دادبیداد۔۔۔ایک اچھی مثال۔۔۔۔ڈاکٹرعنایت اللہ فیضی

ایک اچھی مثال ہے بہت دور کی نہیں مگر قریب کی بھی نہیں اچھی بات یہ ہے ہمارے اپنے زمانے کی بلکہ موجودہ وبازدہ اور آفت زدہ دنوں کی مثال ہے قرضوں کے بوجھ تلے دبے،سود درسود کی ادائیگی میں پھنسے اور مہنگاہی کے تالاب میں ڈوبے ہوئے لوگوں میں مثال قائم کرنے والا ایک آدمی نمودار ہوا ہے،ذرائع ابلاغ میں خبر آئی ہے کہ پنجاب کے وزیراعلیٰ چوہدری پرویز الہیٰ کی کابینہ میں محکمہ مال کے وزیرنوابزادہ منصور احمدخان نے صوبائی وزیرکی حیثیت سے تنخواہ،الاونس،پروٹوکول اور سرکاری مراعات نہ لینے کااعلان کیا ہے انہوں نے پنجاب کے چیف سکرٹری کے نام ایک مراسلے میں استدعا کی ہے کہ ملک مالی بحران کا شکار ہے،ہمارا صوبہ مالی بحران کے ساتھ ساتھ مختلف آفتوں کی زدمیں ہے عوام کو مہنگائی کاسامنا ہے،صوبے کی کئی سرکاری یونیورسٹیاں ایسی ہیں جو ملازمین کو تنخواہیں نہیں دے سکتیں،کئی ہسپتال ایسے ہیں جہاں جان بچانے والی ادویات کی فراہمی تعطل کا شکار ہے ایسے حالات میں مجھے زیب نہیں دیتا کہ میں صوبائی وزیرکی حیثیت سے سرکاری مراعات حاصل کروں اس لئے میرے تمام مراعات سرکارکے خزانے میں جمع کئے جائیں۔مجھے گاڑی،پیٹرول،ٹیلیفون،گیس،پروٹوکول،دفتر،سیکیورٹی گارڈوغیرہ نہ دی جائے۔جس طرح دستور ہے ذرائع ابلاغ میں یہ خبر ایک دن کے لئے آئی اگلے دن اس کو بھلادیا گیا حالانکہ بُری خبریں ہفتوں اور مہینوں تک زیر بحث رہتی ہیں ہونا یہ چاہئیے کہ بری خبروں کو بھلادینا چاہئیے اچھی خبروں کو زیر بحث لاناچاہیئے،تھوڑی محنت اور تحقیق سے معلو م ہوا کہ نوابزادہ منصور احمد خان کا تعلق مظفرگڑھ سے ہے جو جنوبی پنجاب کا ضلع ہے آپکے والد گرامی نوابزادہ نصر اللہ خان بہت وضع دار سیاستدان تھے اپنی پارٹی کانام انہوں نے پاکستان جمہوری پارٹی رکھا تھا اس پارٹی کے پرچم تلے آپ کئی سالوں تک پاکستان کی سیاست پر چھایے رہے ہر آمر کے خلاف آپ نے آواز اُٹھائی،ہرجابر کے جبر کا مقابلہ کیا جب بھی ضرورت پڑی آپ نے اپوزیشن کو متحد کرکے نیا اتحاد بنایا۔1962اور1973کے دونوں دساتیر کی تیاری میں آپ نے حصہ لیا،آپ فنون لطیفہ سے بھی شغف رکھتے تھے۔آپ کا یہ شعر زبان زدعام ہوا:۔
کب اشک بہانے سے کٹی ہے شب ہجران۔۔۔۔کب کوئی بلاصرف دعاووں سے ٹلی ہے
نوابزادہ منصور احمد خان نے پنجاب کے وزیرمال کی حیثیت سے ماہانہ ڈیڑھ کروڑ روپے کی مراعات سے دست بردار ہونے کا اعلان کرکے بہت بڑا قدم اُٹھایا ہے اور ایسا قدم صرف اس خانوادے کا چشم وچراغ ہی اُٹھا سکتا ہے جس خانوادے کے سربراہ نے ایک بار کہا تھا:۔
غارت گری اہل ستم بھی کوئی دیکھے۔۔۔۔چمن میں کوئی پھول نہ غنچہ نہ کلی ہے۔
اس وقت وطن عزیز مالی،انتظامی،سیاسی اور سفارتی بحرانوں سے گذررہا ہے،چاروں طرف سے آفات اور مصائب نے ملک کو گھیرا ہوا ہے،ملک کے چارصوبوں میں سے3میں تحریک انصاف کی اور ایک میں پیپلزپارٹی کی حکومت ہے،وفاق میں مسلم لیگ نون برسراقتدار ہے آزادکشمیر اور گلگت بلتستان میں تحریک انصاف کی حکمرانی ہے اگرساری پارٹیاں اس نیک کام میں ایک دوسرے کا مقابلہ کریں تو ممکن ہے کہ وزیروں کی تعداد نصف رہ جائے،ممکن ہے سو،ڈیڑھ وزراء نوابزادہ منصور احمد کی مثال کو سامنے رکھتے ہوئے مراعات سے دست بردار ہوجائیں،اگر ایسا ہوا توچند مہینوں میں پاکستا ن سارے بحرانوں سے نکل آئے گا ورنہ اُمید کی کوئی کرن نظر نہیں آتی:۔
اک برق بلاکوندگئی سارے چمن پر۔۔۔تم خوش کہ میری شاخ نشیمن ہی جلی ہے

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔