چترال ٹاون گولدور میں ایک بچی کے مبینہ اغوا کی حقیقت سامنے آگئی ،جو کہ غلط فہمی کا نتیجہ ثابت ہوا

چترال میں بچوں کے اغواء سمیت گھناونے جرائم کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ڈی پی او چترال لوئر سونیہ شمروز خان

چترال (ظہیر الدین سے ) گزشتہ دن گولدور میں ایک بچی کے مبینہ اغوا کی حقیقت سامنے آگئی جو کہ غلط فہمی کا نتیجہ ثابت ہوا۔ ڈی پی او لویر چترال سونیہ شمروز خان نے تھانہ چترال میں میڈیا کو بتایا کہ وقوعہ کے روز ریحان کوٹ سے تعلق رکھنے والی ایک جوانسال خاتون جو گولدور کے قریب بازار میں واقع ایک دکان سے سودا لینے کے لئے جاتی ہوئی گلی میں کھیلنے والی ایک بچی کو ساتھ لے گئی اور ابھی دکان سے نکل رہی تھی کہ بچی کا چچا عبدالخالق وہاں پہنچ گئے اور خاتون سے پوچھ گچھ شروع کردی اور اسی اثناء ریحان کوٹ کا باشندہ ارسلان ولد خولان وہاں پہنچ کر عبدالخالق کے ساتھ گتھم گتھا ہوگئے جس کے دوران خاتون ڈر کے مارے موقع سے غائب ہوگئی۔ انہوں نے بتایا کہ عبدالخالق کی درخواست پر پولیس نے ارسلان کو حراست میں لےکر ان کا بیان لینے کے بعد مبینہ اغوا کار خاتون کی تلاش شروع کردی تھی۔ ڈی پی او نے کہا کہ بچی کے چچا اور خاتون کے خاندان والوں نے باہم گفت وشنید کی اور اس کوغلط فہمی کا نتیجہ قرار دیا ۔ تھانے میں موجود عبدالخالق نے بھی میڈیا کے سامنے اس بات کی تصدیق کردی اور کہا کہ ان کا خاتون کے خلاف غلط فہمی دور ہوگئی ہے ۔ اس موقع پر ایس ڈی پی او چترال سعید الرحمن بھی موجود تھے۔ ارسلان کو بھی میڈیا کے سامنے پیش کیا گیا جس نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ عبدالخالق کو اس بات کی طرف مائل کرنے کی کوشش کررہا تھا کہ وہ خاتون سے بھری بازار میں تفتیش کرنے کی بجائے اسے دکان سے باہر لےجائے کہ اس بات پر ان میں ہاتھا پائی ہوگئی۔ ڈی پی او نے کہا کہ چترال میں بچوں کے اغواء سمیت گھناونے جرائم کی کوئی گنجائش نہیں ہے اور یہاں کی ہردم ہوشیار اور ذمہ دار سول سوسائٹی کی مدد سے ایسے واقعات کو رونما ہونے نہیں دیں گے اور اپنی طرف سےکوئی ٹھوس قدم لینے میں کوئی کسر نہیں چھوڑدیں گے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔