آلو کی فصل پر ظالمانہ ٹیکس لگاکر آلو لے جانے والی ٹرکوں کو روکنا ٹی ایم اے چترال کا غیرقانونی اقدام اورتوہین عدالت ہے۔قاضی فیصل

عدالتی حکم کے باوجود ٹی ایم اے کی طرف سے ہٹ دھرمی اور ضد بازی جاری رہی تو پاکستان پیپلز پارٹی خاموش نہیں بیٹھے گی اس ریاستی ظلم کے خلاف عدالتی کاروائی کے ساتھ بھرپور آواز اُٹھائیگی۔

چترال(چترال ایکسپریس)آلو کی فصل پر ظالمانہ ٹیکس لگاکرہزاروں ٹن آلو لے جانے والی سینکڑوں ٹرکوں کو روکنا تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن چترال کا غیرقانونی اقدام ہے یہ دارلقضا سوات کی عدالت کے حکم کی کھلم کھلا خلاف ورزی اور توہین عدالت ہے۔یہ بات پاکستان پیپلز پارٹی لوئیر چترال کے جنرل سیکرٹری اور تحصیل مئیر کے سابق امیدوار قاضی فیصل احمد سعید نے ایک بیان میں کہی ہے۔انہوں نے تحصیل مئیر شہزادہ امان الرحمن سے سوال کیا ہے کہ ایک بوری پر400روپے ٹیکس لگاکر وہ لٹکوہ کے وادی کے غیور اور محنت کش عوام سے کس بات کا بدلہ لے رہے ہیں۔لٹکوہ کے عوام نے انہیں ووٹ دیکر بھاری اکثریت سے کامیاب کرایا جس کا بدلہ وہ آلو پر ٹیکس لگاکر دے رہے ہیں۔اپنے بیان میں قاضی احمد سعید نے کہا کہ عدالت عالیہ نے 16اکتوبر 2018کو اپنے تفصیلی فیصلے میں قرار دیا ہے کہ حکومت آلو کے کاشتکاروں کو کسی قسم کی سہولت نہیں دیتی اس لئے ان کی پیداوار پر ٹیکس لگانا غیر آئینہ،غیر قانونی اقدام ہے اس کو فی الفور ختم کیاجائے۔انہوں نے کہا کہ ملک کے کونے کونے میں سیلاب کی وجہ سے لوگوں کے فصلیں سیلاب برد ہوگئے اور بارشوں کی وجہ سے فصلوں کو شدید نقصانات پہنچے ہیں اور ضلعی انتظامیہ کاشتکاروں کو ریلیف دینے کی بجائے ٹیکس لگاکر انہیں مزید کوفت میں مبتلا کررہی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ عدالتی حکم کے باوجود ٹی ایم اے کی طرف سے ہٹ دھرمی اور ضد بازی جاری رہی تو پاکستان پیپلز پارٹی خاموش نہیں بیٹھے گی اس ریاستی ظلم کے خلاف عدالتی کاروائی کے ساتھ بھرپور آواز اُٹھائیگی۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔