قیادت کا اسلامی تصور…محمد شریف شکیب

خلیفۃ المسلمین حضرت عمر بن عبدالعزیز سے ان کی بیٹیوں نے آ کر شکایت کی کہ کل عید کا دن ہے ہمارے پاس پھٹے پرانے کپڑے ہیں رعایا کی خواتین ہمارا تمسخر اڑاتی ہیں کہ خلیفہ کی بیٹیوں کے پاس عید کے دن بھی نئے کپڑے نہیں ہیں۔حضرت عمر بن عبدالعزیز نے بیٹیوں کو سمجھایا کہ میرے پاس تمہیں نئے کپڑے لاکر دینے کے لئے رقم نہیں ہے۔قوم کی امانت میں خیانت کروں گا تو قیامت کے دن میں اور آپ اللہ تعالی کو کیا جواب دیں گے۔ ساڑھے بائیس لاکھ مربع میل پر حکمرانی کرنے والے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ درخت کے نیچے اینٹ پر سر رکھ کر سوتے تھے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو بھرے دربار میں اپنی لمبی قمیض کے بارے میں وضاحت دینی پڑی۔اورنگزیب عالمگیر نے پورے برصغیر پر پچاس سال حکمرانی کی۔چالیس سال میدان جنگ میں گذارے۔اپنا اور گھر کا خرچہ قرآن کریم کی کتابت کرکے نکالتے تھے۔ہمارے اسلاف کی سادگی، قناعت، ایمانداری اور خوف خدا رکھنے کی سینکڑوں، ہزاروں نہیں، بلکہ لاکھوں مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔آج ہم نے اپنی یہ زریں روایات چھوڑ دی ہیں اور دنیا میں خجل خوار ہو رہے ہیں۔ اغیار نے ہمارے اسلاف کی خوبیاں اپنا لیں اور آج دنیا پر حکمرانی کر رہے ہیں۔ جرمنی کی خاتون چانسلر انجیلا مرکل یورپ کے ترقی یافتہ ملک پر سولہ سال حکمرانی کرنے کے بعد جب ایوان صدر سے اپنا پرس اٹھا کر باہر نکلیں تو پوری قوم نے کھڑے ہوکر ان کے لئے چھ منٹ تک تالیاں بجائیں۔ایوان صدر سے وہ سیدھی اس اپارٹمنٹ میں شفٹ ہو گئیں جہاں وہ چانسلر بننے سے پہلے رہتی تھیں۔ایک انٹرویو کے دوران صحافی نے انجیلا مرکل سے پوچھا کہ آپ کافی عرصے سے ایک ہی سوٹ پہنے نظر آرہی ہیں کیا آپ کے پاس کپڑوں کا دوسرا جوڑا نہیں ہے۔ مرکل نے مسکرا کر جواب دیا کہ میں کوئی ماڈل تو نہیں ہوں کہ روزانہ سوٹ تبدیل کروں۔انہوں نے بتایا کہ چانسلر ہونے کے باوجود انہوں نے گھر میں جوئی ملازم نہیں رکھا۔اپنے شوہر کے ساتھ مل کر وہ کپڑے خود دھوتی ہیں، انہیں استری کرتی ہیں، گھر کی جھاڑ پونچھ اور صفائی بھی خود کرتی ہیں اوراپنا کھانا بھی میاں بیوی خود تیار کرتے ہیں۔سولہ سال ایک ترقی یافتہ ملک پر حکمرانی کرنے والی انجیلا مرکل نے کوئی جائیداد، کارخانہ، آف شور کمپنی اور کسی غیر ملکی بینک میں اکاونٹ نہیں کھولی نہ ہی عالیشان محل بنوایا۔ان کے پاس کوئی قیمتی گاڑی نہیں ہے۔انہوں نے قومی وسائل سے کبھی بیرون ملک علاج نہیں کروایا نہ کسی ملک کا سرکاری یا غیر سرکاری دورہ کیا ۔ اور جب کسی قوم کی قیادت اس قدرسادہ مخلص اوردیانت دارہو۔ تو اس قوم کو ترقی کرنے سے دنیا کی کوئی طاقت نہیں روک سکتی۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔