پس و پیش … کھیل ہی کھیل میں… الحاج محمد خان 

کھلاڑی  کو کھیل  اور کھیل کو کھلاڑی سے جانا جاتا ہے۔ ہر کھلاڑی اپنا کھیل کھیلنے کی کوشش میں ہوتا ہے۔اور کھیل کھیل کے میدان میں ہو جاتا ہے اور دیکھا جاتا ہے۔ یہ بھی ، بعض اوقات، دیکھنے میں آجاتا ہے کہ کھیل کا میدان اپنی  نوعیت سے ہٹ کر استعارتی جنگ کا میدان بن جاتی ہے۔
جب کھیل  کھیل  سے نکل کر استعارتی جنگ کی شکل اختیار کر لیتی ہے تو یہ جنگی کھیل ہو جاتی ہے جس میں مقابلہ ، کارکردگی، تعاقب، برداشت  ، جیت اور ہار  والی کھیل ضد، اختلاف ، انتقام ، عدم برداشت ، زندگی اور موت کا معاملہ بن جاتی ہے جس میں ہر کھلاڑی اس سوچ  اور ذہن سے حصہ لیتا ہے۔
کیا بعض کھلاڑی اب باد مخالف  کی وجہ سے مجبوراً جنگی کھیل کھیل لیتے ہیں ؟ یہ اُن کے پاس ایک حیلہ ہے یا مجبوری وہ وقت ہی بتائے گا۔ بے شک ہر کھیل میں اُس کھلاڑی یا ایکٹر کو  دوشی ٹھہرایا جاتا ہے جو کھیل کی  نوعیت بدل دیتی ہے۔ یعنی  کھیل کو کھیل سے ہٹ کر کھیل لیتی ہے جو اس کھیل کے اقدار ، روایات  ، اور اس کے ضوابط کے خلاف ہوتے ہیں۔
صدیوں سے چترال میں مقیم لوگوں کا  ایک مقامی کھیل ، پولو ، جسے انگریزی میں ‘فری پولو’ کہا جاتا ہے۔ اس کھیل کو ‘فری’ کے معانی کے تناظر میں لیا جائے  تو بظاہر اس میں کوئی اقدار اور ضوابط نہیں ہوتے  لیکن یہ اسطرح ہرگز نہیں۔ چترال میں کھیلا جانے والا یہ کھیل  ‘استورغاڑ ‘کے اپنے رواج ، اقدار اور ضوابط ہوتے ہیں جس کے مطابق کھلاڑی یہ کھیل کھیلتے ہیں۔  دلچسپ امر اس کھیل میں یہ ہوتی ہے کہ اس میں شائقین اور عام تماشائی  گراونڈ سے باہر جج ہوتے ہیں اور کھلاڑی کے کھیل کے حوالے سے رائے  بناتے اور دیتے ہیں۔
حالات و واقعات کو سامنے رکھ کر اس وقت کھیل، جسکی طرف میرا اشارہ ہے،  کو دیکھا جائے تو اس میں وہ چاشنی اور مزہ نہیں رہا تو پہلے ہوتا تھا۔ حالات جو بھی ہوں اور سنگین کیوں نہ ہوں کھلاڑی ہر وقت اس تگ و دو میں ہوتا تھا کہ کسطرح اپنا کھیل کھیل سکے جو اسکی پرفارمنس ہوتی تھی، اور اسکی بنیاد پر آنیوالے کھیل میں اپنا جگہ بنا سکے۔ کھلاڑی، شائقین، تماشائی، ماہرین اور تجزیہ کاروں کا خیال  یہ ہے کہ کھیل میں وہ اقدار ، روایات  اور ضوابط نہ  صرف ہمارے ملک بلکہ  دوسرے ممالک میں ہیں ، اُن پر عمل ہوتا ہے، اور اُنہیں کھیل کے دوران،  اور بعد میں،  کھلاڑی اور ٹیم لیڈر کوعملی شکل دینے اور دوبارہ زندہ کرنا ناگزیر  ہوچُکاہے۔ اور یہ سب کچھ وقت کے ساتھ کھیل ہی کھیل میں ہوسکتا ہے اور کیا جاسکتا ہے۔
اب یہ قارئیں کا منشاء ہے کہ کھیل ہی کھیل میں  وہ اسےکونسا کھیل لینا پسند کرتے ہیں یہ اُن کی مرضی ہے۔  چاہے اسے وہ سیاسی کھیل کا نام دیں یا چترال میں کھیلا جانے والا پولو  یا اور کوئی کھیل  جو ملک  اور باہر دُنیا میں کھیلا جاتا ہے۔
اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔