چترال کی سول سوسائٹی اور سیاسی جماعتوں کی امریکن کمپنیوں کی لیزوں کی منسوخی تک تحریک جاری رکھنے کا اعلان

چترال (چترال ایکسپریس) چترال کی سول سوسائٹی اور سیاسی جماعتوں نے پارٹی وابستگیوں کو پس پشت ڈال کر چترال کے طول وعرض میں معدنیات کی لیز کے بارے میں حکومتی پالیسی کے خلاف ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونے اور متحدہو کر امریکن کمپنیوں اور سیاسی اثرو رسوخ کی بنیاد پر دئیے گئے لیز وں کی منسوخی اور چترالیوں کے ساتھ امتیازی سلوک کے خاتمے تک تحریک جاری رکھنے کا اعلان کردیا۔ پیر کے روز چترال پریس کلب میں ایک پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شہزادہ مدثر الملک، لیاقت علی،مولانا اسرار الدین الہلال، سید برہان شاہ، مولانا عبدالسمیع آزاد، وجیہہ الدین، محمد کوثر ایڈوکیٹ، صفدر علی کاش، جاوید یونس، شبیر احمد، اخلاق حسین، عنایت اللہ اسیر، سید عابد جان، ڈاکٹر نذیر احمد اور دوسروں نے حکومت سے پرزور مطالبہ کیاکہ چترال کے اثاثہ جات اور معدنی وسائل پر دیسی لوگوں کا حق تسلیم کیا جائے، چترال کی مٹی کو غیر ملکیوں اور من پسند افرادکو فروخت نہ کیا جائے اور دیسی لوگوں کو سمال اسکیل پر مائننگ سے نہ روکا جائے ا ور مختلف حیلے بہانے سے دیسی لوگوں پر لیز کا دروازہ بند نہ کیا جائے۔ انہوں نے کہاکہ چترال کا 80فیصد سے ذیادہ علاقہ پہاڑوں اور گلیشیروں پر مشتمل ہے جہاں بے پناہ معدنی ذخائر موجود ہیں اور لواری ٹنل کی تکمیل کے بعد ان سے استفادہ کرنے کی باری آئی تو سال 2012ء میں محکمہ معدنیات خیبر پختونخوا نے چترال کو 15مختلف بلاکو ں میں تقسیم کرکے لارج اسکیل پر مائننگ کے لئے غیر ملکیوں کو انوسٹمنٹ کے لئے پیش کردیا اور کینڈا، دبئی، چین تک گئے، اخبارات میں انٹرنیشنل اشتہارات چھپوائے لیکن 2021ء تک ایک بھی انوسٹر باہر سے نہیں آیا۔ لارج اسکیل مائننگ کی اس ناکام کوشش کے بعد صوبائی حکومت نے جولائی 2021ء میں سمال اسکیل مائننگ کو چترال کے لئے کھول کر چھوٹے انوسٹروں سے لیز درخواستیں طلب کی جس کے جواب میں 600سے زائد مقامی انوسٹروں نے ان لائن درخواستیں جمع کی اور اس مد میں حکومت کے خزانے میں کروڑوں روپے بھی جمع ہوگئے لیکن حکومت نے پھر یو ٹرن لیتے ہوئے دوبارہ لارج اسکیل مائننگ کا فیصلہ کرتے ہوئے غیر ملکیوں اور اپنے من پسند انوسٹروں کو جائنٹ وینچر(جے وی) کے نام پر دینے پر کام کررہے ہیں اور اہالیان چترال کی سمال سکیل مائننگ کے درخواستوں کو وجہ بتائے بغیر مسترد کررہے ہیں۔ انہوں نے کئی امریکن کمپنیوں اور سوات سے تعلق رکھنے والے کمپنیوں کا نام میڈیا کے سامنے پیش کیا جنہیں حال ہی میں لاکھوں ایکڑ پر پھیلی ہوئی لارج سائز بلاک گرانٹ کردئیے گئے ہیں۔ اس سے قبل انہوں نے لیز پالیسی کے خلاف جلوس نکالا اور پی آئی اے چوک میں جلسہ منعقد کیا۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔