پہلے دستیابی نہ تھی اب توفیق ندارد ، ناشکری کر رہے ہیں…

(گزارش ہے دو منٹ وقت نکالیں)
سوشل میڈیا ، عام نشست و بات چیت میں عموماً ہر ایک کو یہ کہتے ہوئے سنتا ہوں ہمارے لئے حکومت نے کیا کیا، سب کھا گئے، امریکہ کے غلاموں کی بھی کوئی زندگی ہے وغیرہ وغیرہ۔
انسانی لاشعور میں جب بے ہنگام کروٹیں لینے والے خیالات پیدا ہو تو ان کو مناسب لفظوں کی خلعت پہنانے کی کوشش ہر انسان کی بنیادی زمہ داری ہے۔
پشاور کی طرف دوران سفر ایک بزرگ شخصیت میرے ہم سفر بن گئے ہاتھ میں تسبیح، آنکھوں میں چشمہ لگائے بزرگ مگر چست و چالاک اور پہنچے ہوئے معلوم ہو رہے تھے باتوں میں پختگی محسوس ہورہی تھی۔ سوچا کیوں نہ اس بزرگ سے کچھ سن لو بس یہ سوچ کر حال و احوال دریافت کی اور پوچھا میرے بزرگ کیا آپ نے کبھی پشاور سے چترال پیدل سفر کیا ہے بزرگ تھوڑی دیر مجھے دیکھتا رہا پھر لمبی آہ بھری اور کہا میرے بچے کئی دفعہ، بات بڑھاتے ہوئے کہا کہ اب یہ نوجوان ان بہترین آرام دہ گاڑی میں سفر کرکے تھک جاتے ہیں مگر پیدل سفر کے باوجود ہمیں تھکاوٹ نام کا پتہ نہیں ہوتا تھا چترال سے پیدل ملاکنڈ پہنچنے پر ہمارے اوپر اسپرے کیا جاتا اور وہاں سے سرکاری بس میں بٹھا کر ہمیں لے جاتے تھے۔ کھانے میں اچھا کھانا اور پہننے کو اچھے جوتے نہیں ملتے تھے۔ ہوٹل کے بسترے اور چارپائی اول ملتے نہیں اگر ملتے تو لیٹنے کا دل نہیں کرتا، اچھی تعلیم تک رسائی نہ تھی اور تعلیم کی اہمیت کا اندازہ چند لوگوں کو تھا باقی پیٹ کا غم رکھتے تھے۔۔
اس بزرگ کی باتین سن کر مجھے ایسا لگا جیسے ہم جنت میں زندگی گزار رہے ہیں کیسے نا شکر لوگ ہیں کچھ سالوں کی فرق اور ہمارے حالات دیکھئے اور گزرے ہوئے لوگوں کی زندگیوں کو دیکھے جن میں لاکھوں لوگ بجلی ،گاڑی، ٹیلی فون و ٹیلی ویژن تک نہیں دیکھ سکے پہنے کو جوتے نہیں ملے کھانے کو اچھی غذا نہیں ملی۔۔۔۔

اب دیکھئے ہم کہتے ہیں ہمارے لئے کیا گیا ہمیں اندھیرے میں رکھا گیا تو آپ لوگوں کو بتاتا چلوں کہ ان تیس سالوں کے اندر ہماری زندگیاں کس طرح بدل گئی اور ہمارے لئے کیا گیا۔۔

1. اچھی تعلیم چترال کے ہر کونے میں میسر ہے پہلے گورنمنٹ سکولز تھے بعد میں حکومت کی طرف سے این او سی مہیا کرکے بہترین پرائیویٹ سکولوں نے کام شروع کئے، نتیجہ آپ کے سامنے ہے
2.بہترین تعلیم کے بعد اعلیٰ عہدوں پر چترال سے تعلق رکھنے والے شخصیات براجمان ہیں فوج ہو یا بیوروکریسی میڈیکل ہو انجینرنگ، لیکچرز ہو یا اساتذہ، بینک منیجرز ہو یا نرس منیجر سب جگہوں پر چترال سے تعلق رکھنے والے افراد براجمان ہیں
3. چترال میں ہر شخص کے پاس گاڑی ہے اگر نہیں تو موٹر سائیکل سے کوئی خالی نہیں ، اب پیدل چلنے کے لئے نہ کوئی تیار ہے اور نہ ہمت ہوگی۔
4. ہر شخص نے شاندار عمارتین بنوائی ہوئی ہیں آر سی سی زیادہ اگر نہیں تو بیغیر شجائی شیٹ کے کسی کا گھر نہیں ہے اینٹوں کا تصور ختم ہوچکا ہے
5. گورنمنٹ ملازم، اچھے بزنس میں اور ٹھکیدار سب چترال سے ہیں
6. ہر شخص کے گھر تک تارکول روڈ، گلی محلے اور نالے پکے تک ہو چکے ہیں
7. لواری ٹنل جس کی وجہ سے چار مہینے کٹ آف رہتے نہ صرف کٹ آف بلکہ اسی لواری نے ہزاروں زندگیاں نگل چکی ہیں آج سال بارہ مہینے مزے سے سفر کرتے ہیں آسانیاں پیدا کی گئی
8. ٹیلی ویژن ، ٹیلی فون ،ٹچ موبائل ، انٹرنیٹ کی دستیابی نے زندگیاں بدل دی اور ہم گھر بیٹھے بین الاقوامی معاملات نہ صرف جانچ لیتے ہیں بلکہ اچھا خاصا کما بھی لیتے ہیں۔۔
9. علاج و معالجے میں جدیدیت آگئی آسانیاں پیدا ہوگئی
10. ہر شخص 5 ہزار سے کم کا سوٹ نہیں پہنتا، چالیس ہزار سے کم کا موبائل نہیں رکھتا، پاکٹ منی کے بے غیر بچے سکول نہیں جاتے، دولت کی کمی نہیں ، آسانیاں بے تحاشہ ہیں فرق صرف اتنا ہے پہلے دستیابی نہ تھی اور اب توفیق ندارد،

ہر شخص جو یہ سوچتا ہے میرے لئے کیا کیا، سب سے پہلے اپنے آپ سے سوال کریں آپ نے خود کے لئے کیا کیا؟ اپنے گھر والوں ،اہل و غیال اور کمیونٹی کے لئے آپ کے کیا خدمات ہیں یہ صرف ناشکری ہے اور اس ناشکری کا نتیجہ دیکھے ہر طرف آفتوں ،مصیبتوں میں گر چکے ہیں کبھی سڑک دریا برد ہوتا ہے کبھی بجلی نہیں ہوتی کبھی راشن ختم ہونے کا خوف ،مہنگائی آسماں کو چھو رہی ہے قحط و خشک سالی کا خطرہ اور بہت کچھ یہ صرف ناشکری کا نتیجہ ہے اور کچھ نہیں

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔