
توانائی کے بحران نے صنعتی طور پر ترقی یافتہ ممالک کی معیشت کا بھی پٹھہ بٹھا دیا ہے۔اور انہوں نے توانائی بچانے کے طریقوں پر غور شروع کیا ہے۔حالیہ رپورٹ کے مطابق پڑوسی ملک بھارت نے 2030 تک 80 فیصد گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کو پٹرول جے بجائے بجلی سے چلانے کی منصوبہ بندی کی ہے جس سے ملک کو سالانہ 60 ارب ڈالر تیل کی درآمد کی مد میں بچت ہوگی۔ دارالحکومت دلی میں جگہ جگہ برقی گاڑیوں کے لئے چارجنگ پوائنٹس قائم کئے گئے ہیں جہاں موٹر سائیکلوں کو تین روپے اور گاڑیوں کو دس روپے میں چارج کیا جاتا ہے۔جو قومیں حالات و واقعات کے مطابق ٹھوس اور جامع منصوبہ بندی کرتی ہیں اور پھر خلوص نیت کے ساتھ اس پر عمل کرتی ہیں ان قوموں کو شاہراہ ترقی میں آگے بڑھنے سے دنیا کی کوئی طاقت نہیں روک سکتی۔عوامی جمہوریہ چین کی مثال ہمارے سامنے ہے۔چیئرمین ماوزے تنگ کی سربراہی میں چینی قیادت نے اپنے وسائل پر انحصار کرنے اور سائنس و ٹیکنالوجی کو فروغ دینے کی منصوبہ بندی کی۔پچاس سال سے بھی کم عرصے میں چین نےدنیا کی عظیم معاشی طاقت بن کر دکھایا۔چین ہمارا سٹرٹیجک ، معاشی اور تجارتی حلیف ہے مگر ہم نے ان کے تجربات سے کچھ نہیں سیکھا۔ بھارت ہمارا ازلی حریف ہے اس سے ہم دفاعی ، سیاسی اور سفارتی سطح پر مسابقت کرتے ہیں لیکن جن شعبوں میں انہوں نے حیرت انگیز ترقی کی ہے ان شعبوں میں ہم مسابقت کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔بھارت میں حکمرانوں سے لے کر افسروں تک سب اپنے ملک میں تیار کردہ ایک ہزار سی سی کی گاڑیاں استعمال کرتے ہیں ہمارے حکمران اور افسران اپنے ملک کی مصنوعات استعمال کرنے میں شرم محسوس کرتے ہیں۔اگر ہم بھی گاڑیوں کے استعمال میں کفایت برتیں، اپنے ملک میں تیار ہونے والی گاڑیاں اور دیگر مصنوعات استعمال کریں۔ برقی گاڑیوں کے استعمال کو فروع دیں، سرکاری فیول کو ختم کریں تو نہ صرف اربوں ڈالر کی بچت ہوسکتی ہے اور قومی نعیشت کو سہارا مل سکتا ہے۔بلکہ اپنی مصنوعات کا معیار بھی بہتر ہوگا۔تجارت کوفروغ ملے گا اور ہم چند سالوں کے اندر قرضہ لینے کے بجائے قرضہ دینے والے ملکوں کی صف میں شامل ہوسکتے ہیں مثبت مسابقت کو فروغ دینے کے لئے پالیسیاں بنانی ہوں گی اور بالائی طبقات کو کفایت شعاری کے لئے چود کو رول ماڈل بنانا ہوگا۔ اگر ہم نے اپنا طرز عمل نہیں بدلا۔تو قوم کی زندگی میں تبدیلی لانے کےسارے دعوے کھوکھلے ثابت ہوں گے۔
