وارث….سیدالابرار مغلاندہ

شرجیل اور صایمہ کی شادی کا آٹھواں سال تھا۔اگرچہ یہ شادی والدین کی پسند سے طے پائی تھی لیکن میاں بیوی میں بھی محبت کا مضبوط بندھن قائم ہو چکا تھا ۔سات سالوں میں ا س رشتے سے پانچ بیٹیاں دنیا میں آ چکی تھیں۔ہر بیٹی کی پرورش پر شرجیل کی بیوی صایمہ کی افسردگی میں اضافہ ہوتا رہا ۔بیٹی کے بعد بیٹے کی خواہش تو فطری بات تھی لیکن رشتہ داروں اور پڑوسیوں کے چھبنے والے جملے صایمہ کو ذہنی مریض بنا چکے تھے ۔
کچھ تو صایمہ کے سامنے شرجیل کو دوسری شادی کا مشورہ دیتے اکثر اشاروں کنایوں میں ان کا دل دکھانےمیں کوئی کسر نہیں چھوڑتے ۔ایک مرتبہ ماں کوبیٹے سے یہاں تک کہتے ہوئے سنی” دیکھو بیٹا تم صبح سے لے کر شام تک کاروباری تگ و دو میں مصروف رہتے ہو ۔ماشااللہ تمہاری تجارت بھی کافی ترقی کر چکی ہےاب تم کو ایک وارث بیٹا چاہئیے ورنہ تمہاری یہ محنت رایگاں جائے گی ۔میری بات مانو دوسری شادی کیلئے ہاں کر دو تا کہ تجھے تمارے بڑھاپے کا سہارا اور جائیداد کا وارث میسر آسکے”۔ساس کے الفاط تیر بن کر صایمہ کے دل میں پیوست ہوئے ۔شرجیل نے ماں سے التجا کی “ماں خدارا آیندہ کے لیے ایسی باتیں مت کیجیے جن کی تعمیل میرے لیے نا ممکن ہو ۔” شرجیل کچھ اور کہنا چاہ رہا تھا کہ باورچی خانے سے چایےدان کے زمین پر گرنے کی آواز سنی برآمدے میں آکر کچن کے اندر جھانکا تو دیکھا صایمہ دو ذانو بیٹھ کر آنسو بہا رہی تھی ۔شرجیل کو صایمہ کے پاس جانے کی ہمت بھی نہیں پڑی ۔سیدھا اپنے بیڈروم میں چلا گیا حسرت اور بے بسی کے عالم میں بستر میں پڑا رہا
۔دوسری طرف صایمہ دل ہی دل میں اپنے آپ کو کوستی رہی۔رب سے شکوے کرتی رہی اور آنسوں کو پونجھتی رہی۔صایمہ مستقل سر درد کی مریضہ بن چکی تھی ۔آہستہ آہستہ یاس و افسردگی اس کے چہرے سے عیاں ہو رہی تھی ۔اکثر اپنا غصہ اپنی بیٹیوں پر نکال لیتی
۔شرجیل پر بھی بیزاری کی کیفیت طاری رہتی۔پہلے کی نسبت کاروبار میں ان کی دلچسپی کم پڑ چکی تھی صبح دیر سے دکان پہنچتے اور بے دلی سے گھر کی طرف روانہ ہوتے۔صایمہ کے میکے سے تسلی اور حوصلے کی کمک بہم پہنچائی جا تی ۔دم تعویذ کے نت نئے نسخوں سے ان کی ہمت بندھوائی جاتی۔صایمہ بھی دعاوں کا سہارا لیتی رہی۔شادی کے آٹھویں سال وہ پھر سے امید سے تھیں۔لیکن دل امید سے زیادہ اندیشوں میں گھرا رہتا ۔کیونکہ پچھلے سال اس کی امید کا بھرم ٹوٹ چکا تھا ۔اب تو یہ ان کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ بن چکا تھا ۔یہ سوچ کر وہ ہلکان ہوتی اب بھی اگر بیٹی ہوئی تو شرجیل بھی اس کا ساتھ چھوڑ دے گا آخر وہ کب تک اپنے ماں باپ کی حکم عدولی کرتا رہے گا ۔اسی بے قراری میں نو مہینے گزر گئے۔

خدا کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں ہے اس کی دعا سن لی

گئی۔اس کو چاند جیسے بیٹے سے نوازہ گیا تھا ۔صایمہ تو کیا سب عزیز رشتہ دار خوشی سے پاگل ہو رہے تھے ۔بڑے پیمانے پر سر مد کی پیدائش کو سیلیبریٹ کیا گیا ۔ایک مہینے تک شاندار مہمان داری کی دیگیں پکتی رہیں ۔شرجیل کے چہرے پر بھی نکھار آ گئی ۔وہ پھر سے جوان دکھائی دینے لگا ۔وقت کا دریا غیر محسوس انداز سے بہتا گیا ۔ماں باپ کے پیار اور توجہ کا مرکز بن کر سرمد پچپن سے لڑکپن کی طرف بڑھتا گیا ۔پانچ بہنیں پھونک پھونک کر بھائی کا خیال. رکھتیں۔ان کے آرام اور سہولت کے سامان بہم پہنچاتی رہیں ۔والدین سرمد کو وقت سے پہلے سرمد کو جوان ہوتے دیکھنا چاہتے تھے ۔اس کے ہر شوق کاخیال رکھا جاتا ۔اسکو ملنے والی غذائیت پر مکمل توجہ دی جاتی۔ تھوڑی سی لا پرواہی پر اس کی بہنیں زیر عتاب آتیں۔ لاڈلے سرمد کی معمولی خواہش بھی اگرپوری نہ ہوتی تو وہ سارے گھر کو آسمان پر اٹھالیتا ۔ ضدسرمد کی فطرت ثانیہ بن چکی تھی۔ سرمد کی بہنیں اگر چہ اکلوتے بھائی کے ساتھ بے تحاشہ پیار کرتی تھیں ۔سرمد کے ساتھ والدین کے امتیازی برتاؤ نے ان کو یہ باور کرا دیا تھا کہ بیٹا ہونا ایک پریویلیج ہے اور بیٹی ہونا ایک محرومی ۔بیٹا خاندان کے سر کا تاج ہوتا ہے اور بیٹیوں کا افضل وظیفہ والدین کی اطاعت اور بھائی سے محبت کے اظہار میں ہے۔یوں تو احساس کمتری کا شکار تو سب یو چکی تھیں لیکن عمر میں سر مد سے دو سال اور تین سال بڑی بہنیں حسد بھی کرنے لگی تھیں۔بڑے چاہ کے ساتھ جب بابا سرمد کو گلے لگا لیتا تو چھو ٹی بہں نوشیین للچاتی نظروں سے ان کو دیکھتی اور گہری آہ بھرتی ۔ بیٹیوں کو سرکاری سکولوں میں داخل کرایا گیا تھا لیکن سرمد کو شہر کے سب سے بڑے پرائیویٹ  سکول میں داخلہ دلوایاگیا۔بیٹیاں گھر کے کاموں کے ساتھ پڑھائی بھی کر لیتی لیکن سرمد لاڈلا کھیل ہی کھیل میں وقت گزار تا ۔ایک ہی گھر بیٹیوں اور بیٹے کے لیے الگ ماحول پیش کرتا تھا ۔سرمد نازو نعم میں پل کر جوان ہوا۔بمشکل میٹرک کیا ۔ادنی درجہ کے کالج میں داخلہ لے سکا۔بیٹیاں ماشااللہ تعلیم میں ترقی کرتی گئیں۔دو بیٹیاں یونیورسٹی پہنچ گئیں ۔لیکن سرمد انٹر بھی پاس نہیں کر سکا ۔اویاش دوستوں کی صحبت کا شکار ہوا ۔ماں اور باپ دونوں سے جیب خرچ لیتارہا۔آہستہ آہستہ نشے کا عادی ہوا ۔باپ نے بہت سمجھایا ۔پیار اور دھونس کی ہر ترکیب کو آزمایا پر سرمد کی عادتیں بگڑتی گئیں ۔باپ نے آخر کاروبار کی زمہ داری اس کو حوالہ کیا ۔کیونکہ ان کےاعصاب کمزور ہو چکے تھے اب وہ شوگر اور بلڈ پریشر کا مستقل مریض بن چکاتھا۔اس کا خیال تھاشاید کاروبار کی زمہ داری سرمد کے کندھوں پر پڑجایے تو سدھر جایے گا ۔لیکن دیکھتے ہی دیکھتے سر مد عیاشی کی آگ میں باپ کے عمر بھر کی کمائی کو بھسم کر ڈا لا ۔باپ سے یہ سب کچھ برداشت نہیں ہو سکا فشار خون چڑھ گیا تو فا لج کا حملہ ہوا بیٹے کو دور رہنے کو کہہ دیاگیا ویسے بھی سرمد ہفتوں میں ایک بار گھرآتا تھا اپنی اکلوتے بیٹے کو نشے کا عادی دیکھ کر والدیں کی امیدوں پر تاریکی چھا گئی ماں کا کلیجہ جل گیا باپ کا سرمایہ لٹ گیا ۔ کیونکہ ان کے آرزوں کا چراغ نگا ہوں کے سامنے بجھ رہا تھا فالج ذدہ شرجیل اب مکمل طور پر بیوی اور بیٹیوں کے رحم و کر م پر تھا۔۔ دو بڑی بیٹیاں جو پرائیویٹ  کالج میں پڑھاتی تھیں نےباپ کا ہر طرح سے علاج کر وایا۔لیکن شرجیل کو معذوری سے کہیں چھٹکارا نہیں مل سکا۔تین سال تک معذور باپ کی پانچوں بیٹیوں نے ہر ممکن آسائش دینے کی کوشش کی ۔دل و جان سے ان کی خدمت کے لئے ہر وقت حاضر رہتیں۔صبح شام باپ کو نہلاتیں کھلاتیں پلاتیں دم درود پڑھ کر پھونک مارتیں۔گڑگڑا کر الله سے ان کی صحت یابی کی دعا ییں مانگتں۔اور ماں کا ڈھارس بند ھواتین۔ صایمہ کی صحت بھی اپنے شوہر کی معذوری پر بگڑ چکی تھیں ۔آخر وہ کیسے برداشت کر سکتی تھی کہ اس کا جیون ساتھی اس کی نظروں کے سامنے بے بسی کے عالم میں پڑا رہے۔دوسری طرف بیٹے کا غم پہاڑ بن کر اس پر گر چکا تھا کیونکہ اب سرمد کو بڑی مقدار میں منشیات فروخت کر تے ہوئے پکڑا گیا تھا جس کی سزا کم سے کم پانچ سال ہو سکتی تھی ۔مایوسی کی اس تاریکی میں بیٹیاں امید کی کرن بن کر اس کے سامنے کھڑی ہوتیں اور جینے کا سہارا دیتیں۔صایمہ کو بیٹیوں کی پیدایش پر کڑنا اور افسردہ ہونا تلخ یاد بن کر اس کی یاداشت کے دریچوں سے نظر آ تے۔وہ اپنی نا شکری پر نالاں ہوتی اور الله سے معافی مانگتی۔صایمہ اور اس کی بیٹیاں اب حالات سے سمجھو تہ کر چکی تھیں۔صرف دو چھوٹی بیٹیاں اب تعلیم کے مرحلے سے گزر رہی تھیں۔تین سال کی انتہائی نگہداشت کے باوجود آخر کار شرجیل نے جان جان آفرین کو سپرد کیا ۔باپ کی دن رات خدمت کے باوجود بیٹیاں اس بات پر ماتم کر رہی تھیں کہ کاش ان کے والد ان کے ساتھ مذید کچھ سالوں کے لیے زندہ رہتا ۔ حسرتوں میں ڈوبی ماں اب دو آرزوں کے بل پر سانسوں کا قرض اتار رہی تھی وہ صبح شام رب سے یہی دعاییں مانگتی کہ اس کی بیٹیوں کی شادی اچھی جگہ طے پا جایے اور سرمد سدھر کر گھر واپس آ جایے۔۔ دوسری طرف سرمد جیل کی کوٹھلی میں پڑا سزا کے دن گن رہا تھا جس میں لمحے گھنٹوں اوردن سالوں کے حساب سے گذر رہے تھےکیونکہ اس کی رہائی کے لیےمذید دو سال باقی تھے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔