وزیراعلیٰ محمود خان کی طرف سے عوامی مسائل کے حل اور شکایات کے فوری ازالے کے لئے آن لائن کچہری کا دوسرا سیشن منعقد

پشاور(چترال ایکسپریس)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان کی طرف سے عوامی مسائل کے حل اور شکایات کے فوری ازالے کے لئے آن لائن کچہری کا دوسرا سیشن جمعہ کے روز منعقد ہوا۔ ویڈیو لنک کے ذریعے منعقدہ اس کچہری میں بٹگرام کے عوام نے اپنے مسائل اور شکایات سے وزیراعلیٰ کو آگاہ کیا ۔ وزیراعلیٰ نے ان مسائل کے فوری حل اور شکایات کے ازالے کے لئے موقع پر ہی متعلقہ حکام کو احکامات جاری کیے۔ ایڈیشنل چیف سیکرٹری شہاب علی شاہ اور سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو ذاکر حسین آفریدی کے علاوہ متعلقہ محکموں کے انتظامی سیکرٹریز اور دیگر اعلیٰ حکام بھی آن لائن کچہری میں موجود تھے جبکہ متعلقہ ڈویژنل کمشنر، ڈپٹی کمشنر اور لائن ڈیپارٹمنٹس کے متعلقہ افسران نے بذریعہ ویڈیو لنک کچہری میں شرکت کی۔وزیراعلیٰ نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آن لائن کچہری کا انعقاد عوامی مسائل کے حل کی ایک کاوش ہے جو آئندہ بھی جاری رہے گی،صوبے کے تمام اضلاع کے لئے الگ الگ کچہریاں منعقد کی جائیں گی۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ہماری حکومت عوامی حکومت ہے، عوام کے ساتھ روابط رکھنا اور ان کے مسائل حل کرنا ہمارے لیڈر عمران خان کا وژن ہے۔ ضلع بٹگرام کے لئے ترقیاتی حکمت عملی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے محمود خان نے کہا کہ گزشتہ چار سالوں کے دوران ضلع بٹگرام میں تقریباً دو ارب کے مختلف ترقیاتی منصوبے مکمل کئے گئے ہیں جبکہ 5.7 ارب روپے کے مختلف ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری ہے۔رواں بجٹ میں بھی ضلع بٹگرام کے لئے دو ارب روپے مالیت کے ترقیاتی منصوبے رکھے گئے ہیں۔ علاوہ ازیں ڈسٹرکٹ ڈیویلپمنٹ پلان کے تحت بٹگرام کے لئے ڈیڑھ ارب روپے کے منصوبے رکھے گئے ہیں جبکہ بٹگرام میں ہزارہ یونیورسٹی کیمپس کے قیام کے سلسلے میں زمین کی خریداری کے لئے 50 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ تحصیل الائی کو ضلع کا درجہ دینے کا جو اعلان کیا تھا اسے ضرور پورا کیا جائے گا، اس مقصد کے لئے ہوم ورک مکمل کرلیا گیا ہے اور اس سلسلے میں آلائی کے عوام کو بہت جلد خوشخبری ملے گی۔ مزید برآں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ہزارہ اور ملاکنڈ کے بعض اضلاع پر مشتمل زون 6 کے قیام کے لئے کابینہ کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، ایک مہینے میں زون 6 کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔ ڈی ایچ کیو ہسپتال بٹگرام میں صحت کارڈ اسکیم سے متعلق شہری کی شکایت پر وزیر اعلیٰ نے سیکرٹری صحت کو 21 دنوں میں انکوائری کرکے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ۔ آلائی میں جنگلات کی غیر قانونی کٹائی پر وزیر اعلیٰ نے سیکرٹری جنگلات کو تین ہفتوں میں انکوائری رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ درختوں کی غیر قانونی کٹائی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور ملوث عناصر کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔ اسی طرح صفائی ستھرائی سے متعلق شکایت پر و زیر اعلیٰ نے ڈپٹی کمشنر بٹگرام کو شہری علاقوں میں صفائی مہم شروع کرنے کی ہدایت کی اور حکام پر واضح کیا کہ ایک مہینے میں صفائی کا کام مکمل کرکے رپورٹ پیش کی جائے۔ محمود خان نے سرکاری ٹھیکوں میں مبینہ بدعنوانی کی شکایت پر کمشنر ہزارہ کو 21 دنوں میں انکوائری رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔بعض سرکاری سکولوں میں اساتذہ کی کمی کی شکایات پر وزیر اعلیٰ نے سیکرٹری تعلیم کو ان سکولوں میں پی ٹی سی فنڈز کے تحت دو ہفتوں کے اندر اساتذہ بھرتی کرنے جبکہ ان سکولوں میں اساتذہ کی کمی کا مسئلہ مستقل بنیادوں پر حل کرنے کے لئے ایس این ایز منظور کروانے کی ہدایت کی ہے۔ ٹیلی میڈیسن پراجیکٹ کی بندش سے متعلق شکایت پر وزیر اعلیٰ نے محکمہ صحت اور منصوبہ بندی سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے کہا کہ علاقے کے عوام کے لئے فائدہ مند ہونے کی صورت میں یہ پراجیکٹ دوبارہ شروع کیا جائے گا۔ انہوں نے جیل خانہ جات میں بھرتیوں کے عمل میں میرٹ کی مبینہ خلاف ورزی کی شکایت پر کمشنر ہزارہ کو انکوائری رپورٹ پیش کرنے جبکہ بٹگرام کے بعض علاقوں میں طبی مراکز کی اپگریڈیشن کے مطالبے پر محکمہ صحت کے حکام کو وزٹ کرکے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ نے عوامی مطالبے پر ضلع بٹگرام میں پبلک لائبریری جبکہ یونین کونسل پائمال شریف میں گرلز مڈل سکول کے قیام کا اعلان کیا۔ انہوں نے بعض علاقوں میں پینے کے پانی کے مسائل کی نشاندہی پر محکمہ آبنوشی کو ان علاقوں میں ٹیوب ویلز یا گریویٹی واٹر سپلائی سکیم کے لئے ضروری اقدامات کی ہدایت کی ہے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔