چترال کی ایک اورمقامی زبان (کتہ ویری)میں کتب کی اشاعت

چترال(چترال ایکسپریس)کتہ ویری چترال میں بولی جانے والی چھٹی زبان ہے جس میں مقامی مصنفین نے مختلف موضوعات پر بہ یک وقت پانچ کتب شائع کی ہیں۔ کتہ ویری زبان افغانستان کی سرحد پر واقع چترال کے دیہات جیسے شیخاندہ (بمبوریت)، کون لشٹ (رومبور) اور گوبور میں لگ بھگ چھ ہزار لوگوں کی زبان ہے۔ کتہ ویری زبان کو کھوار بولنے والی آبادی ‘بشگالی وار’ کے نام سے جانتی ہے جبکہ خود کتہ ویری بولنے والے لوگ اپنی زبان کو ‘کاٹی’ کہتے ہیں۔ اس زبان کو چترال میں نورستانی زبان کے طورپر بھی تعارف کیا جاتا ہے کیونکہ کتہ زبان بولنے والوں کا اصل مسکن مشرقی افغانستان کا ضلع نورستان بتایا گیا ہے۔ کہتے ہیں کہ کتہ بولنے والے مختلف گروہوں کی صورت میں انیسویں صدی کے آواخر میں چترال آبسے۔یہ زبان سرحد کے دونوں جانب دیہات میں بولی جاتی ہے۔  افغانستان میں اس زبان میں تھوڑا بہت ادب موجود تھا لیکن اس زبان میں لکھنے کا کوئی یکساں نظام نہ ہونے کی وجہ سے چترال میں کتہ ویری بولنے والے مصنفین نے اپنی طرف سے اپنی زبان کیلئے لکھنے کا نظام متعارف کرانے کا کام شروع کیا۔

کتہ زبان بولنے والوں کو کھوار زبان کے استعمال میں کوئی مشکل پیش نہیں آتی تاہم انہیں اپنی زبان سے بے انتہا لگاؤ ہے۔ گزشتہ تین سالوں پر محیط اپنی کوششوں سے کتہ محقیقن نے ایف ایل آئی کی جانب سے منعقد کردہ مختلف تربیتی پروگرام میں شرکت کیں، ایف ایل آئی نے منظم انداز میں کام کرنے کیلئے انہیں ایک تنظیم کا پلیٹ فارم استعمال کرنے کی ترغیب دی تاکہ کتہ زبان کی ترقی کیلئے کئے جانے والے اقدامات کو عوامی پذیرائی ہزیرائی حاصل ہو۔ جس کے بعد کتہ محققین نے انجمن تحفظ کتہ ویری کا قیام عمل میں لایا۔ حروف تہجی اور مخصوص آوازوں کی تحریر کیلئے الفاظ کی نشاندہی کے بعد مزید تربیتی پروگرامز کی ضرورت پیش آئی تو ایف ایل آئی نے کتہ زبان کیلئے ایک سالہ پرجیکٹ کا آغاز کیا جس میں درجن بھر کتہ ویری محققین نے شرکت کرکے لسانی تدوین کی تربیت حاصل کرلی۔ پروجیکٹ کے اختتام پر مذکورہ محققین نے پانچ کتب منظر عام پر لائیں جن میں کتہ الف بے، کتہ زبان کی لوک کہانیاں، ضرب الامثال کی کتاب، اور اایک انگریزی ناول کے کتہ ویزی زبان میں ترجمے کے ساتھ کتہ ویری، اردو اور انگریزی بول چال کی کتاب بھی شائع ہوئیں۔ یہ سب کام کتہ ویری زبان میں لکھائی کے نظام کا متعارف ہونے اور اس زبان کو کمپیوٹر پر لکھنے کے قابل بنانے کی وجہ سے ممکن ہوئے جن کیلئے ایف ایل آئی کی طرف سے تربیت اور تکنیکی مدد ہوئی مگر سب سے زیادہ کریڈٹ کتہ ویری زبان کے ان محققین کو جاتاہے جنہوں نے تین سال کی مختصر مدت میں اپنی زبان کو تحریری شکل دی۔ کتہ ویری زبان کے اولین مصنفین خصوصی طورپر ناصر منصور، فضل اکبر اور نجم الحق اور دیگر محققین جنہوں اپنی تنظیم کے تحت محنت کی وہ سب مبارکباد کے مستحق ہیں۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔