پی ٹی آئی کی بھرپور سپورٹ کے باوجود علاقہ کھوژ نظر اندازکیوں ہیں؟۔احمد محمد علی

اپرچترال(چترال ایکسپریس)احمد محمد علی ممبر ویلج کونسل کھوژ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ تحصیل مستوج کے وادی کھوژ دریائے یارخون کے کنارے آباد دو دیہات اپر و لوئر کھوژ پر مشتمل وہ علاقہ ہے جسے نارمل حالات میں بھی آفت زدہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ مناسب سڑک اور دیگر ضروریات زندگی سے محروم یہ وادی حالیہ سیلاب میں شدید متاثر ہونے والے علاقوں میں شامل ہے۔ انفراسٹرکچر کی تباہی سے لے کر، سڑکوں کی بربادی اور مقامی لوگوں کی خانہ بدوشی تک مصیبتوں کی داستاں یہاں بکھری پڑی ہے۔
انہوں نے انتہائی افسوس کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ شدید متاثر ہونے کے باوجود ارباب اختیار و اقتدار اس بدقسمت وادی کو مسلسل نظر انداز کر رہے ہیں۔ چند فلاحی تنظیموں کے رضاکار و اعلیٰ حکام گوکہ یہاں پہنچے اور لوگوں کی دلجوئی کی لیکن حکومتی سطح پر کوئی انتظامی نمائندہ یہاں نہیں آیا۔ ڈپٹی کمشنر و دیگر انتظامی افسران شاید یہاں کے معلق پل اور تنگ سڑکوں سے خوفزدہ ہیں جو اس بدقسمت وادی میں جاکر نقصانات کا بذات خود مشاہدہ کرنے کی زحمت گورا نہیں کر رہے۔ حالانکہ جس حساب سے یہاں نقصانات ہوئے ہیں ہونا یہ چاہئے تھا کہ ڈپٹی کمشنر اگلے دن کھوژ میں ہوتے۔
دوسری جانب حکومتی جماعت کی قیادت و نمائندہ گان کھوژ جانے سے گریزاں ہیں۔ سینیٹر فلک ناز صاحبہ جب بھی چترال کے دورے پہ آئی ہیں بونی اور آوی سے آگے آنے کی زحمت گوارا نہیں کرتی حالانکہ محترمہ لوئر چترال یا بونی اور آوی سے منتخب کوئی نمائندہ نہیں بلکہ پورے خیبرپختونخواہ سے سینیٹ میں خواتین کی نمائندہ ہیں۔ اگر بطور چترالی بہن بیٹی وہ چترال کے دورے پہ آتی ہے تو انہیں چاہئے کہ مخصوص علاقوں اور مخصوص لوگوں کو چترال سمجھنے کے بجائے پورے چترال کو ایک چترالی کی نگاہ سے دیکھے۔ آوی سے آگے ایک جہاں آباد ہے، یہاں سے عام اور بلدیاتی دونوں انتخابات میں پی ٹی آئی کو بھرپور سپورٹ اور ووٹ ملے ہیں اس کے باوجود اس علاقے کو نظر انداز کرنے کی کیا وجوہات ہیں؟

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔