دھڑکنوں کی زبان۔۔”سیکرٹیری ایجوکشن اور سرکاری سکول“محمد جاوید حیات

سیکریٹری ایجوکیشن عزت مآب معتصم باللہ شاہ صاحب کی یادیں شامل زندگی ہیں جب آپ چترال میں ڈپٹی کمشنر تھے تو تعلیم ان کی اولین ترجیح تھی چترال کو تعلیم یافتہ چترال بنانا ان کا خواب تھا ۔۔یاد ہے آپ ہمیں لے کر سمینارز سمپوزیمز کانفرنسیں منعقد کراتے ان میں ایجوکیشن پر مقالے پڑھے جاتے برفینگیں ہوتیں بڑے بڑے ماہریں تعلیم آ کر لکچر دیتے ۔آپ کی کوششوں کی وجہ سے چترال میں تعلیم کے میدان میں ایک آگاہی آ گئی تھی ان کا ہدف سرکاری سکول ہوتے وہ بر ملا کہتے کہ معلمی میری رگوں میں دوڑتا خون ہے اور میں خود استاد رہ چکا ہوں ۔اب جب آپ سیکریٹری ایجوکیشن بنے ہیں تو وہ یادیں تازہ ہوگئی ہیں اور دل کرتا ہے کہ وہ انقلابی سوچ سرکاری سکولوں میں اصلاح بن کے اترے ۔سیکریٹری صاحب کو بخوبی علم ہے کہ معلمی ایک آرٹ ،فن اور ساٸنس ہے یہ ایک مہارت ہے اس کو پہلے سیکھنا پڑتا یے پھر عمل میں لانا پڑتا ہے ۔اس کے لۓ ایسے ماحول کی ضرورت ہوتی ہے کہ اداروں میں وہ سب سہولیات ہوں وہاں پر کام کی ہر لحظہ نگرانی ہو تسلسل ہو ۔معلم کے فن اس کی سہولیات اس کی مجبوریوں کا ادراک ہو تب کہیں یہ مہارت کام انجام پاتا ہے ۔۔ہمارے ہاں سرکاری اداروں میں بہت سی پیچیدگیاں ہیں جو تعلیم و تعلم کے عمل میں روکاوٹ ہیں ۔پہلا مسلہ پراٸمری ایجوکیشن کا ہے اس میں اساتذہ کی کمی عمارت کا ناکافی ہونا اور اساتذہ کی طرف سے بچوں کی بنیادی ” مہارتوں“ پر کام نہ کرنا ہے ۔۔بنیادی مہارتوں میں ”سننا ، بولنا ، پڑھنا اور لکھنا “ یے جو پراٸمری بچے کماحقہ نہیں سیکھ سکتے ۔۔اس میں استاد کی مجبوریاں ہیں وقت کی کمی ہوتی ہے اسٹاف کی کمی ہوتی ہے اور پھر ہر استاذ جان کھپانے والا بھی نہیں ملتا ۔پھر اس کے کام کو نہ سراہا جاتا ہے نہ سرزنش ہوتی ہے ۔۔بچوں کی لرنگ کی بنیاد مضبوط نہیں ہوتی ۔پھر مڈل اور ہاٸی کلاسس میں ”ماس ایجوکیشن “ کا کانسپٹ ہے ۔سب بچے ذہنی لحاظ جیسے بھی ہوں ان کو کوالٹی ایجوکیشن دینا یے ۔۔استاد سزا نہیں دے سکتا غیر حاضر نہیں کر سکتا جرمانہ نہیں کرسکتا سرزنش نہیں کرسکتا ۔فیل نہیں کر سکتا ۔ایسے کام کا نتیجہ کیا ہوگا کوٸی آ کر استاد کو سمجھاۓ ۔۔کسی زمانے میں جب پبلک سکول نہیں تھے تو سارے بچے اشراف و عربا کے بچے ایک ادارے میں آتے تھے ۔استاد مارتا سزادیتا سرزنش کرتا فیل پاس کرتا اس وقت بھی قابل بچے ہوتے اور نالاٸق بھی لیکن آج سارے قابل ذہین بچے کسی پبلک سکول میں ہوتے ہیں غریب کے بچے جو ذہنی لحاظ سے کمزور ہوں اور مفت تعلیم کے لۓ سرکاری سکولوں میں آتے ہیں یہاں پر کوئی میرٹ ٹسٹ نہیں یوتا اب استاد کونسا میکینزم اپناۓ ۔سیکریٹری صاحب پھر چھٹیوں کا فرق ۔۔ابھی سرکاری سکولوں میں تعلیم سال آگست کو شروع ہوا کتابیں اب بھی ادھوری ہیں پرائیویٹ سکولوں میں مٸ بلکہ اس سے بھی پہلے تعلیمی سال شروع یوا ۔والدین کی غفلت اپنی جگہ استاد کو بچوں کو ہزار بار دھاٸی دینا پڑتا ہے ۔ابھی تک دسویں کی کلاسیں باقاعدہ کام نہیں کر رہیں کہ نویں کے بچوں اور والدین کا موقف ہے کہ ” ابھی بورڈ کا نتیجہ نہیں آیا “ ۔اگر ادارے کے سربراہ کو یہ اختیار دیا جاۓ کہ وہ اپنے سٹاف کو اپنی مرضی سے ڈیل کرے ان کے کام کا معاٸنہ کرے اور ان کا محاسبہ کرے جس طرح پبلک سکولوں میں ہوتا ہے اور پھر یہ اپنے محکمے کا پابند ہو ۔اداروں میں میرٹ لایا جاۓ ۔ان میں طلبا کا ذہنی لحاظ سے کلاسیفیکیشن ہو ۔۔کلاسوں کی تقسیم ہو ۔اے بی سی ۔جس طرح پہلے ہوتا تھا ۔۔داخلی امتحانات میں پاس فیل کا تصور ہو ۔۔اساتذہ کی کنٹن ” نفس مضمون “ کے لحاظ سے اور ” پیڈوگوجی “ کے لحاظ سے ٹرینگ ہو ۔ان کی کلاسوں کا باقاعدہ جاٸزہ لیا جاۓ ۔ان کو اپنی تنخواہوں کے بند ہونے کا خوف ہو ۔تب نتیجہ آۓ گا ۔لیکن کبھی بھی پورے ہجوم کا معیار تعلیم ایک جیسا نہیں ہوسکتا ۔۔یہ دنیا میں کہیں بھی ممکن نہیں ۔بچے ذہنی اور مہارتوں کے لحاظ سے مختلف ہوتے ہیں اس اصطلاح کو ”انفرادی اختلاف “ کہتے ہیں ۔ان کی کونسلنگ ہو ۔۔پھر استاد کو ذہنی ٹارچر کیا جاتا ہے ۔۔کبھی پینشن بند کرنے کا شوشا کبھی ترقی روکنے کا ظلم کبھی تنخواہوں میں سالانہ اضافہ بند کرنے کی افواہ۔۔۔یہ استاد کو ہلاک کے رکھ دیتے ہیں ۔۔ماننا ہے کہ استاد کی تنخواہ معقول ہے لیکن اس کا کام بھی اہم ہے ۔۔اگر سرکاری سکولوں میں اصلاحات لانی ہیں تو ان میں ہر لحاظ سے میرٹ کا سلسلہ شروع کرنا ہوگا ۔تعلیمی عمل میں معیار پیدا کرنے کے لۓ اگر سزا دینی ہو اگر جرمانہ کرنا فیل پاس کرنا ہو تو دریغ نہ کیا جاۓ ۔۔کچھ کھو کے کچھ پانا پڑتا ہے ۔۔اگر خوامخواہ استاد کے پاس جادو کی چھڑی ہے تو کوٸی ایسا لاکے دیکھا دہے ۔۔حال ہی میں سیکریٹری صاحب کا صفاٸی مہم کا اعلان بہت ہی احسن اقدام تھا ۔۔بہت اچھا لگا تعلیمی ادارے وہ ادارے ہیں جہان پر قوم بنتی ہے ۔اب تعلیمی اداروں میں nts کے ذریعے جو نوجوان استاد بن کے آتے ہیں وہ بہت با صلاحیت ہیں اگر سسٹم مضبوط ہوگا تو ان کی صلاحیتیں رنگ لاٸنگی اگر سسٹم کمزور ہوگا تو وہ فیل ہوجاٸینگے ۔۔سیکریٹری صاحب سے سرکاری سکولوں میں انقلاب کی توقع ہے ان کو سب کچھ پتہ ہے ان کو امتحانی نظام کی تباہی کابھی ادراک ہے نصاب کی خامیوں کا بھی پتہ ہے اساتذہ کے مساٸل سےبخوبی واقف ہیں اور بہت اچھی بات یہ کہ ایجوکیش کے ڈپٹی سیکریٹری عبدالکرام صاحب کا تعلق ایک پسماندہ ضلعے سے ہے ان کوگاٶں کے اساتذہ اور اداروں کا پتہ ہے اور وہ ایک فعال آفیسر کے طور اپنے فراٸض انجام دیتے رہے ہیں ۔سرکاری سکول ہماری شناخت ہں اور قوم کی اصل نرسری ہیں کیونکہ ایلیٹ کلاس قوم کے اس طبقے جس کو ”عوام “ کہا جاتا ہے بدقسمتی سے اس کی پرواہ نہیں یوتی ۔۔ہم آپ کے دست و بازو ہیں انقلابی قدم اٹھاٸیۓ ۔اللہ ہمارا حامی و ناصر ہے ۔
ان کی امیدیں قلیل ان کے مقاصد جلیل۔۔۔
غالب و کار افرین کار کشا کار ساز

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔