اپر چترال تحصیل مستوج کے چھ ویلج کونسل گزشتہ ایک ماہ سے تاریکی میں ڈوبے ہوئے ہیں۔

چترال(چترال ایکسپریس رپورٹ: کریم اللہ سے)
پندرہ اگست دو ہزار بائیس کو میراگرام نمبر ایک کے آبی نالے میں تباہ کن سیلاب آنے کی وجہ سے ریشن بجلی گھر کے مین لائین کے کئی پول سیلاب برد ہوگئے اس کے ساتھ ہی اپر بیار یا تحصیل مستوج کےبالائی علاقوں کے لئے بجلی کی بحالی منقطع ہوگئی۔ گلیشئیر پھٹنے کی وجہ سے میراگرام گول میں دو ہفتوں سے زائد عرصے تک تسلسل کے ساتھ سیلاب آنے کی وجہ سے آوی سے لے کر میراگرام گول تک کئی کلومیٹر علاقہ سیلاب اور دریا برد ہوگئے جس کے نتیجے میں اس علاقے سے گزرنے والی بجلی کے درجن بھر کھمبے بھی سیلاب کی زد میں آکر تباہ ہوگئے۔
اب حالت یہ ہے کہ ویلج کونسل آوی، ویلج کونسل پرواک، وی سی سنوغور، وی سی مستوج، وی سی پرکوسپ اور وی سی کھوژ یعنی چھ ویلج کونسلوں میں گزشتہ تین ہفتوں سے بجلی نہیں ہے جس سے ان علاقوں میں معمولات زندگی بری طرح متاثر ہو کے رہ گئی ہے اور لوگ اندھیروں میں رہنے پر مجبور ہے۔ عید علی گزشتہ کئی سالوں سے مقامی سیاست اور سماجی خدمات میں سرگرم عمل رہے ہیں انہوں نے بتایا کہ ان چھ وی سیز کے لوگ گزشتہ ایک ماہ سے بجلی سے محروم ہیں، اس سلسلے میں پیڈو کے متعلقہ حکام نے علاقے کا دورہ کرکے نقصانات کا جائزہ لے کر دوبارہ کھمبے لگانے کے لئے سروے کیا ہے مگر تاحال اس میں کسی قسم کی پیش رفت نہیں ہوئی۔ عید علی نے پیڈو کے اعلی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ آوی سے آگے روروم میں پول لگا کے خشکی کے راستے میں سے ٹرانزمیشن لائی بچھائی جائے تاکہ موسم سرما میں تسلسل کے ساتھ بجلی کی بندش کا سلسلہ ختم ہوسکے، انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ پیڈو حکام علاقے کے لوگوں کی مشکلات کو مد نظر رکھتے ہوئے ہنگامی بنیادوں پر کھمبوں کی فراہمی کو یقینی بنائے۔ علاقے کے لوگ کھمبوں کی تنصیب میں ادارے کی ہر قسم کی مدد کے لئے بھی تیار ہیں۔ انہوں نے ایم این اے مولانا عبدالاکبر چترالی، ایم پی اے مولانا ہدایت الرحمن، مشیر برائے وزیر اعلی وزیر زادہ اور تحصیل ناظم مستوج سردار حکیم سے بھی پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ بجلی کی بحالی کو یقینی بنانے میں اپنا بھر پور کردار ادا کریں تاکہ مستوج اپر کے چھ ویلج کونسلوں کے لوگوں کی مشکلات کم ہوسکیں۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔