چترال میں ایک لیڈی ڈینٹل سرجن سے سرکاری بنگلہ خالی کرانے کے تنازعے پر ڈاکٹروں، پیرامیڈیکل اور کلاس فور اسٹاف کی ہڑتال

چترال (نمائندہ چترال ایکسپریس ) ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال چترال میں ایک لیڈی ڈینٹل سرجن سے سرکاری بنگلہ خالی کرانے کے تنازعے پر ڈاکٹروں، پیرامیڈیکل اور کلاس فور اسٹاف نے ہڑتال کرتے ہوئے ہسپتال کے سبزہ زار میں دھرنا دئیے رکھا۔ اس موقع پر ڈاکٹرز کمیونٹی کے رہنما ڈاکٹر عباس حیات، ڈاکٹر محمود عالم، ڈاکٹر شگفتہ اور ڈی ایم ایس اسرار احمد نے کہاکہ ضلعی انتظامیہ نے چادر اور چار دیواری کی تقدس کو پامال کرتے ہوئے بنگلہ سیل کردیاجس کی کوئی اتھارٹی ان کے پاس نہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ چوبیس گھنٹے سروس دینے والے ڈاکٹروں کے ساتھ یہ ناروا سلوک کسی بھی طورپر قابل برداشت نہیں ہے اور وہ اسسٹنٹ کمشنر چترال کی طرف سے معافی مانگنے تک اس احتجاج کو جاری رکھیں گے اور یہ علامتی ہڑتال لویر چترال اور اپر چترال کے اضلاع میں پھیلادی جائے گی۔انہوں نے مزید کہاکہ سینگور میں ڈاکٹرز کالونی کے کئی بنگلوں پر بھی ضلعی انتظامیہ نے قبضہ جمالیا ہے۔ ہسپتال میں اوپی ڈی سروس معطل اور ایمرجنسی کوریج رہا۔ اسسٹنٹ کمشنر چترال وقاص چودھری نے اپنا موقف بیان کرتے ہوئے کہاکہ ڈاکٹر شگفتہ اس کالونی میں گزشتہ 20سالوں سے غیر قانونی طور پر رہ رہی تھی کیونکہ یہ بنگلہ ان کے نام پر الاٹ نہیں ہوا تھا اور نہ ہی ان کی تنخواہ سے ہاؤس رینٹ کی کٹوتی ہوتی تھی۔

انہوں نے کہاکہ اس کاروائی میں تمام قانونی تقاضے پورے کئے گئے ہیں اور دو مرتبہ انہیں تحریری نوٹس پہنچادئیے گئے تھے جوکہ اس ماہ کی 8اور 15تاریخ کو جاری ہوئے تھے۔ انہوں نے کہاکہ ان کی ہدایت پر ایڈیشنل اےسی نے لیڈی کنسٹیبلز کے ذریعے بنگلے کے سامان کو ایک کمرے میں بند کردیا اور یہ کاروائی مکمل طور پر خاتون سپاہیوں کی مدد سے انجام پائی اور اس دوران کسی مرد افسر یا اہلکار نے بنگلے کے اندر قدم نہیں رکھا ۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔