داد بیداد۔۔۔۔بھو لنے کی عادت۔۔۔ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

اخبار میں خبر آئی ہے کہ چند سال پہلے حکومت نے ایک اتھار ٹی قائم کی تھی اس کا دفتر بنا تھا اس کے ملا زمین جگہ جگہ نظر آتے تھے آج کل اس اتھا رٹی کے کا م کا پتہ نہیں چلتا، حکومت نے بھی اس کو بھلا دیا ہے، عوام نے بھی بھلا دیا ہے اس پر مجھے مشہور کنسلٹنٹ سلمان آصف کا سنا یا ہوا واقعہ یا د آیا مو صوف نے واقعہ سنا یا تھا کہ ایک سال میں پا کستان کی لو ک مو سیقی اور لو ک ادب پر کا م کرنے والے ما ہرین کی جما عت کو لیکر اسلا م اباد میں لو ک مو سیقی جمع کرنے والے بڑے اداروں میں گیا ان میں ایک ادارے کا بڑا ہال تھا ہال کے اندر دھیمی روشنی تھی بڑی بڑی الما ریاں تھیں بڑے بڑے شیلف تھے ان میں لا کھوں کی تعداد میں کیسٹوں کے ڈبے پڑے تھے گھو م پھر کر ہم ایک ٹیبل پر آبیٹھے جہاں ایک شخص کمپیو ٹر پر کوئی اہم کا م کر رہا تھا اُس نے ہماری آمد کا چنداں نوٹس نہیں لیا، تھوڑی دیر خا موش بیٹھنے کے بعد میں نے مو صوف سے پو چھا بھا ئی ذرا یہ تو بتاؤ کہ یہ سب کیا ہے؟ اس نے گھور کر مجھے دیکھا میرے مہما نوں پر ایک نظر ڈالتے ہوئے کہا صاحب! کیا پو چھتے ہو یہ قبر ستان ہے میں نے کہا کس کا قبر ستان؟ کیسا قبرستان؟ اُس نے پر سکون لہجے میں کہا یہ پا کستان کی لو ک مو سیقی کا قبرستان ہے اس میں وہ آڈیو یا ویڈیو ریکارڈ نگز دفن ہیں جو وزارت ثقا فت کی ٹیموں نے ما ہرین کو لیکر بلو چستان، سندھ، پنجاب، خیبر پختونخوا، کشمیر اور گلگت بلتستان کے طول و عرض میں گھوم پھر کر 15سالوں میں جمع کیا تھا ان کی ایڈیٹنگ ہوئی تھی ان کی کا پیاں بنواکر بیرون ملک سفارت خا نوں اور ثقا فتی اداروں کو دینا تھا، دنیا بھر میں ان کے ذریعے ہماری ثقا فت کی ما ر کیٹنگ کر نی تھی میں نے پو چھا پھر کیا ہوا؟ اُس نے سرد آہ بھر تے ہوئے کہا ہم بھو ل گئے، حکومت بھو ل گئے، حکام بالا بھو ل گئے اب یہ مُر دوں کی ہڈیاں ہیں اور میں ان کا مجاور ہوں، سلمان آصف نے یہ بات حیرت، تعجب اور تا سف کے ساتھ ہمیں بتائی مجھے تجسس ہوا پھر میں نے اس قبرستان کی سیر کی میز پر بیٹھ کر کمپیو ٹر پر کا م کرنے والے ساونڈ اینڈ وی ٹی آر انجینئر یو سف ہارون سے ملا واقعہ ان کو سنا یا تو بے ساختہ بو لے وہ یو نیسف کے لو گ تھے آپ کی طرح راستہ بھول کر یہاں آئے تھے کبھی کبھار کوئی بھولا بھٹکا آدمی آہی جا تا ہے ایک اندازے کے مطا بق ملک بھر میں وفاقی اور صوبائی سطح کے ایسے اداروں کی کل تعداد 132ہے جو کسی زما نے میں بڑے طمطراق کے ساتھ بنا ئے گئے تھے، بڑے بلند بانگ دعوں کے ساتھ ان کا افتتاح ہوا تھا پھر ان کو بھلا دیا گیا ایک پرا نی کہا نی ہے کسی ملک کا باد شاہ شکا ر سے واپس آتے ہوئے ایک دریا پر آیا وہ لوگ دریا پر جا کر پا نی پیتے تھے باد شاہ نے اپنے وزیر سے کہا یہاں ایک مٹکا یا گھڑا رکھوا دو لو گ پا نی پئیں گے، وزیر نے اگلے دن تجویز پیش کی ”شاہی گھڑا لب دریا“ کے لئے ایک مشکی، ایک چو کیدار، ایک داروغہ، ایک مُنشی اور چند سپا ہی بھر تی کئے جا ئینگے اس عملے کے رہنے کے لئے مکا نا ت اور دفاتر بنا ئے جا ئینگے باد شاہ نے منظوری دیدی مکا نا ت بن گئے، لو گ بھر تی ہوئے کا م شروع ہوا ”شا ہی گھڑا لب دریا“ نصب کیا گیا چند سال بعد باد شاہ کا انتقال ہوا بیٹا تخت نشین ہوا، پھر چند سال گذر ے ایک دن نیا باد شاہ سیر کو نکلا اُس مقام پر عما رت دیکھی، سستانے کے لئے گھوڑے سے اترا مکان کو دیکھ کر مکینوں سے پو چھا یہ کیا ہے انہوں نے بتا یا کہ ”شا ہی گھڑھا لب دریا“ کا دفتر ہے، باد شا ہ نے کہا شا ہی گھڑا کدھر ہے؟ دفتر کے داروغہ نے عرض کیا گاوں میں پینے کا پا نی نلکوں میں آتا ہے لو گ دریا کے کنا رے نہیں آتے، گھڑا ٹو ٹ گیا باد شاہ نے وزیر سے کہا ان لو گوں کو قلعے میں کا م پر لگا دو اور عما رت کو شاہی گودام میں بدل دو وزیر نے کہا عالی جا ہ حکم کی تعمیل ہو گی اور حکم کی تعمیل ہو ئی اگر باد شاہ سیر کو نہ آتا تو نہ جا نے کب تک شا ہی گھڑا لب در یا کا دفتر یونہی چلتا رہتا، سچی بات یہ ہے کہ ہم اداروں کو بنا نے کے بعد بھو ل جا تے ہیں سول سروس کے سابق افیسر عکسی مفتی نے کتا ب لکھی ہے ”کاغذ کا گھوڑا“ کتاب میں بھو لے بسرے اداروں کی طرف اشارہ کر کے لکھتا ہے کہ وطن عزیز میں اتھارٹی، اکیڈیمی، کمیشن، انسٹیٹیوٹ، کونسل اور دیگر نا موں سے سرکاری ادارے بنا ئے جا تے ہیں ان کے مقا صد بڑے نیک ہو تے ہیں ان کا دستور العمل بہت پیارا ہو تا ہے چند سال گذر نے کے بعد اصل مقصد اور کا م پیچھے رہ جا تا ہے، دفتر میں تنخواہ، الا ونس، پنشن وغیرہ کا ذکر ہو تا ہے کسی کو بھی پتہ نہیں ہوتا کہ یہ دفتر کس لئے بنا یا گیا تھا اگر کوئی یو نیورسٹی منیجمنٹ کے کسی طا لب علم کو اس پر تحقیق کا کا م دیدے تو پی ایچ ڈی کا مقا لہ تیار ہو سکتا ہے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔