اب بھی قانون کے مطابق تریچ میر ڈرائیورز یونین کا صدر اور حاجی محمد یوسف اس کا سرپرست اعلیٰ ہے۔اخلاق حسین

چترال (نمائندہ چترال ایکسپریس) ضلع لویر چترال کے ڈرائیورز یونین کے رہنماؤں اخلاق حسین نے کہا ہے کہ وہ اب بھی قانون کے مطابق تریچ میر ڈرائیورز یونین کا صدر اور حاجی محمد یوسف اس کا سرپرست اعلیٰ ہےاور ان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پاس کرنے کی خبر جھوٹ اور من گھڑ ت ہے اور ڈرائیور برادری کی اکثریت اب بھی ان کے ساتھ ہے۔ جمعہ کے روز حاجی محمدیوسف، جلال الدین، سہیل خان، جہان خان، محمد اسحاق اور دوسروں کے ہمراہ چترال پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ وہ الیکشن میں بلا مقابلہ منتخب ہوگئے ہیں اور ڈرائیور یونین کے آئین میں عدم اعتماد کی تحریک کے لئے ایک طریقہ کار دیا گیا ہے لیکن صابر احمد نے اس پر عمل کرنے کی بجائے خود اپنی طرف سے اعلان کرکے اپنے آپ کی صدارت کا اعلان کرکے انتشار پھیلانے کی کوشش کررہے ہیں۔ا نہوں نے کہاکہ صابر احمد اور ان کے درمیان ایک طویل قانونی جنگ سیشن جج کی عدالت میں ہونے کے نتیجے میں وہ صدر منتخب ہوگئے تھے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ وہ صابر احمد ضلعی انتظامیہ اور کسی ادارے کو خاطر میں لانے کو تیار نہیں ہیں اور سازش کا جال پھیلانے میں مصروف ہے جس سے ڈرائیوروں کے درمیان لڑائی کی نوبت آسکتی ہے جس کی ذمہ داری صابر پر ہوگی۔ انہوں نے ڈپٹی کمشنر لویر چترال سے مطالبہ کیا کہ وہ صابر احمد کی کاروائیوں اور سرگرمیوں پر نظر رکھے اور انہیں یونین کی آئین اورملکی قانون پر عمل کرنے کا پابند بنادے ورنہ حالات کے بگڑنے کی تمام تر ذمہ داری صابر احمد اور ڈی سی چترال لویر پر عائدہوگی۔ انہوں نے کہاکہ صابر احمد پہلے بھی چار سال ڈرائیور یونین کی صدارت کی لیکن ڈرائیور برداری کی کوئی خدمت نہ کرسکا جس کا ثبوت یہ ہے کہ 2018ء کے الیکشن ڈیوٹی کے18لاکھ 75ہزار روپے مختلف ڈرائیوروں کے حکومت پر باقی ہیں لیکن وہ ان کی کلیرنس کرانے میں ناکام ہوگئے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ ڈرائیور یونین کے عہدے کے لئے ڈرائیور ہونا ضروری ہے لیکن صابر احمد ٹرانسپورٹ اڈا چلارہے ہیں جبکہ یونین کی لائسنس ان کے پاس بھی موجود ہے جسے ضروری موقع پر دیکھایا جائے گا۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔