غیر فعال بلدیاتی نظام…محمد شریف شکیب

خیبر پختونخوا میں حالیہ طوفانی بارشوں اور سیلاب کی صورت حال سے نمٹنے میں صوبائی حکومت اور ضلعی انتظامیہ کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔صوبے میں بلدیاتی ادارے غیر فعال ہونے کیوجہ سے نچلی سطح پر متاثرین تک رسائی، انہیں بچانے اور امداد کی فراہمی میں غیر معمولی تاخیر ہوئی جس کی وجہ سے جانی اور مالی نقصانات کی شرح میں اضافہ ہوا۔ خیبر پختونخوا نے دیگر صوبوں پر سبقت لیتے ہوئے دسمبر 2021 میں پہلے مرحلے میں صوبے کے سترہ اضلاع میں بلدیاتی انتخابات کرائے تھے۔2022 کے اوائل میں باقی ماندہ اٹھارہ اضلاع میں بھی انتخابات کرائے گئے۔جس میں حکمران جماعت پی ٹی آئی کو برتری حاصل ہوئی تاہم اختیارات اور وسائل کی نچلی سطح پر منتقلی میں تاخیر کی وجہ سے منتخب بلدیاتی نمائندوں نے احتجاج شروع کردیا اور بات عدالت تک پہنچ گئی۔صوبے میں بلدیاتی اداروں کے قیام کو آٹھ ماہ کا عرصہ گزرنے کے باوجود انہیں فنڈز منتقل کئے جاسکے نہ ہی اختیارات تفویض ہوئے ہیں اس وجہ سے صوبے بھر میں بلدیاتی اداروں سے وابستہ عوامی مسائل ابھی تک لٹکے ہوئے ہیں اور وسائل نہ ہونے کے بہانے منتخب نمائندے بھی ہاتھوں میں ہاتھ دھرے بیٹھے ہوئے ہیں۔ کیونکہ وسائل کے بغیر یہ نمائندے عوامی مسائل حل کرنے سے قاصر ہیں۔قدرتی آفت کی موجودہ صورت حال میں اگر بلدیاتی ادارے فعال ہوتے تو زیادہ جانی و مالی نقصانات سے بچا جا سکتا تھا۔نچلی سطح پر عوام کے 90 فیصد معاملات بلدیاتی اداروں سے جڑے ہوئے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ بلدیاتی اداروں کو عوامی مسائل کے حل کا بنیادی ڈھانچہ اور جمہوریت کی نرسری سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں بدقسمتی سے سیاسی حکومتوں کے ادوار میں بلدیاتی ادارے اکثر مفلوج اور غیر فعال رہے ہیں جس کی بڑی وجہ قومی و صوبائی اسمبلیوں کے ارکان کی طرف سے وسائل اور اختیارات کی تقسیم کے خلاف مزاحمت کرنا ہے۔شاید یہی وجہ ہے کہ جمہوریت کی نرسریاں غیر آباد ہونے کی وجہ سے ہمارے ہاں جمہوری نظام کو اب تک فرقغ نہ مل سکا۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔