دھڑکنوں کی زبان…” صبح آزادی کا افسردہ پیغام“…محمد جاوید حیات

پورے ملک میں یوم آزادی منانے کی تیاریاں زور و شور سےجاری ہیں ۔بچے بوڑھے جوان ذمہ دار سب خوش ہیں پر جوش ہیں ۔۔بازاروں میں آزادی کارڈ بیجز پھریرے جھنڈیاں بھیجے جا رہے ہیں وطن کے خوبصورت نغمےالاپے جا رہے ہیں ۔خاص کر تعلیمی اداروں میں تو جوش جوبن پر ہے بچے مختلف رنگا رنگ پروگراموں کی تیاری میں مصروف ہیں اساتذہ ان کی مدد کر رہے ہیں ۔مجھے چترال کے ایک دور افتادہ تحصیل تورکھو کے ایک سکول ہاٸر سکینڈری سکول شاگرام جانے کا اتفاق ہوا ۔جس دوست (آصف)سے ملنا تھا وہ سکول کے بڑے ہال میں بچوں کو لے کر یوم آزادی کی تقریبات کی تیاری میں مصروف تھا ۔مجھے ہال لے جایا گیا ۔ایک خاکے کی رہرسل ہو رہی تھی مجھے بھی بیٹھایا گیا ۔سٹیج سجایا گیا ایک خالی کرسی رکھی گٸ ۔ساتھ ایک کنارے پر چھوٹی سی میز اور ساتھ ایک کرسی رکھی گٸ ۔۔اس کے ساتھ ساٸڈ پہ تین چار کرسیاں رکھی گٸیں ۔ان پر ایسے کردار آکر بیٹھے کہ لگتا تھا کہ یہ ملک کے اشرافیے ہیں چال ڈھال اور ناز نخروں اور ساتھ عینک دودو سمارٹ فونوں سے لگتا تھا کہ یہ بڑے بڑے سرمایا دار اور مافیۓ ہیں ۔میز کے ساتھ کچھ فاصلے پر ایک خالی کرسی رکھی گٸ ۔اور اس کے ساتھ ساٸڈ پہ کچھ کردار کھڑے کیۓ گۓ ۔یہ مزدور تھے غریب تھے کسی کے کندھے پر پھاوڑا تھا کسی کے ہاتھ میں سوکھی روٹی کا ٹکڑا تھا کوٸی افسردہ تھا ۔پردے کے پیچھے سے ایک صاحب کو دو محافظوں نے لاکے خالی کرسی پر بیٹھا دیا عدالت لگی میز کے ساتھ کرسی پر جو بندہ بیٹھا تھا اس نے فاٸل کی ورق گردانی کی اور گویا ہوۓ ۔۔۔یہ فاضل عدالت فیصلہ کرتی ہے کہ صاحب کرسی وزیر اعظم نہیں بن سکتا اس کو ٹھیک طرح سے انگریزی بھی نہیں آتی ۔۔پھر اس کے لباس مشرقی یعنی شلوار قمیص ہیں لہذا اس کو کرسی سے ہٹایا جاۓ ۔۔ایک گارڈ دوسرے کی طرف دیکھتا ہے وہ کہتا ہے فاضل عدالت کا حکم مانو ہثاٶ اسے ۔۔۔
اس کو پردے کے پیچھے لے جاتے ہیں کردار دوسرے بندے کو لا کر بیٹھاتے ہیں ۔عدالت فیصلہ سناتی ہے ۔۔فاضل عدالت نے صاحب کرسی سے متعلق ساری حقاٸق جمع کی پتہ چلا کہ ان کا کوٸی ذاتی کاروبار کارخانے بیرون ملک جاٸیدادیں اور دھندے نہیں ہیں لہذا وہ وزیر اعظمی کے لۓ نا اہل ہے اس کو کرسی سے ہٹایا جاۓ ۔وزیر اعظم کو پردے کے پیچھے لے جایا جاتا یے ۔اتنے میں صبح آزادی نمودار ہوتی ہے اس کے ساتھ ڈاکٹر قدیر خان بھی ہیں ۔سٹیج پر موجود معززیں کھڑے ہوتے ہیں ۔۔لیکن وہ ان کی طرف کوٸی توجہ نہیں دیتی ۔دوسری طرف کھڑے کرداروں کے سروں پہ بوسہ دیتی ہے۔ قدیر خان پھاوڑے والے کا ہاتھ چومتا ہے اتنے میں صبح آزادی گویا ہوتی ہے ۔۔۔
دنیاٸی ہوس لالچ خود عرضی اور دھند دولت کےپجاریو ۔۔ملک و قوم کی تعمیر ترقی اور حفاظت سے بے فکر کرداروإ۔۔۔خدمت خلق سے لاپرواہ اور پاک سر زمین کے لۓ اللہ کا شکر ادا نہ کرنے والے غافلو إ۔۔۔آزادی کی نعمتوں سے بے خبر بے حوصلہ لوگو إ ۔۔۔آزادی کا سورج کسی کرسی ،کسی کارخانے ،کسی محل پر نہیں اترتا یہ محبت احترام اور غیرت پراترتا ہے ۔یہ اس خاک کے ساتھ وفا کرنے والوں کے سروں پر اترتا ہے یہ ان محنت کشوں پر اترتا ہے جو دن رات اس کی تعمیر میں لگے ہوۓ ہیں ۔یہ ان بہادروں پر اترتا ہے جو اس کی حفاظت کی خاطر اپنا خون اور اپنی وفا پیش کرتے ہیں۔یہ انصاف کے ان عالم برداروں پہ چمکتا ہے جو عدل کی معراج بن جاتے ہیں ۔یہ ان حکمرانوں پراترتا ہے جن کی منزل قوم و ملک کی ترقی ہوتی ہے جن کا کوٸی ذاتی عرض مقصد نہیں ہوتا ۔وہ اقتدار کو امانت ،حکمرانی کو سیادت اور سیاست کو خدمت تصور کرتے ہیں۔۔آزادی ایک نعمت ہے تمہیں اللہ کی طرف سے ملی تم پچھتر سالوں سے اس نعمت کی قدر سےعاری رہے ۔تم آج بھی قرضوں پر جیتے ہو تم آج بھی دوسروں کے اشاروں پہ چلتے ہو تم آج بھی سر اٹھا کے چلنے سے معذور ہو ۔۔میں صبح آزادی ہوں ۔۔۔قدیر خان سر جھکاۓ کھڑے تھے ان کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے ۔۔اشرافیہ شرمندہ کھڑے تھے ۔۔صبح آزای منظر کے پیچھے چلی گٸ پردا گرا ۔۔تالیاں بجیں ۔۔۔میں ہال سے باہر آیا ۔۔ہال میں رہرسل جاری تھی مگر ان بچوں کی سوچ فکر اداکاری مستقبل کی سوچ اور اپنے ملک خداداد کے لیۓ ان کے ذہنوں میں موجود خاکے پر مسلسل سوچتا رہا ۔۔یہ سوال میرے ذہن کو جھنجھوڑتا رہا کہ کیا میں آزادی منانے کے قابل ہوں؟؟؟ ۔۔۔کیا میں نے اس پاک سر زمین کے ساتھ کچھ اچھا کیا ؟کیا مجھے اس کا باشندہ کہلانے کا حق ہے؟ ۔اس سے عمر میں چھوٹے اور وساٸل میں کم لوگ اشیٸن ٹاٸگر بن گۓ ۔اللہ ہماری حفاظت فرماۓ ۔۔۔۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔