جھوٹے عوامی نمائندے اور عاشقان بیوروکریسی ذاتی پسند نا پسند کی بنیاد پر کسی کی کردار کشی سے باز رہے۔فرید اللہ

اپرچترال(چترال ایکسپریس)فرید اللہ سابق کوارڈینیٹر پی ٹی آئی اپر چترال نے ایک بیان میں کہا ہے کہ عوامی نمائندگی دو طرح کی ہوتی ہیں ایک وہ جس کا چناؤ عوام خود کرتی ہے یعنی کہ الیکٹڈ نمایندہ اور دوسرا ایڈمنسٹریشن یعنی کہ بیوروکریسی وغیرہ جس کا انتخاب گورنمنٹ ائی میرٹ کمپٹیشن کے بعد کرتی ہے اور جہاں عوامی ٹیکس سے تنخواہ یا مراعات لینے کی بات ہو تو دونوں نمائیندے یکساں ہیں البتہ سیاسی نمایندہ اگر کرپٹ ہو تو بیوروکریسی سے کوئی چار پاتھ آگے ہوگا موجودہ صورت حال میں ڈی سی اپر چترال کے خلاف جو ایک طوفان بد تمیزی برپا ہے وہاں پر احتجاجیوں کو یہ بھی نہیں پتہ کہ ہم کس مدعے کو لیکر سراپا احتجاج ہیں انہوں نے کہا کہ معلوم ہوتا ہے کہ ان احتجاجیوں کو ورغلانے میں وہ ہاتھ ملوث ہونگے جو کہ گزشتہ ادوار میں ڈی سی صاحبان کے ساتھ فوٹو بناتے ہوۓ صف اول میں کھڑے ہو کے ہنس رہے ہوتے تھے شاید موجودہ ڈی سی صاحب اس بات کو کوئی اہمیت نہ دیتا ہو اور جہاں تک سیلاب زدہ علاقوں میں دورہ نہ کرنے کی بات ہے پچھلے ادوار میں بھی کسی ڈی سی نے عوام کو گھر یا مال مویشی اپنی پاکٹ سے خرید کے نہیں دیے تھے اور کچھ لوگ یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ سابقہ ڈی سی محمد علی کو واپس لایا جائے گویا کہ وہ ان کے مامے دا پتر ہو اور کچھ ناکام سیاسی باوے بھی نا دانستہ میں اس جھوٹی عوامی ہمدردی کو لیکر اودھم مچا رکھے ہیں ،اُنہوں نے کہا کہ میرا آج تک ڈی سی اپر چترال سے کبھی ملاقات ہوئی ہے اور نہ ہی کسی اور بیوروکریسی کے بندے سے کیونکہ میں جانتا ہوں ہمیں اصل جوابدہ وہ لوگ ہیں جو قومیت، علاقائیت اور مذہب کے نام پر ہم سے ووٹ بٹورتے ہیں نہ کہ ڈی سی صاحب، اُنہوں نے کہا کہ گورنمنٹ کے کسی بھی نمائندے پر آپ کسی دہاتی یا کسی نا سمجھ سیاسی نمائندے کا پریشر ڈلوانے کی کوشش کرو گے تو معاشرے میں قانون اور انصاف کا توازن بگڑ جائے گا لہذا جھوٹے عوامی نمائندے اور عاشقان بیوروکریسی ذاتی پسند نا پسند کی بنیاد پر کسی کی کردار کشی سے باز رہا جاۓ ۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔