پس و پیش… انصاف کی طلب… اے۔ایم۔خان

عدل کی بات بالکل اسی وقت جب، آب وہوا اور موسمی تبدیلی کی وجہ سے پاکستان میں سیلاب، بارش اور پانی کے ریلے سے جو  تباہی ہوئی، اس کی لہر  دنیا بھر میں احتجاج اور اقوام متحدہ کے اجلاس کے دوران اہم ایجنڈا  کے طور پر زیر بحث آئی،  جس کے حوالے سے وزیراعظم پاکستان اور وزیر خارجہ نے توجہ دلاکر اس بات پر زور دئیے کہ جو تباہی جانی ،مالی، پیداوار، انفراسٹرکچر اور دوسرے وسائل کی صورت میں اس سال ہوئے ان کا ازالہ کرنے کے ساتھ انصاف کیا جائے۔ اس اجلاس میں پاکستان کی طرف سے ‘کلائمٹ جسٹس’ پر زور دیا گیا۔
 دنیا کے 450 مقامات میں نوجوان اور کلائمٹ ایکٹوسٹس نے عین اسوقت احتجاج ریکارڈ کرنے کا فیصلہ کر چکے تھے جب اقوام متحدہ کے اجلاس کے لئے دنیا سے عالمی سربراہان نیویارک پہنچیں گے۔دنیا کے مختلف مقامات پر احتجاج ہوئے لیکن متحدہ ہائے امریکہ اس تحریک کا مرکز رہی۔  وال اسٹریٹ کے ایک مجمع سے خطاب کرتے ہوئے ، پاکستان کا حوالہ دے کر ،ایک اسپیکر کا کہنا تھا کہ بارش آسمان سے لیکن سیلاب امریکہ میں حرص، اور آپ کے راہنما کا تیل کی لت سے ہوجاتی ہے۔ احتجاج کرنے والے لوگ  ‘کلائمٹ جسٹس’  ‘پلنیٹ پروٹکشن ‘ اور ‘لوز اینڈ ڈمیج’ کے پلےکارڈ اٹھا رکھے تھے۔
ماضی کے حاشیے میں گلوبل نارتھ اور گلوبل ساوتھ کے الفاظ سے درج ، آج دنیا کے غریب ممالک ،جو افریقہ اور ایشیاء کے علاوہ دوسرے براعظم میں ہیں،  جو ترقی یافتہ ممالک کے صنعتی اور معاشی سرگرمیوں کی وجہ سے آب و ہوا اور موسمی تبدیلی کی وجہ سے جو نقصانات وہاں  رونما ہورہے ہیں ان کا ازالہ انہیں  کم کرنے اور  ان سے نمٹنے کیلئے حکمت عملی ، مالی معاونت کے ساتھ تکنیکی سپورٹ کا مطالبہ کر رہےہیں ۔
سچ تو یہ ہے کہ ترقی یافتہ ممالک زیادہ صنعتی پیداوار اور منافع کے درپے عالمی حدت اور، اس کے زیر اثر، جو نقصانات موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے غریب ممالک میں رونما ہو رہے ہیں اس کے لئے جوابدہ ہیں۔ انہی ممالک میں اس تبدیلی سے نمٹنے کیلئے طویل المیعاد حکمت عملی  کو عملی شکل دینے کی ضرورت ہے۔
پاکستان دنیا کے ان دس ممالک میں شامل ہے جو گلوبل وارمنگ اور کلائمٹ چینج کا سب سے زیادہ شکار ہے اور گلوبل رسک انڈکس کے مطابق یہ پانچ نمبر پر ہے۔  پاکستان کا حصہ کاربن اور دوسرے گرین یاوس گیسسز کے اخراج میں ایک فیصد سے بھی کم ہے اور تباہی سب سے زیادہ۔ جو تباہی اس سال ہوئی ، جانی نقصان کے علاوہ، اس کا تخمینہ 35 عرب سے بھی زیادہ لگایا جاتا ہے۔
چترال ،مختلف درے اور وادیوں پر مشتمل  ایک پہاڑی علاقہ جسمیں، ایک رپورٹ کے مطابق،  500 کے قریب چھوٹے بڑے گلیشیرز ہیں۔ یہ گلیشیرز عالمی حدت کی وجہ سے گزشتہ کئ سالوں سے پگھلنے ، پھٹنے اور اس سے بننے والے سیلاب کی تباہی سے  کم و بیش پورا علاقہ ہر وقت دوچار ہے۔ اس سال بارش اور سیلاب سے، ملک کے دوسرے علاقوں کی طرح، چترال میں لوگوں کے املاک،  پیداوار، پل ، سڑکیں، نہر اور روڈ وغیرہ کو تباہ ہوگئے ہیں۔ وہ علاقے جو سیلاب کی زد میں آئے وہ زندگی کی جنگ لڑ رہے ہیں اور جہاں نہر ، پانی ، روڈ  اور دوسرے ذرائع کو نقصان پہنچےوہاں لوگ  انہیں بحال کرنے میں لگے ہیں۔
چترال کیلئے صوبائی ، وفاقی اور عالمی سطح پر آب و ہوا اور موسمی تبدیلی کے اثرات کو کم کرنے، حالات سے نمٹنے اور نقصانات کا آزالہ کرنے کے حوالے سے خصوصی توجہ کی ضرورت ہے کیونکہ یہ علاقہ خطرناک زون میں واقع ہونے کے ساتھ اسکی جغرافیائی ہیئت اسے مزید زد-پذیر بنا دیتی ہے۔ یہاں کے لوگ بھی لوز اینڈ ڈیمج پر توجہ  دینے اور حالات سے نمٹنے کے حوالے سے طویل المیعاد حکمت عملی پر عملی کام کرنے اور کلائمٹ جسٹس کے طلبگار ہیں۔
اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔