چترال جانے والی موٹرکارمینہ خوڑ کے مقام پر سیلاب برد ہوگئی،گاڑی میں تین افراد سوار تھے

دیر(سید زاہد جان) لواری ٹنل روڈ پر مینہ خوڑ کے مقام پر موٹرکار سیلابی پانی میں بہہ گیا,موٹرکار میں تین سے افراد سوار تھے, ڈوبنے والے افراد اورگاڑی کو نکالنے کیلئے مقامی افراد, ریسکیو1122 ,لیویز اور پولیس کے جوانوں نےامدادی سرگرمیوں جاری رکھی اور سیلاب میں پھنسے ہوئے میاں ,بیوی اوربیٹی کوپانچ گھنٹے بعد معجزانہ طور پر زندہ نکال لیا گیا,تاہم مرد اسپتال میں دم توڑ گیا۔ تفصیلات کے مطابق جمعرات کے دن چترال جانے والے موٹرکار مینہ خوڑ نالہ عبور کرتے ہوئے سیلابی پانی کی بہاو میں اضافے سے گاڑی میں سوار افراد سمیت بہہ گئے, گاڑی میں ایک ہی خاندان کےتین افراد  لعل محمد ،اس کی اہلیہ اور بیٹی  سوار تھے جن کا تعلق کوئٹہ سے بتایا جارہا ہے ۔گاڑی سیلابی ریلےمیں پچھلے کئی گھنٹوں سے بہنے کے بعد نالے میں ڈوبی رہی اور کار کی صرف ٹائرز نظر آرہے تھے اسے نکالنے کیلئے بھاری مشنری کی ضرورت تھی جو پانچ بجے شام تک پہنچ سکی۔ لعل محمد انکی بیوی اور بیٹی کو لوگوں نے پانچ گھنٹے بعد پانی  سےزندہ نکال لیا ۔جس کے بعد اُنہیں ڈی ایچ کیو اسپتال دیر منتقل کیا گیا جہاں پر لعل محمد نے دم توڑ لیا۔ دوسری گاڑی میں موجود لعل محمد کی بیٹی شاہ فیصل کے مطابق وہ دوسرے گاڑی میں موجود تھے ہماری کار نے نالہ عبور کرلیا اور والد کی گاڑی سیلابی پانی میں بہہ گئی۔لعل محمد کی نعش کو بیٹے کے ہمراہ ڈی سی اکمل خان نے تابوت سمیت تمام انتظامات کرکے دیر سے اسلام اباد کیلئے روانہ کیا,  بتایا جارہا ہے کہ موٹرکار گاڑی دیر سائیڈ سے چترال جارہی تھی,جبکہ ضلعی انتظامیہ اور حکومت بار بار درخواست بھی کررہے ہیں کہ گاڑی والے حضرات شدید بارشوں کے دوران زیادہ پانی میں نالوں کو عبور کرنے کی کوشش نہ کرے۔ لیکن ڈرائیور حضرات اس پر عمل نہ کرکے لوگوں کی زندگیوں سے کھیل رہے ہیں۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔