چترال کے سینکڑوں مزدا گاڑیوں کے ڈرائیوروں نے محکمہ معدنیات کے اہلکاروں کی طرف سے بے جا تنگ کرنے پر ہڑتال شروع کردی

چترال (ظہیرالدین سے ) لویر چترال کے بلچ ریور بیڈ (شوتار) میں تعمیراتی میٹریل جمع کرنے اور سپلائی کرنے والےسینکڑوں مزدا گاڑیوں کے ڈرائیوروں اور کام کرنے والے مزدوروں نے محکمہ معدنیات کے اہلکاروں کی طرف سے بے جا تنگ کرنے پر ہڑتال شروع کردی جس کے نتیجے میں چترال شہر بھر اور مضافات میں جاری تعمیراتی سرکاری اور پرائیویٹ سیکٹر پر کام رک گئے۔ بلچ شوتار میں ہڑتال کرنے والے مزدا ڈرائیوروں اورمالکان نے مقامی میڈیا کو بتایاکہ وہ مقامی میٹریل ریت، بجری اور پتھر پر عائد قانونی حکومتی ٹیکس کی ادائیگی کے لئے تیارہیں لیکن محکمہ معدنیات کے مقامی اہلکاروں نے ان کاجینا حرام کردیا ہے اور ان پر بھاری جرمانے عائد کرتے ہیں۔ بلچ شوتار میں کارکنان کے نمائندے شجاعت، مومن،مجیب، مسلم، نور عالم اور دوسروں کا کہنا تھاکہ چترال کے طول وعرض میں گزشتہ دنوں سیلاب اور بارشوں نے تباہی مچادی ہے اور لوگوں کی معیشت کو سخت نقصان پہنچ گیا ہے اور اب محنت مزدوری کرنے والوں کو رزق سے محروم کرنے سے ہزاروں گھرانوں میں فاقے پڑسکتے ہیں اور اس کے نتیجے میں کوئی انسانی المیہ جنم لے سکتا ہے جس سے حکومت کی سخت بدنامی ہوگی۔ انہوں نے محکمہ کی اس ظالمانہ قدم کے خلاف احتجاج کا اعلان کرتے ہوئے کہاکہ وہ کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہیں۔ جب محکمہ معدنیات کے چترال میں ایک اہلکار سے اس بات میں موقف جاننے کے لئے رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھاکہ وہ پشاور ہائی کورٹ کے حکم کی تعمیل کررہے ہیں جس کے مطابق تمام ریور بیڈز سے تعمیراتی میٹریل اٹھانے پر پابندی عائد ہے۔ ان کا کہنا تھاکہ بلچ شوتار سے مقامی میٹریل کی ایک سال کے لئے قواعد وضوابط کے مطابق ٹینڈر بھی ہوگئی تھی لیکن عدالتی حکم پر اسے روک دیا گیا ہے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔