وزیراعلیٰ خیبر محمود خان کی صوبہ بھر میں سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں تجاوزات کے خلاف بھرپور آپریشن شروع کرنے کا حکم

پشاور(چترال ایکسپریس)وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے صوبہ بھر میں سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں تجاوزات کے خلاف بھرپور آپریشن شروع کرنے کا حکم دیتے ہوئے متعلقہ حکام کو بند سڑکوں کے فوری طور پر کھولنے کی ہدایت کی ہے۔ وہ منگل کے روزصوبائی کابینہ کے 78 ویں اجلاس سے خطاب کر رہے تھے جو ان کی زیر صدارت پشاور سول سیکرٹریٹ کے کیبنٹ روم میں منعقدہوا۔ اجلاس میں کابینہ کے ارکان، صوبائی چیف سیکرٹری، ایڈیشنل چیف سیکرٹری،سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو اور انتظامی سیکرٹریز نے شرکت کی۔ کابینہ کے اجلاس کے حوالے سے صوبائی وزیر محنت و ثقافت شوکت یوسفزئی نے محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ کے اطلاع سیل میں میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ کابینہ نے قدرتی آفات میں جان بحق ہونے والوں کے لیے معاوضہ 3 لاکھ سے 8 لاکھ کرنے اور تباہ شدہ مکانات کے نقصان کے معاوضے کو بھی ایک لاکھ سے چار لاکھ کرنے کی منظوری دی۔شوکت یوسفزئی نے بتایا کہ کابینہ نے سیلاب کے دوران فوری امدادی کاروائیوں کے اجراءپر ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو 1122 سمیت سرکاری اداروں کی کارکردگی کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ نے معدنیات کی کانوں میں حادثات کی صورت میں کارکنوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے معدنی کانوں کے حامل اضلاع میں ریسکیو 1122 کے مراکز کھولنے کی ہدایت کی ہے تاکہ حادثات کی صورت میں فوری امدادی سرگرمیاں شروع کی جا سکیں اور کان کنوں کی جانیں بچائی جا سکیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ کابینہ نے آٹے پر سبسڈی جاری رکھنے کا فیصلہ کیا اور عوام کو رعایتی نرخوں پر آٹے کی فراہمی کاسلسلہ سارا سال جاری رکھا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ حکومت آٹے پر سبسڈی کی مد میں 35 ارب روپے خرچ کر رہی ہے۔فی الوقت صوبے میں آٹے کے وافر ذخائر موجود ہیں اور وزیراعلیٰ کی ہدایت پر صوبے میں روزانہ دو لاکھ سے زیادہ دس کلو اور بیس کلو کے بیگ رعایتی نرخوں پر عوام کو فراہم کیے جا رہے ہیں۔ محکمہ خوراک عوام کو ان کی دہلیز پر ٹرکوں کے ذریعے آٹا پہنچا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 15 اگست سے یہ کوٹہ بڑھا کر ڈھائی لاکھ بیگ روزانہ کر دیا جائے گا۔ شوکت یوسفزئی نے کہا کہ صوبائی کابینہ نے پشاور ہائی کورٹ کے احکامات کی روشنی میں سابقہ قبائلی علاقوں کے لیے ملک بھر میں قائم میڈیکل ڈینٹل کالجز میں ریزرو سیٹس میں آبادی یا سابقہ قبائلی ایجنسیوں کے مطابق کرانے پر غور و خوض کے بعد فی الحال پرانے کوٹے کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا۔کابینہ نے خیبرپختونخوا چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر کمیشن کے تین ممبران پیر فدا محمد ایم پی اے،محترمہ سمیرا شمس ایم پی اے اور ڈاکٹر عبد الغفور کی بحیثیت کمیشن ممبران دوسری مدت کے لئے توسیع کی منظوری دے دی جبکہ محکمہ ہا¶سنگ کی تجویز پر پی ایچ اے ہاوسنگ سکیم جلوزئی ضلع نوشہرہ میں وزیراعظم کے نیا پاکستان ہا¶سنگ پروگرام کے تحت 1320فلیٹس کی تعمیر کے لیے نظر ثانی شدہ پی سی ون کے مطابق پیکج ون کے لیے اضافی 39.55ملین روپے اور مکمل منصوبے کی تکمیل کے لیے مجموعی طور پر818.668 ملین روپے کی منظوری بھی دی گئی۔ وزیر محنت و ثقافت نے کہا کہ صوبائی کابینہ نے مہمند ڈیم ہائیڈرو پراجیکٹ کے ایریگیشن چینلز کی ڈیزائننگ اور تعمیر کے لئے نان اے ڈی پی سکیم کے طور پر4300 ملین روپے مختص کرنے اور اس سال کے لیے 200 ملین روپے کی منظوری دی۔ شوکت یوسفزئی نے بتایا کہ وزیراعلیٰ محمود خان کی ہدایت پر صوبائی حکومت نے بلوچستان کے سیلاب متاثرین کے لیے امدادی سامان کے 32 ٹرک بھجوا دیئے ہیں جس میں خیمے،کمبل، فوم،ادویات، رضائیاں، حفظان صحت(hygiene) کی کٹس، مچھردانیاں،اشیائے خوردونوش کے علاوہ ڈی واٹرنگ پمپس بھی شامل ہیں۔ صوبائی کابینہ نے سیکرٹری اوقاف، حج،مذہبی و اقلیتی امور کی بطور چیف ایڈمنسٹریٹر اوقاف کی بھی تقرری کی منظوری دے دی ہے۔جبکہ محکمہ ریلیف و آبادکاری کی جانب سے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ خیبرپختونخواترمیمی ایکٹ کے تحت ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کے ٹرائیبل ڈویژن درازندہ میں ڈپٹی کمشنر کی درخواست پر جنگلات میں لگی آگ پر قابو پانے کے لیے فائر ایمرجنسی لگانے اور اب حالات معمول پر آنے کے بعد ایمرجنسی واپس اٹھانے کی منظوری دی۔کابینہ نے ٹانک اور ڈیرہ اسماعیل خان میں فلڈ ایمرجنسی کے نفاذ کی منظوری بھی دی۔وزیر اعلیٰ نے ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت کی کہ جہاں ضروری ہو فلڈ ایمرجنسی لگائی جا سکتی ہے تا کہ متاثرین کی فوری امداد،بہالی و آباد کاری یقینی بنائی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی کابینہ نے تحصیل پہاڑ پور ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں ریسکیو 1122کے قیام کے لئے اراضی کی فراہمی کی منظوری دے دی ہے۔ کابینہ نے واٹر سپلائی اینڈسینیٹشن کمپنی ایبٹ آباد میں مزید 23 ویلج اور نیبرہڈ کونسلوں کو شامل کرنے کی منظوری دی۔اسی طرح کابینہ نے واٹر سپلائی اینڈ سینیٹیشن کمپنی بنوں کے بورڈ کو تحلیل کرنے کی بھی منظوری دی۔ کابینہ نے خیبر پختونخوا آئی ٹی بورڈ کے سید احمد کی بربنائے کے عہدہ رکن بنانے کی بھی منظوری دی۔اسی طرح کابینہ نے پبلک سروس کمیشن کے ذریعے بھرتی ہونے والے ASIs کے عمر کی حد کے حوالے سے ایشو کے حل کے لیے آئی جی خیبر پختونخوا کو کیس صوبائی حکومت کو بھیجنے کی ہدایت کی۔ ممنوعہ فنڈنگ کیس پر الیکشن کمیشن کے فیصلے سے متعلق ایک سوال کے جواب میں شوکت یوسفزئی نے کہا کہ کھودا پہاڑ نکلا چوہا۔ اپوزیشن نے اس حوالے سے جو توقعات اور خواہشات وابستہ کی تھی اس پر اوس پڑ گئی۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔