوں کے ماہرین کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔معاشرے میں شدت پسندی اور جارحانہ رویوں کے فروغ میں بہت سے عوامل کارفرما ہیں۔غربت کی شرح میں اضافہ،بنیادی ضرورت کی اشیاء کے نرخوں میں روز افزوں اور ہوشرباء اضافہ، عدم مساوات، انصاف کے حصول میں مشکلات، سفارش کلچر، اقرباء پروری اور بڑھتی ہوئی کرپشن اس کی اہم وجوہات میں شامل ہیں۔معاشرتی توازن میں بگاڑ پیدا کرنے والے عوامل کا تدارک موثر قانون سازی اور قوانیں پر سختی سے عملدرآمد کرنے میں پوشیدہ ہے۔نامور مغربی فلاسفر والٹئیر کہتے ہیں کہ جب کسی معاشرے میں کرپشن کو معیوب نہیں سمجھا جاتا۔ناانصافی پر لوگ خاموش رہتے ہیں اور ظلم سہنے کی عادت ڈالتے ہیں تو معاشرتی توازن بگڑ جاتا ہے اس معاشرے کو تباہی سے کوئی نہیں بچا سکتا۔سینٹرآف ایکسی لینس کا قیام اس حقیقت کا مظہر ہے کہ حکومت کو معاشرتی نا ہمواری اور اس کے نتیجے میں امن عامہ کا مسئلہ پیدا ہونے کا ادراک ہے۔توقع ہے کہ سینٹر آف ایکسی لینس کی طرف سے معاشرے میں پیدا ہونے والی نا ہمواری کا تدارک کرنے کے لئے جو سفارشات پیش کی جائیں گی حکومت سنجیدگی سے ان پر غور بھی کرے گی اور ان کا قکع قمع کرنے کے لئے ٹھوس اور عملی اقدامات بھی اٹھائے گی تاکہ انتہاپسندانہ سوچ کا رخ تعمیر اور مثبت سرگرمیوں کی طرف موڑا جاسکے۔کرپشن، ناانصافی اور ظلم و جبر کا خاتمہ صرف حکومت کی ہی ذمہ داری نہیں، سرکاری اداروں، غیر سرکاری تنظیموں، سول سوسائٹی، اساتذہ اور علمائے کرام سمیت معاشرے کے باشعور افراد کو بھی امن و آشتی کے قیام میں اپنے حصے کا کردار ادا کرنا ہو گا۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔