ڈی ایچ کیو ہسپتال چترال میں لیڈی ڈاکٹر سے سرکاری بنگلہ خالی کرانے کے خلاف احتجاج کرنے والے ڈاکٹروں کی چوتھے روز بھی ہڑتال جاری

چترال (نمائندہ چترال ایکسپریس )ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال چترال میں تعینات ایک لیڈی ڈاکٹر سے سرکاری بنگلہ خالی کرانے کے خلاف احتجاج کرنے والے ڈاکٹروں نے چوتھے روز بھی ہڑتال جاری رکھی جس سے ایمرجنسی کے علاوہ تمام شعبے بند رہے۔ ہڑتالی ڈاکٹروں کی طرف سے جاری کردہ ایک پریس ریلیزمیں مطالبات کا اعادہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ لیڈی شگفتہ کو بنگلے کی واپسی، اسسٹنٹ کمشنر چترال کی طرف سے معافی مانگنے اور دنین کے افیسر ز کالونی میں محکمہ صحت کے فنڈز سے تعمیر کردہ آٹھ بنگلوں اور ڈاکٹر ز کالونی سنگور میں کئی بنگلوں کو دوسرے محکمہ جات کے افسران سے خالی کرواکر انہیں واپس کرانا شامل ہیں۔انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہارکیاکہ ضلعی انتظامیہ ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مذاکرات سے پہلو تہی کررہی ہے۔ اس موقع پر انہوں نے ضلعی انتظامیہ کی طرف سے اس دعوے کو غلط قرار دیا کہ ڈاکٹر شگفتہ کو یہ بنگلہ الاٹ نہیں ہوا ہے اور نہ ہی وہ ہاؤس رینٹ دے رہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ لیڈی ڈاکٹر شگفتہ کے پے سلپ سے ہی واضح ہے کہ ان کے تنخواہ سے ہاؤس رینٹ کی ڈیڈکشن ہورہی ہے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔