زیر تعمیرایون کالاش ویلیز ا ین ایچ اے روڈ کیلئے قائم شدہ کمیٹی کے زیر اہتمام ایک غیر معمولی اجلاس ایون میں منعقد

چترال ( محکم الدین )زیر تعمیرایون کالاش ویلیز ا ین ایچ اے روڈ کیلئے قائم شدہ کمیٹی کے زیر اہتمام ایک غیر معمولی اجلاس جمعہ کے روز اے وی ڈی پی آفس ایون میں منعقد ہوا ۔ جس میں ایون سے بریر ویلی کی طرف جانے والی سڑک کی تعمیر سے متاثر ہونے والے زمین مالکان کو خصوصی طور پر بلایا گیا تھا ۔ اجلاس میں اکثر زمین مالکان نے شرکت کی ۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کمیٹی ممبران نے کہا ۔ کہ ایون کالاش ویلیز روڈ حکومت کی طرف سے علاقے کی تعمیرو ترقی کیلئے انتہائی اہمیت کا حامل ہے ۔ یہ روڈ جتنی جلدی تعمیر ہو ۔ سیاحتی، کاروباری اور معاشی طور پر علاقےپر بہت مثبت اثرات پڑیں گے ۔ اور علاقہ و خود زمین مالکان کو بہت فوائد حاصل ہوں گے ۔ اس لئے زمین مالکان سے گذارش ہے ۔ کہ وہ زمین کے معاوضے کا انتظار کئے بغیر علاقے کے بہتر مفاد میں سڑک کے تعمیری کام جاری رکھنے میں تعاون کریں ۔ کیونکہ خان آف مسکور کی اجازت سے ان کی زمینات میں سڑک کا کام پہلےہی سے جاری ہے ۔ اور مشینری موقع پر موجود ہیں ۔ اجلاس میں کہا گیا ۔ کہ جن لوگوں کی زمینات سڑک میں استعمال ہوں گے ۔ اس کا باقاعدہ ریکارڈ ضلعی انتظامیہ اور لینڈ سٹلمنٹ کے پاس محفوظ ہیں ۔ اسی کے مطابق ہرمالک زمین کو اس کی زمین کا معاوضہ ادا کیا جائےگا ۔ اس پر اجلاس میں موجود زمین مالکان نے متفقہ طور پر سڑک کی تعمیر کا کام اس جگہ پر شروع کرنےپر اتفاق کیا ۔ تاہم انہوں نے یہ مطالبہ کیا ۔ کہ سڑک کی زد میں آنے والی زمین کی پیمائش جو انتظامیہ کے پاس بطور ریکارڈ موجود ہے ۔ ہر مالک زمین کو معلوم ہونا چاہئیے ۔ تاکہ بعد میں اسی کے مطابق انہیں معاوضہ ادا ہو سکے۔ اس موقع پرکمیٹی کے جملہ ارکان چیرمین وی سی ایون ون وجیہ الدین ، چیرمین وی سی ایون ٹو محمد رحمان ، سابق ممبر جندولہ خان ، حاجی خیرااعظم ، سیدالدین (ڈپٹی) منیجر اے وی ڈی پی جاوید احمد انجینئیر این ایچ اے ، سابق چیرمین یو سی ایون محکم الدین وغیرہ موجود تھے ۔ زمین مالکان کی طرف سے اجازت اوررضامندی کے بعد ہفتے کے روز کام شروع کیا جائے گا ۔ ڈپٹی کمشنر چترال انوارالحق اس روڈ کا افتتاح کریں گے ۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔