نوائے سُرود … کہیں ہم مجرم تو نہیں ؟….شہزادی کوثر

” اسراف جرم ہے اور غربت میں اسراف دہرا جرم ہے ” مختار مسعود کی زبانی انقرہ میں ایوان صدر کی گیلری میں بچھے ہوئےپرانے اور گھسے ہوئے قالین نے اہل پاکستان کے نام جو پیغام دیا تھا اس پر کوئی کان دھر کر عمل کرنے کی کوشش کرتا تو آج ہمارے ملک کا وہ حشر نہ ہوتا جو ہم اپنی آنکھو ں سے دیکھ کر بھی کچھ نہیں کر پا رہے ۔ زندہ قومیں عمل اور جرات سے پہچانی جاتی ہیں اشیا اور تعیش سے نہیں ۔  ہمارا رویہ اوپر سے نیچے تک ایسا دوغلا اور دکھاوے پر مبنی ہو گیا ہے کہ کہیں بھی صداقت اور اصلیت کی جھلک نظر نہیں آرہی۔ پاکستان وجود میں آنے سے لے کر آج تک ملک کو خوشحالی کے راستے پہ ڈالنے کے بجائےاسے بے رحمی سے لوٹنے کا جو سلسلہ شروع ہو چکا تھا اس پر بغیر کسی تعطل کے عمل جاری ہے ۔ کوئی نہیں بتا سکتا کہ اسے کب ایک صحیح اور ہمدرد حکمران نصیب ہو گا اورلٹے پٹے عوام کو منصف رہنما میسر ائیں گے۔ اس میں قصور بخت کا ہے ،حالات کا ہے یا عوام کا ۔۔۔ اس کا فیصلہ اگر کر بھی لیا جائے تو کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا جتنی بے دردی کا مظاہرہ یہاں کیا گیا ہے اس کی مثال مشکل ہے۔ ملکی خزانے پر جتنا بوجھ غیر ضروری اور غیر اہم اخراجات کی مد میں ڈالا جارہا ہے اس سے سب واقف ہیں اگر غیر ملکی ٹھیکہ دار بھی پاکستان آئے تواسے سرکاری پروٹوکول کے ساتھ قیمتی تحائف دئیے جاتے ہیں تفریحی مقامات کی سیر کروائی جاتی ہے ، مہمان کے اعزاز میں دئیے جانے والے ظہرانہ اور عشائیہ پرسینکڑوں دیگر مہمانوں کو مدعو کر کے موجودہ قرضے میں اضافہ کرنے کی کوئی کسر نہیں چھوڑی جاتی۔ بے وقوفی اور اسراف کے کس کس انداز کو روایتی مہمان نوازی کے نام پر جائز قرار دیتے ہیں اس پر حیرت ہوتی ہے۔ وزیرخزانہ کا عہدہ ایسا ہے کہ اسے “مثل مار سر گنج” ملکی خزانے کی حفاظت کرنا پڑتی ہے لیکن ہمارے ہاں ریت ہی الگ ہے، خزانہ خالی کر کے “اپنی ” دولت بیرون ملک منتقل کرنے کا جو طریقہ صاحبان اختیار کو آتا ہے کوئی دوسرا اس کی دھول کو بھی نہیں پہنچ سکتا ۔اس وجہ سے ہر بچہ مقروض پیدا ہوتا ہے اس کی ناتواں کمر پر قرض کی اینٹ اس وقت رکھی جاتی ہے جب وہ اس کارگہ زیست میں اپنی آنکھ کھولتا ہے گزرتے وقت کے ساتھ سود کے اینٹوں کا نہ ختم ہونے والا ڈھیر اس کی کمر توڑ دیتا ہے ۔وہ غلامی کی نادیدہ زنجیروں میں تب تک جکڑا ہوا رہتا ہے جب تک اس کی سانسوں کی زنجیر ٹوٹ نہیں  جاتی ،اپنی آخری ہچکی کے ساتھ ہی وہ دنیا کی آلائشوں کے ساتھ ذلت و غلامی کے اس طوق کو اتار پھینکتا ہے جو زندگی بھر اسے دوسری اقوام کے سامنے سر نگوں رہنے پر مجبور کرتا ہے ۔ پاکستان دنیا کی ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل ہونے کے خواب ہی دیکھ سکتا ہے ۔دولت و ترقی میں نوزائیدہ ممالک بھی آگے نکل چکے ہیں مگر اس کا طبقہ اشرافیہ سرکاری رہائش گاہوں ،سرکاری املاک،گاڑیوں کے استعمال،دیگر تعیش،ٹھاٹ باٹھ،اپنے عزیزوں اور دیگر غیر ملکی مہمانوں پر ناجائز خرچ کرنے میں پیش پیش ہیں ۔ ان سب کے اثرات بلند طبقے سے نچلے طبقے کی طرف بھی اتنی تیزی سے اتے ہیں کہ ہر کوئی دولت عیش و آرام،شوکت و شہرت کے پیچھے بھاگ رہا ہے ۔اس کے حصول کی تمام تر کوشش کرتے ہوئے اکثر اوقات شرعی اور قانونی حدود سے بھی متجاوز ہو جاتا ہے۔یہ سوچ ہمارے ذہنوں سے نکل چکی ہے کہ اپنی ضروریات کو پورا کرنے، اپنے خاندان کی کفالت اور اس کی تعلیم وتربیت کے لئے محنت درکار  ہے نہ کہ دوسروں کو دکھانے اور متاثر کرنے کے لئے کالا دھن جمع کرنے کی ضرورت ۔۔  ہمیں اپنی سوچ بدلنے کرنے کے ساتھ ساتھ خواص کے قدم اکھاڑنے کی ہمت چاہیئے جو پچھلے پچھتر سالوں سے جونک کی طرح ہماری رگوں سے خون چوس رہے ہیں ۔ہمیں بحیثیت عوام اپنا فرض ادا کرنا ہے ہم ان سے پوچھنے کا حوصلہ نہیں رکھتے یہ سب سے بڑی بد بختی ہے کہ حکمران سے سوال کرنے میں ہچکچاہٹ ہو ،جب عوام اپنے حکمران سے پوچھنے کے قابل ہوجائے کہ آپ کے پاس دو چادریں کہا ں سے آ گئیں ؟ تب صحیح معنوں میں عوام اپنا فرض پورا کرے گا ۔چادریں تو دور کی بات یہاں ملک کو کنگال کرنے والوں سے بھی کوئی نہیں پوچھتا بلکہ اسے تخت پہ بٹھایا جاتا ہے۔ ہم گونگے بہرے بنے لُٹ رہے ہیں اور آواز اٹھانے کی جسارت بھی نہیں کر پا رہے۔ طبقہ اشرافیہ سے کسی حاجت کی امیداور ضرورت کی بر آوری کی آس نے ہمیں بے دست و پا کر دیا ہے۔ ہماری حیثیت اپاہچ معذور گونگے کی ہے جو دیکھ تولیتا ہے لیکن کچھ کر پانے کی استطاعت نہیں رکھتا ۔ وہ دن کب آئے گا جب قوم جاگ اٹھے گی ؟  ہم جاگتے تو ہیں مگر صرف ملی نغموں میں ۔۔ غیرت و جرات کا پیکر بھی بن جاتے ہیں اپنے دشمن کو مٹی میں ملانا بھی جانتے ہیں لیکن اپنی قوم کی بنیادیں کھوکھلی کرنے والے دشمنوں سے یا تو واقعی بے خبر ہیں یا جا نتے بوجھتے چشم پوشی کر رہے ہیں ۔اگر واقعی ایسا ہے تو ہمیں جوابدہی کے لئے تیار بھی رہنا ہوگا۔ اگر ہم آزاد ہیں ،ایک قوم ہیں  تو قوم ہونے کا ثبوت بھی دینا ہوگا ۔ ٹی وی پر آکر ایک دوسرے کے خلاف زہر اگلنے اور گالم گلوچ سے اگر معاشی مسائل کا کوئی خاطر خواہ حل نکلتا یا غریب کو دو وقت کی روٹی مل جاتی یا بیمار کو آرام و سکون مل پاتاتو کوئی بات بھی تھی۔۔  ہم کہنے کو قوم ہیں لیکن صرف شاعری کی حد تک یا گنگنانے کے لئے۔۔۔ ہم ایک پرچم تلے جمع بھی ہو جاتے ہیں لیکن سچ پوچھیں تو ہمارے مفادات الگ الگ ہیں ،ہر کوئی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنانے میں جتا ہوا ہے ،اتحاد و اتفاق سے کام لیتے تو پچھتر سالوں سے ہماری ایک ہی دُہائی نہ ہوتی بلکہ ہم نئے زمانے کا راگ الاپتے ہوئے ستاروں کی رہنمائی کر رہے ہوتے۔۔۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔