بلچ شوتار مہتر چترال کے حق میں فیصلہ ہواہے , اعلی عدلتوں نےانتظامیہ کی اپیلوں کو خارج کیاہے وقاص احمد ایڈوکیٹ

چترال(محمدرحیم بیگ سے)بلچ شوتار سے متعلق ڈپٹی کمشنر لوئر چترال کے ایک نوٹیفیکشن جس میں بلچ شوتار کو سرکاری ملکیت قرار دیا گیا ہے۔ پر اظہار خیال کرتے ہوئے معروف قانون دان وقاص احمد ایڈوکیٹ نے کہا ہے کہ بلچ شوتار جس کو ریوربیڈ کہا جا رہا ہے ۔کے سلسلے میں ایک مقدمہ اہالیاں بلچ بذریعہ نماٸندہ ظفر علیشاہ مہتر چترال کے خلاف سٸنیرسول جج چترال میں داٸر کیاگیا تھا۔ اس میں ڈپٹی کمشنر سرکار کی طرف سے ریوربیڈ کا موقف لیکر فریق بنا تھا ۔ جسے سنیر سول جج چترال نے مہتر چترال کے حق میں فیصلہ دیا۔ تو اس فیصلے کے خلاف سابق ڈی سی اور اھالیان بلچ نے ڈسڑکٹ اینڈ سیشن جج کی عدالت میں اپیل کے ذریعے چیلنچ کیا۔ مگر وہاں بھی ان کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا ۔ اور سیشن جج چترال نے اپیل خارچ کرکے مہتر کے حق میں فیصلہ دیا۔ اس فیصلے کے بعد ظفر علی شاہ و اھالیان بلچ نے تو ہاٸی کورٹ میں چیلنچ نھیں کیا ، مگر ڈی سی چترال نے ہاٸی کورٹ میں فیصلے کو چیلنچ کیا ۔ مگر ڈپٹی کمشنر وہاں بھی ناکام ہوئے اور ہاٸی کورٹ نے بھی مہتر کے حق میں فیصلہ دے دیا۔مگر فیصلے کو ڈی سی چترال نے سپریم کورٹ میں چیلنچ کیا۔ جہاں کاروائی جاری تھی ، کہ اس دوران سپریم کورٹ میں محکمہ ایریگیشن اور سرکار نے بذریعہ ڈی سی ھاٸی کورٹ میں فراڈ اور دھوکہ دہی قرار دیکر 12:2 cpc کے تحت فیصلے کو چیلنچ کیا۔ تو سپریم کورٹ نے ایک بار پھر ڈی سی چترال کی پیٹشن خارچ کرتے ہوئے ہاٸی کورٹ کو تین مہنوں کے اندر 12:2 کی درخواست نمٹانے کا حکم دیا ۔ جس پرمزید کاروائی کے بعد ہاٸی کورٹ نے 11ستمبر 2022 کو مہتر چترال کے حق میں فیصلہ دیکر درخواست خارچ کردی۔ وقاص احمد ایڈوکیٹ نے کہا ۔ کہ ابھی بلچ شوتار کے بابت کسی بھی عدالت میں کوٸی مقدمہ زیر سماعت نھیں ہے ۔ اور عدالت نے یہ حکم دیا تھا کہ بلچ شوتار( ریوربیڈ) نھیں ،مہتر چترال کی ملکیتی مقبوضہ زمین ہے جو دریا چترال میں سیلاب کی وجہ سے شوتار کی شکل اختیار کیا ہے ۔لہذا شکار پر پابندی کے بارے میں جو حکم ڈی سی چترال صادر کرتا ہے ۔ وہ ڈی سی کا نہیں ، محکمہ واٸلڈ لاٸف کا معاملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلچ شوتار سرکاری ریوربیڈ نھیں بلکہ مہتر کی ملکتی مقبوضہ جاٸداد قرار دیا گیا ہے ۔ تاہم اگر ڈی سی چاہے تو تمام فیصلہ جات ان کو مہیا کئے جا سکتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ڈپٹی کمشنر کو کسی نے غلط قانونی مشورہ دیا ہے۔ تاہم اگر وہ چاہیں تو سکشن crpc144سب سکشن 4 کے تحت اپنا فیصلہ Reverse alter modify کر سکتے ہیں۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔