بونی ہسپتال کا ایک دلخراش واقعہ  ۔نمبر ۲ ( میری ڈائری کے اوراق سے )..تحریر : شمس الحق قمرؔ

ستمبر 2022  کے پہلے ہفتے کی کو ئی تاریخ تھی کہ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی۔ ایک پھول سی بچی دم توڑ گئی ۔ ۔بچی کی رحلت پر ہم سب کو دلی صدمہ پہنچا اللہ اس نھنی پری کو اُن کے والدین لےلیے وسیلہ شفاعت بنائے ، ماں باپ اور تمام لوحقین و متعلقین کو صبر جمیل عطا فرمائے ۔

یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح ہر سو پھیل گئی کہ ہسپتال کے عملے کی غفلت سے بچی دم توڑ گئی ۔سوشل میڈیا ایک وبا ہے جس کا جو دل کرتا ہےاس وبا کو اپنے انداز سے پھیلاتا ہے / تی ہے ۔اس پر ہم بات نہیں کریں گے البتہ آن لائن اخبارات کی طرف سے  بلا تحقیق خبروں کی اشاعت قابل غور ہے ۔خبر کی سچائی پر تحقیق کسی اخبار کی اولین زمہ داری اس لیے گردانی جاتی ہے کہ کسی جھوٹی خبر کی اشاعت  سے کسی فرد ، قوم  یا ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ ہمارے اخبارات نے یہی کچھ کیا ۔ یہاں بچی کے والد کے جذبات اپنی جگہ درست ہیں لیکن جلتی پر تیل میڈیا  اور خاص کر زرد صحافت نے ڈالا ۔ اُس بچی کے  والد کی جگہ کوئی بھی ہوتا تو اُن کے جذبات یہی ہوتے  یا اس سے بھی شدید ہوتے  کیوں کہ ایسی صورت حال میں متاثرہ افراد کے پاس اور کوئی چارہ کار نہیں ہوتا کیوں کہ والدین کے سامنے  اُن کی اولاد سے بڑھ کر دنیا کی اور کوئی شیئے  معنی نہیں رکھتی ہے ۔ اُن کے ذہن میں ہسپتال اُس کی بچی کی جان بچانے کا آخری ذریعہ  تھا ۔ بچی کے جان کی بازی ہارنے کے  بعد ہسپتال کے عملے کی ہر مثبت کوشش اُن کی نظر میں منفی نظر آنابھی قرین قیاس ہے اس کی جگہ کوئی بھی ہوتا اپنے  ہوش وحواس کھو بیٹھتا۔ لیکن جن  لوگ نے اس  واقعے کو اپنی آنکھوں سے خود دیکھے بغیراسے آج تک تماشا بنائے رکھنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا ہے در اصل وہی لوگ اُس بچی کے والدہ ، والدہ اور بہن بھائیوں پراور بھی غم کے پہاڑ  گرا رہےہیں ۔ یہ وقت ہسپتال پر کیس کرنے کا نہیں ہے یہ وقت لواحقین کو تسلی دینے کا ہے ۔ کچھ لوگ اس واقعے سے فائدہ  اٹھا کر ذاتی عناد کا حساب برابر کر رہے ہیں ۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ بچی کی زندگی کے گل ہونے کے بعد بولنے والے اُس بچی کی زندگی میں مرض کے جڑ پکڑنے سے قبل اُن کی مالی اعانت کر چکے ہوتے تو شاید معاملہ یہاں تک نہ پہنچتا۔ مجھے یقین ہے کہ اس مسئلے پر زمین سر پر اٹھانے والوں سے یہ کہا جائے کہ اپنے ایک دن کی تنخواہ  متاثر ہ خاندان کی خوشنودی و بہبود اور غم بھلانے  کےلیے مختص کریں تو بہت کم لوگ اس کار خیر میں اپنا حصہ ڈالیں گے باقی دُم دبا کر بھاگ جانے میں عافیت پائیں گے ۔میں تیار ہوں میں آج ہی ایک دن کی تنخواہ متاثرہ خاندان کے نام کر لیتا ہوں باقی لوگ بھی تیار ہو جائیں  اور متاثرہ خاندان کی مدد کریں ۔ہمیں  بہت افسوس  اس امر پر ہے کہ  ایک آدمی نے یہاں تک کہ پریس کانفرنس کرکے ہسپتال کے ایک ملازم پر نشہ کرنے کا الزام بھی آنکھیں بند کر کے لگالیا ہے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان صاحب کی بچی کی صحت سے زیادہ کسی کے ذاتی معاملات پر تشویش ہے ۔ ایک اور لکھاری بھائی نے اس واقعے کو قتل کہا ہے ۔شاید  اُنہیں بھی  معلوم نہیں کہ کسی پر انسانی جان کے قتل کا الزام لگانا قانونی جرم ہے اور اسے ثابت نہ کرنے کی صورت میں الزام تراش قانوں کے شکنجے میں آسکتا ہے ۔

 اصل کہانی یہ ہے کہ بچی ایک موذی مرض میں پہلے سے مبتلا تھی اور انتہائی نازک حالت میں  صبح آٹھ بجے ہسپتال پہنچا ئی گئی تھی۔ بچی کے والد محترم کو اس کسم پرسی کی حالت میں شاید یہ معلوم نہیں تھا کہ  ایمرجنسی کہاں واقع ہے۔ انہوں نےچترال میں اپنے کسی رشتہ دار کو، جوکہ چترال ہسپتال میں ملازم تھے ، فون کیا  اور  مذکورہ شخص نے فون پر کہا کہ اس وقت جو بھی اسٹاف آپ کے آس پاس ہے فون اُسے دے دیجیے ۔ فون کرامت کو تھمایا گیا ، کرامت نے وقت کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے فوری طور پر فون بچی کے والد کو واپس کر کے کہا کہ ابھی ادھر ادھر فون کرنا چھوڑ دو  جلدی ڈاکٹر کے پاس چلے جاو ۔ کرامت چونکہ ایک ذمہ دار اور فرض شناس  نرس ہے ۔ ہم آج سے نہیں بلکہ بہت پہلے سے کرامت کو جانتے ہیں اور اُس کی پیشہ وارانہ رویے کے طرفدار ہیں ۔ بونی میں تمام لوگ اس بات کی گواہی دے سکتے ہیں کہ کرامت وہ فرض شناس پیشہ ور ہے  جو  صحت کی خرابی پر  دن ہو یا رات کسی بھی وقت بلانے پر بلا تفریق علاقہ ، ذات پات ، مذہب و مسلک  لوگوں کے پاس جاتا اور اُن کا علاج کرتا رہا ہے ۔  ہمیں یقین ہے کہ کرامت نے ایسی حرکت نہیں کی ہوگی جسکا اُسے ذمہ دار ٹھہرایا جا رہا ہے ۔

اس ہسپتال میں جتنے بھی پیشہ ور ہیں اپنے فرائض بڑی جان فشانی سے انجام دے رہے ہیں اور ہزار تحسین کے مستحق ہیں  ۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ عوام کی انتھک کوششوں سے یہاں کارڈیالوجسٹ کی تقرری ہوئی ہے ۔ ہمیں یہ بھی معلوم ہونا چاہئے کہ  ملک میں کارڈیالوجسٹ اٹے میں نمک کے برابر ہیں  اور دوسری اہم بات یہ ہے کہ پہاڑی جگہوں جیسے چترال وغیرہ میں  سخت موسمی حالات  کامقابلہ کرنا شہر کے لوگوں لیے بہت مشکل ہے ۔ ہم پر اللہ کی مہربانی ہے کہ ہمارے یہاں اسی ہسپتال میں دل کے امراض کا ڈاکٹر بھی موجود ہے ۔ اگر یہ لوگ چھوڑ کے جائیں گے تو یہ جگہ مسائل استان  بنے گی اور نہیں معلوم اور کتنی ننھی جانوں پر سیاست چمکائی جائے گی ۔

            اگر ایک مسلمان کی نگاہ سے اس واقعے کو پرکھا جائے تو موت و حیات اللہ کے تصرف میں ہیں ۔ ہمارا ایمان یہ ہے کہ اللہ کے حکم کے بغیر کوئی پتا بھی نہیں ہل سکتا اور یہ کہ موت کا وقت مُعیّن  ہے ۔ جس لمحے آب و دانہ ختم ہوتا ہے اسی پل انسان کا ناطہ اس دنیا سے  ٹوٹ جاتا ہے۔ کیا ہم میں سے کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ  بچی کی موت کی تاریخ کوئی اور تھی اور یہ بچی بزور بازو جان سے مار دی گئی؟  اگر بحیثیت مسلمان ہم سب اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ ہماری زندگی اللہ کے ہاتھ میں ہے وہی ذات با برکات ہے جو  جس وقت جس کسی کو چاہے اپنی طرف بلا لتی ہے تو ہماری  یہ بے بنیاد بحث غیر ضروری تکرار پکڑنے اور ایک دوسرے کے ساتھ بدست و گریبان ہونے سے پہلے رفع ہو سکتی ہے۔ ایک مستند رپورٹ کے مطابق تریچ سے آئی ہوئی بچی کو کوئی عام بخار نہیں تھا بلکہ وہ ایک موذی مرض میں مبتلا تھی اور ہسپتال اُس وقت پہنچائی گئی تھی جب اُس پھول کی زندگی چراغ سحری کی مانند بن گئ تھی۔ ہسپتال کے عملے نے ہر ممکن کوشش کی کہ بچی کی جان بچائی جائے  بلکہ ایک ڈاکٹر نے جب بچی کے خون کا نمونہ لیا تو ناپ تول بہت بگڑی ہوئی نظر آئی تو ڈاکٹر نے سوچا کہ خون کے نمونے میں اتنی شدید تفاوت سے انسان زندہ نہیں رہ سکتا ہے شاید ہماری مشین میں حرف ہے  لہذا اُس نے پرائیوٹ لبارٹری سے بھی خون چیک کروایا لیکن یہ جان کر ڈاکٹر کو بہت دکھ ہوا کہ اب بہت دیر ہو چکی تھی ۔

آخر میں میرا ایک  سوال  یہ ہے اُس گاوں کے شرفاٗ سے بھی ہے کہ گاوں کے لوگوں نے مرض کے پہلے یا دوسرے  مرحلے میں داخل ہونے تک کیوں اس ننھی سی جان کو بچانے کو کوشش نہیں کی؟ اس سوال کے ساتھ ایک دردمندانہ اپیل یہ ہے کہ اب بچی اپنے رب کے پاس چلی گئی ہے ۔ اب  سوال یہ ہے کہ ہم لواحقین کے لیے کیا مدد کر سکتے ہیں ۔ آیئے جو بھی دل میں اس خاندان کے لیے درد رکھتا ہے ایک دن کی تنخواہ مختص کیجیے ۔ سب سے پہلے یہ کام میں کروں گا ۔ بچی کے والد صاحب سے گزارش ہے کہ  فیس بک پر اکاونٹ  نمبر ہم سے بانٹے اور جاننے والے تمام افرد کو اُن کے ٹیلی فون نمبروں  پر اپنا اکاونٹ نمبر بھیجدے تاکہ اُن کے باقی بچوں کی بہترین تعلیم اور تربیت ہو سکے ۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔