لمپی سکن کے نقصانات…محمد شریف شکیب

خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں حالیہ سیلاب سے دودھ دینے والے اٹھارہ ہزار جانور ہلاک ہو چکے ہیں جن میں تین ہزار بھینسیں، سات ہزار بھیڑیں، پانچ ہزار بکریاں اور تین ہزار گائیں شامل ہیں۔دودھ اور گوشت والے جانور دیہی علاقوں کے لوگوں کا زریعہ معاش ہوتے ہیں ابھی سیلاب کے نقصانات کا دکھ بھلایا نہیں گیا تھا کہ جانوروں کی مہلک بیماری لمپی سکن کے پھیلائو نے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے رواں سال اپریل میں خیبر پختونخوا میں لمپی سکن کے کیسز سامنے آئے تھے یہ مرض اب پورے صوبے میں پھیل چکا ہے۔محکمہ لائیو سٹاک کے مطابق لمپی سکن سے جانوروں کی ہلاکت اور گوشت متاثر ہونے سے جانور پالنے والوں اور قصائیوں کو پانچ ارب سے زائد کا نقصان ہوا ہے اگر اس مہلک مرض پر قابو پانے کےلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات نہیں کئے گئے تو پچاس ارب تک نقصانات کا اندیشہ ہے۔یہی نہیں بلکہ گائے، بھینس اور بکریاں اس بیماری سے متاثر ہونے کی وجہ سے دودھ کی پیداوار میں پچیس فیصد تک کمی آئی ہے۔سرکاری اعداد وشمار کے مطابق صوبے میں گائے اور بھینسوں کی تعداد پچیس لاکھ جبکہ بھیڑ بکریوں کی تعداد اسی لاکھ سے زیادہ ہے۔اب تک صرف بارہ لاکھ جانوروں کو ویکسین لگائی جا سکی ہے۔ محکمہ حیوانات نے رواں سال ستر لاکھ جانوروں کی ویکسی نیشن کا ہدف مقرر کیا ہے۔ماہرین کے مطابق لمپی سکن میں مبتلا جانوروں کا پچاس فیصد گوشت ناقابل استعمال ہوتا ہے اور بیمار جانور کے دودھ دینے کی صلاحیت بھی آدھی رہ جاتی ہے۔خیبر پختونخوا کی پچھتر فیصد آبادی دیہی علاقوں اور پچیس فیصد شہری علاقوں میں رہتی ہے۔ دیہی علاقوں کے نوے فیصد لوگوں کا روزگار کھیتی باڑی اور جانور پالنے سے وابستہ ہے۔ یہ لوگ جانوروں کا دودھ ،کھالیں،اون اور گوشت بیچ کر گزر اوقات کرتے ہیں سیلاب اور لمپی سکن کی بیماری نے دیہی علاقوں کو سب سے زیادہ متاثر کیا ہے۔اگر انہیں مدد فراہم نہ کی گئی تو وہ نقل مکانی پر مجبور ہوجائیں گے مسئلے کا فوری ممکنہ حل یہ ہے کہ جانوروں کی ویکسی نیشن کا عمل تیز کیا جائے۔ادویات اور طبی عملے پر مشتمل ٹیمیں دیہی علاقوں میں بھجوا کر لوگوں کو مزید مالی نقصانات سے بچایا جائے اور جن لوگوں کے مال مویشی سیلاب یا مرض کی وجہ سے ہلاک ہوئے ہیں انہیں فوری طور پر مناسب امداد فراہم کی جائے تاکہ ان کا زریعہ معاش بحال ہو سکے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔