وادی شیشی کوہ کے کئی مقامات پر سیلاب نے تباہی مچادی ایک خاتون سمیت پانچ افراد ہلاک دو لاپتہ

چترال ( محکم الدین ) لوئر چترال شیشی کوہ میں جمعہ کی سہ پہر مسلادھار بارش سےوادی کے کئی مقامات پر سیلاب نے تباہی مچادی ۔ اور ابتدائی اطلاعات کےمطابق ایک خاتون سمیت چار افراد ہلاک، کئی مال مویشی ، تیرہ گھروں اور مدرسہ کو نقصان پہنچا ہے۔ علاقے کے اکثر مقامات جا بجا سیلاب کی وجہ سے ایک دوسرے سے کٹ کر رہ گئے ہیں ۔ اور صحیح طور پر اطلاعات دستیاب نہیں ہیں ۔ کئی افراد کے لاپتہ ہونے کی وجہ سے مزید جانی نقصانات کا خد شہ ظاہر کیا جارہا ہے ۔ جان بحق ہونے والوں میں خاتون نسرین بی بی زوجہ نور عظیم ، حضرت عمر ولد زیربلی ، غلام فقیر ولد خیر ملک اور ایک نامعلوم شخص شامل ہے ۔ جس کی لاش قریبی مقام پر ملنے کے بعدورثا ہسپتال لائے بغیر واپس آبائی گاوں لے گئے ۔ اسی طرح خاتون کی لاش حضور بیکاندہ دروش کے قریب دریا سے ملی ۔ جبکہ دو لاشوں کو ٹی ایچ کیوہسپتال دروش پہنچایا گیا ۔ سیلاب سے 11 علاقے میں زبردست خوف و ہراس پایا جاتا ہے ۔ اور لوگ انتہائی پریشانی کے عالم میں ہیں ۔ ابتدائی معلومات کے مطابق پر صد ، پریت گول وغیرہ مقامات میں تیرہ مکانات ایک مدرسہ کو نقصان پہنچا ہے ۔ آبپاشی نہریں اور واٹر سپلائی سکیمیں مکمل طور پر تباہ ہوئی ہیں ۔ اسی طرح مکئی کی کھڑی فصلیں ، باغات سمیت ہزاروں فٹ عمارتی لکڑی اور سوختنی لکڑیاں سیلاب برد ہو چکی ہیں ۔ متاثرین انتہائی پریشانی کے عالم میں ہیں ۔ سیلاب کے دوران ایک مقام پر لوگ دریا کے بیچ میں سیلابی لہروں کے نرغے میں آکر پھنس گئے ۔ تاہم مقامی لوگوں نے رسیوں کی مدد سے بحفاظت ریسکیو کرکے ان کی جان بچائی ۔ جبکہ ریسکیو ٹیم نے بھی بعد آزان آکر کئی لوگوں کی مدد کی ۔ اور انہیں بحفاظت محفوظ مقامات پرمنتقل کیا ۔ شیشی کوہ میں انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ایاہے ۔ اور متاثرین ضلعی انتظامیہ لوئر چترال کی مدد کےمنتظر ہیں ۔ درین اثنا دروش ہی کے مقام عشریت میں بھی سیلاب آنے کی اطلاعات ہیں ۔ جبکہ لٹکوہ کے مقام بھیستی آرکاری میں بھی سیلاب آنے سے بڑے پیمانےپر نقصانات ہوئے ہیں ۔ سیلاب سے ایک بلاک فیکٹری گندم کی کھڑی فصلیں تباہ ہوئی ہیں ۔ تاہم آکاہ کی طرف سےتعمیر کئے گئے حفاظتی پشتوں سے نقصانات کم کرنے میں مدد ملی ہے ۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔