جمعیت علماء اسلام ضلع چترال شدید اندرونی اختلافات کا شکار، ضلعی امیر و جنرل سیکرٹری بے بس، ایم پی اے لاتعلق

چترال(چترال ایکسپریس) ملک میں اس وقت سیاسی محاذ پر سب سے متحرک جماعت جمعیت علماء اسلام چترال میں شدید اندرونی اختلافات کا شکار ہے جسکی وجہ سے پارٹی کی پوزیشن روز بروز کمزور ہوتی جارہی ہے۔ تفصیلات کے مطابق جمعیت علماء اسلام کے اندرونی اختلافات کا آغاز اس سال مارچ میں منعقد ہونے والے بلدیاتی انتخابات کے موقع پر ہوا جب دونوں اضلاع میں ضلعی جماعت نے بلدیاتی انتخابات کے لئے مسلم لیگ نواز کے ساتھ اتحاد کیا۔ اس فیصلے کے بعد تحصیل دروش کے کابینہ اور انکے ہمراہ اسی فیصد اراکین نے اپنی جماعت کے ساتھ بغاوت کرکے جماعت اسلامی کے ساتھ اتحاد کا نعرہ بلند کرتے ہوئے انتخابات میں حصہ لیا۔ جمعیت علماء اسلام کے منحرف اراکین نے تحصیل امیر مولانا امین احمد کی قیادت میں ایک الگ دھڑے کی صورت میں پارٹی کے رکن و سابق ناظم شیر محمد کو میدان میں اتارا۔ جماعت کے ساتھ بغاوت کی پاداش میں ضلعی جماعت نے تحصیل دروش کے امیر مولانا امین احمد اور جنرل قاری فضل حق کو نہ صرف عہدوں سے برطرف کردیا بلکہ ان سمیت متعدد اراکین کی بنیادی رکنیت ہی ختم کردیاجبکہ تحصیل کی سطح پر ایک عبوری کابینہ تشکیل دی۔ الیکشن کے نتیجے میں نہ صرف جمعیت علماء اسلام کو تحصیل نشستوں سے ہاتھ دھونا پڑا بلکہ تحصیل دروش میں جماعت کی طرف سے نامزد اکثر بلدیاتی امیدواران بھی بری طرح ہار گئے۔ حال ہی میں جے یو آئی کے امیر مولانا عبدالرحمن نے تحصیل دروش کی سابقہ کابینہ کو بحال کرنے کے احکامات جاری کردیئے جسکے بعد انہی کی طرف سے تشکیل کردہ عبوری کابینہ یکسر ختم ہوگئی۔ جہاں جے یو آئی کے بحال ہونے والے اراکین نے اس فیصلہ پر مسرت کا اظہار کیا وہیں عبوری تحصیل کابینہ نے اسے مسترد کرتے ہوئے اپنی سرگرمیاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔ دونوں طرف سے آئے دن سوشل میڈیا کا سہارا لیکر ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی سرگرمیاں جاری ہیں۔حال ہی میں ضلعی امیر کے حکم سے بحال ہونے والے تحصیل کابینہ نے عبوری کابینہ کے چند افراد کو جماعت سے نکالنے کا اعلامیہ سوشل میڈیا پر جاری کردیا تو اسکے فوراً بعد عبوری کابینہ نے جماعت کے ساتھ بغاوت کا الزام لگا کر بحال کئے گئے تحصیل امیر مولانا امین احمد، جنرل سیکرٹری قاری فضل حق اور دیگر کو جماعت سے نکالنے کا اعلان کردیا۔
اس ساری صورتحال سے جمعیت علماء اسلام کے ضلعی امیر مولانا عبدالرحمن اور جنرل سیکرٹری حافظ انعام میمن یکسر لاتعلق ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ چترال کی سطح پر جمعیت پر انکی گرفت نہایت ہی کمزور ہے اور کارکنان کا اعتماد ان پر ختم ہو چکا ہے۔اس حوالے سے جماعت کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ رکن صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمن کھلم کھلا ضلعی نظم کے مخالف سمت میں محو سفر ہیں اور خود کو جماعتی معاملات سے یکسر لاتعلق رکھا ہوا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حال ہی میں ضلعی مجلس عمومی کے اجلاس کے ناکام ہونے کے بعد جمعیت کے چند سنیئر اراکین بشمول سابق ضلعی نائب ناظم مولانا عبدالشکور نے صوبائی قیادت کو ایک قرارداد ارسال کیا ہے جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ضلعی نظم کو فوراً توڑا جائے کیونکہ موجودہ کابینہ میں جماعت کو منظم انداز میں چلانے کی صلاحیت موجود نہیں۔
دوسری طرف واقفان حال کا کہنا ہے کہ جمعیت علماء اسلام کے اندر دھڑا بندی اور گروپ بندی اب منظم صورت اختیار کرچکا ہے، جمعیت کے اندر مجلس علماء کے نام سے ایک بظاہر غیر سیاسی نظم موجود ہے جس کے اراکین آپس میں متحد اور متفق ہیں، اس نظم کے اراکین ضلعی جماعت کی فرمانبرداری کے بجائے مجلس علماء کی قیادت پر زیادہ اعتبار اور اعتماد کرتے ہیں اور اس کا ثبوت حالیہ بلدیاتی انتخابات میں تحصیل دروش میں سامنے آگیا جب مجلس علماء سے منسلک اراکین نے کھل کر ضلعی جماعت کے سامنے سینہ تان لیا۔ اسی طرح حال ہی میں ایک اور تنظیم بھی وجود میں آچکی ہے جسکی قیادت سابق تحصیل ناظم مولانا محمد الیاس کر رہے ہیں اور اس میں بھی زیادہ تر اراکین جمعیت علماء اسلام کے ہیں۔
واقفان حال کا کہنا ہے کہ کارکنان کی کثیر تعداد ہونے اور بھرپور اسٹریٹ پاؤر ہونے کے باوجود اس وقت جمعیت علماء اسلام چترال میں سب سے کمزور قیادت والی جماعت مانی جاتی ہیں جس کے اراکین میں نظم و ضبط کا کوئی اصول نہیں، جزا و سزا کا کوئی عمل نہیں۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔