انداز فکر کا فرق…محمد شریف شکیب

نامور بیورو کریٹ اور مشہور کتاب شہاب نامہ کے مصنف قدرت اللہ شہاب اپنی چند یاد داشتوں کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ایک بار وہ قائد اعظم محمد علی جناح سے ملنے گورنر جنرل ہاوس گئےملاقات کے بعد جب وہ واپس جانے لگے تو قائد اعظم انہیں رخصت کرنے بیرونی دروازے تک آئے۔ کمرے سے نکلتے ہوئے قائد اعظم نے بجلی کے تمام سوئچ آف کردئیے۔میں نےپوچھا کہ آپ نے لائٹس کیوں آف کردیں۔ بابائے قوم کہنے لگے کہ گورنر جنرل ہاوس میری سرکاری رہائش گاہ ہے جو میرے پاس قوم کی امانت ہے خالی کمرے میں لائٹس اور پنکھے لگا کر میں امانت میں خیانت نہیں کرسکتا۔ قوم کو توانائی کی ضرورت ہے اور میں مفت میں ایک یونٹ بجلی بھی ضائع کرنے کا روادار نہیں ہوسکتا۔قائد اعظم نے کہا کہ آپ دروازے سے باہر نکلیں گے تو میں برآمدے کی بتیاں بھی گل کر دوں گا۔یہ اس شخص کا انداز فکر تھا جس نے اس قوم کو غلامی سے آزادی دلوائی تھی۔آگے چل کر قدرت اللہ شہاب لکھتے ہیں کہ ایک بار لاہور کے بازار حسن میں ایک نائکہ سے ملنے جانے کا اتفاق ہوا۔ گرمی کا موسم تھا نائکہ نے دو دو ونڈو اے سی لگارکھے تھے اور کمبل اوڑھ کر بیٹھی ہوئی تھی میں نے کہا کہ ایک اے سی بند کر دیتے۔تو بجلی کا بل بھی کم آئے گا۔نائکہ نے جواب دیا کہ میں نے کونسا اپنی جیب سے بجلی کا بل بھرنا ہے۔اسی دوران ایک بڑے سرکاری افسر سے ملنے راولپنڈی میں ان کے دفتر گیا۔ مذکورہ افسر کے دفتر میں بھی دو اے سی لگے ہوئے تھے اورموصوف تھری پیس میں ملبوس ہونے کے باوجود ٹھنڈ محسوس کررہے تھے میں نے کہا کہ ایک اے سی بند کردیتے سردی بھی نہیں لگے گی اور بجلی کا بل بھی کم آئے گا۔ افسر نے جواب دیا کہ میں نے بل کونسا اپنی جیب سے بھرنا ہے۔ اعلی عہدے پر فائز بڑے تعلیم یافتہ افسر اور بازار حسن کی ان پڑھ نائکہ کی سوچ اور خیالات میں ہم آہنگی نے مجھے بہت کچھ سوچنے پر مجبور کردیا۔بے شک کسی قوم کی ترقی اور بربادی میں انداز فکر کا بڑا دخل ہے۔خود انحصاری کی منزل پانے اور منظم قوم بننے کے لئے سوچ کا انداز بدلنے کی ضرورت ہوتی ہے۔آج پاکستان کو جن معاشی، سیاسی اور معاشرتی مسائل اور پریشانیوں کا سامنا ہے ملک کو اس نہج تک پہنچانے میں ہم سب کا ہاتھ ہے قومی وسائل کی اونرشپ کا کسی کو زرا بھی احساس نہیں۔ سیاست دانوں سے لے کر عام لوگوں تک ہر کوئی قومی وسائل کو شیرمادر سمجھ کر ہضم کرنے کے درپے ہے۔جس کا جتنا اختیار اور دسترس ہے وہ اتنا بڑا خیانت کار اور کرپٹ ہے۔قومی وسائل لوٹنے والے ہی کرپٹ نہیں، اپنے فرائض منصبی کی ادائیگی میں دانستہ کوتاہی برتنے والے، ملاوٹ اور ذخیرہ اندوزی کرنے والے،رشوت اور سفارش کے زریعے کسی کا حق مارنے والے بھی کرپٹ اور قومی مجرم ہیں اور جب تک ہمارا انداز فکر نہیں بدلتا۔بحرانوں کے بھنور میں غوطے کھانا ہمارا مقدر ہے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔