خیبرپختونخوا کی پولیس کی تاریخ جوانوں اور افسران کی قربانیوں کی داستانوں سے بھری پڑی ہے جس پر وہ بجا طور پر فخر محسوس کر رہے ہیں ۔وزیراعلی محمود خان

پشاور(چترال ایکسپریس)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے کہا ہے کہ وہ ایک ایسے صوبے کے وزیراعلیٰ ہیں جس کی پولیس کی تاریخ جوانوں اور افسران کی قربانیوں کی داستانوں سے بھری پڑی ہے جس پر وہ بجا طور پر فخر محسوس کر رہے ہیں۔ صوبے میں دہشت گردی اور عسکریت پسندی کا اگر کسی نے فرنٹ لائن پر مقابلہ کیا ہے اور دہشت گردوں کو اگر کسی نے للکارا ہے تو وہ خیبرپختونخوا پولیس ہے، اگر آج ہم سب ایک پر امن ماحول میں جی رہے ہیں تو یہ پولیس شہداءکی قربانیوں کی مرہون منت ہے جنہوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے ہمیں ایک پر امن فضا میں سانس لینے کا موقع فراہم کیا جس کے لئے ہم اور ہماری نسلیں ان شہدا کے لواحقین کی احسا ن مند رہیں گی۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کے روز پشاور میں 4 اگست کو “یوم شہداءئے پولیس” کی مناسبت سے منعقدہ ایک تقریب سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ خیبرپختونخوا پولیس کی مجموعی کارکرد گی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا پولیس جس طرح پرفارم کر رہی ہے وہ دوسرے صوبوں کے پولیس کی نسبت بہت بہتر ہے جس کے لئے خیبرپختونخوا پولیس داد اور مبارکباد کی مستحق ہے۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ امن ہماری پہلی ترجیح اور سب سے مقدم ہے اگر امن ہوگا تو سب کچھ ہوگا، اگر یہ ملک اور صوبہ ہوگا تو کوئی وزیراعظم ، کوئی وزیراعلیٰ اور کوئی آئی جی پی ہوگا خدانخواستہ یہ ملک اور صوبہ نہ رہے تو کچھ بھی نہیں رہے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ پولیس نے بیش بہا قربانیاں دے کر صوبے میں امن قائم کیا ہے لیکن آج بھی آئے روز پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنایا جارہا ہے جس کو روکنے کے لئے ہمیں ٹھوس اقدامات کرنے ہونگے اور ہمیں اپنے لوگوں کے ساتھ ساتھ پولیس کو بھی تحفظ فراہم کرنا ہوگا۔ محمود خان کا کہنا تھا کہ میرا تعلق ایک ایسے خطے سے ہے جو دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ہوا تھا اور میں نے اپنی آنکھوں کے سامنے بہت سی شہادتیں دیکھی ہیں اور سخت حالات کا سامنا کیا ہے اور سب سے زیادہ شہادتیں پولیس نے دی ہیں۔ پولیس ، فوج اور ایف سی سمیت جوبھی فورسز یونیفارم پہنتی ہیں وہ شہادتیں دینے کے لئے ہروقت تیار ہوتے ہیں لیکن ہماری فورسز کی شہادتیں بہت ہوگئیں اور اب ہم صرف غازی چاہتے ہیں جس کے لئے ہم سب کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے پولیس کے اعلیٰ حکام سے کہا کہ پولیس کو مستحکم بنانے اور عصری تقاضوں سے ہم آہنگ بنانے کے لئے جو بھی وسائل درکار ہوں ان کو آگاہ کریں اور صوبائی حکومت وہ وسائل ترجیحی بنیادوں پر فراہم کرے گی کیونکہ امن و امان ان کی حکومت کی اولین ترجیح ہے جو پولیس کو مستحکم کئے بغیر ممکن نہیں۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حکومت پولیس شہداءکے لواحقین کے ساتھ کھڑی ہے اور کھڑی رہے گی ۔ ان کے ساتھ بھر پور تعاون کا سلسلہ جاری رہے گا۔ انہوں نے یقین دلایا کہ وہ پولیس شہداءکے لواحقین کو درپیش مسائل کے حل کے لئے ہر ممکن اقدامات کرےں گے اور ملازمتوں میں پولیس شہداءکے مختص کوٹے پر مکمل عملدرآمد کو یقینی بنایا جا ئے گا۔ وزیراعلیٰ نے اس موقع پر پولیس فورس کے ماہانہ راشن پیکج کو پنجاب پولیس کے راشن پیکج کے برابر کرنے کا اعلان کیا۔ وزیراعلیٰ نے پولیس شہداءکے لواحقین میں ایک ایک کروڑ روپے کے امدادی چیکس بھی تقسیم کئے ۔ وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی بیرسٹر محمد علی سیف ، چیف سیکرٹری ڈاکٹر شہزاد بنگش ، انسپکٹر جنرل پولیس معظم جاہ انصاری، اراکین صوبائی اسمبلی ، اعلیٰ پولیس حکام ، سرکاری افسران ، شہدائے پولیس کے لواحقین اور میڈیا کے نمائندوں کی کثیر تعداد نے تقریب میں شرکت کی۔ تقریب سے خطاب میں دیگر مقررین نے بھی پولیس شہدا کی قربانیوں کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا۔
<><><><><><>

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔