بروغل میں فوڈ انسیکیورٹی اور دوسرے مسائل کی طرف فوری اور ہنگامی بنیادوں پر توجہ دی جائے۔وی سی چئیرمین عمررفیع

چترال (چترال ایکسپریس)اپر چترال کے ویلج کونسل بروغل کے چیرمین عمر رفیع نے حکو مت پاکستان، صوبائی حکومت، آغا خان فاونڈیشن، ورلڈ فوڈ آرگنائزیشن سمیت دوسرے متعلق اداروں سے اپیل کی ہے کہ چترال کلائمیٹ چینج سے سب سے ذیادہ متاثر ہونے والا علاقہ بروغل میں فوڈ انسیکیورٹی اور دوسرے مسائل کی طرف فوری اور ہنگامی بنیادوں پر توجہ دی جائے جوکہ حالیہ غیر معمولی بارشوں اور سیلاب کے نتیجے میں متاثر ہوچکے ہیں جہاں سوفیصد گھر بھی ناقابل رہائش بن گئے ہیں۔ پیر کے روز چترال پریس کلب میں ویلج کونسل بروغل کے کونسلر رحمت نواز اوریارخون لشٹ کے معروف سوشل ورکر زار امان لال کی معیت میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ گزشتہ دنوں کی بارش سے بروغل اور اپر یارخون کا علاقے میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی جہاں پہلے سے غریب عوام کی معیشت برباد ہوگئی اور علاقے میں انفراسٹرکچر بھی برباد ہوگئے جن میں دو پن بجلی گھر، ابپاشی کے پائپ لائن اور شامل ہیں۔اس کے علاوہ سو کے قریب مال مویشی جس میں بھیڑ بکریاں،گائے بھینس اور خیش گاو (یاک)شامل ہیں۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان اور چیف سیکرٹری سے اپیل کی کہ بروغل اوراپر یارخون میں سیلاب اور بارش کے متاثریں کی مکانات، فصلوں اور مال مویشیوں کے نقصانات اور انفراسٹرکچرز کی سروے کاکام فی الفور شروع کیا جائے جہاں ضلعی انتظامیہ کا کوئی افسر یا اہلکار ابھی تک نہیں پہنچا ہے۔ انہوں نے کہاکہ منتخب بلدیاتی نمائندہ کی حیثیت سے بروغل ویلج کونسل کے کونسلروں نے نقصانات کا تفصیلی رپورٹ گھر گھر جاکر پہلے ہی تیار کرکے ضلعی انتظامیہ اپر چترال کو پیش کردی ہے جسے سرکاری اہلکاروں کے ذریعے تصدیق کرائی جائے۔ انہوں نے کہاکہ علاقے کے لوگ مال مویشیوں کے لئے اس موسم میں چارہ موسم سرما کے لئے ذخیر ہ کرتے ہیں جوکہ اس سال بارش کے باعث ممکن نہیں ہوا اور جانوروں کے لئے خوراک کی بھی شدید قلت پیدا ہوگئی جس سے علاقے میں یاک اور بکریوں کو خوراک نہ ملنے سے ختم ہوں گے اور نتیجتاً علاقے میں غربت مزید بڑھ جائے گی۔ انہوں نے کہاکہ علاقے میں حیوانات کے لئے چارہ کی فراہمی بھی ناگزیر ہے کیونکہ لائیو اسٹاک علاقے کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ ویلج کونسل کے چیرمین نے علاقے میں محکمہ فوڈ کی طرف سے گندم کے کوٹے میں سوفیصد اضافہ کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے بروغل میں فوڈ ڈیپارٹمنٹ کے زیر تعمیر گودام کے بارے میں تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے ٹھیکہ دار نے ڈیڑھ سال کا عرصہ گزرنے کے بعد بھی چھتوں پر جستی چادر نہیں ڈال دی ہے جس سے دیواروں میں دراڑیں آگئی ہیں اور اس سیزن میں بھی یہ کام نہ کرنے کی صورت میں دیواریں مکمل طور پر منہدم ہوں گے۔ انہوں نے کہاکہ بروغل کے مقامی ڈسپنسری کے نام پر پانچ ملازمین تنخواہ تو لے رہے ہیں لیکن ڈسپنسری سال بھر بند ہے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔