چترال کو گرین بیلٹ میں تبدیل کرنا ہمارا مشن ہے ۔ ڈھلوان اور سیلاب زدہ زمینات کو ہموار کرنا ، پانی فراہم کرکے قابل کاشت بنانا ہمارا عزم ہے ۔ ڈی جی یاسین سائل اینڈ واٹر کنزرویشن ۔

چترال ( چترال ایکسپریس )جہان بھی ادارے اور عوام مل کر کام کرتےہیں وہاں پراجیکٹ کی کامیابی یقینی ہوتی ہے محکمہ سائل اینڈواٹرکنزرویشن ڈیپارٹمنٹ خیبرپختونخوا ڈھلوان اورسیلاب زدہ زمینوں کوکاشت کاری کے لئے ہموارکرکے پانی کے ذخائر اوربعض مقامات پرقدرتی چشمہ جات کوآب رسانی کی ضرورت کوپوراکرنے کے لئے واٹرٹینک بھی بنائے جارہے ہیں ۔ان خیالات کااظہار ڈائریکٹر جنرل سائل اینڈ واٹر کنزرویشن خیبر پختونخوا محمد یاسین خان وزیر نے دو لومس لوئرچترال کے مقام پرمائیکرو واٹر شیڈ پراجیکٹ کے افتتاح کے موقع پرکیا۔اس موقع پروائس چانسلریونیورسٹی اف چترال پروفیسرڈاکٹر محمدظاہرشاہ ، ڈائریکٹر چترال آفس امین الحق ،ضلعی فیلڈ افیسرچترال مجیب الرحمن ،(ر)کرنل شہزادہ شریف ،شہزادہ ریاض ،فیمل اسٹاف اوردوسرے موجودتھے
ڈی جی محمدیاسین نے بتایاکہ اس مائیکروواٹرشیڈمنیجمنٹ پراجیکٹ کے تحت 119ایکڑبنجرزمین کوزرعی زمین میں تبدیل کیاجائے گا۔پاکستان ایک زرعی ملک ہونے کے باوجودپیدواری لحاظ سے آج بھی خودکفیل نہیں ہے۔ اس مسئلے کے حل کےلئے سابقہ حکومت نے وزیراعظم زرعی ایمرجنسی کے تحت ایک پروگرام شروع کروایاتھا ۔جومحکمہ تحفظ اراضیات اورواٹرکنزرویشن ان بارانی ایریاخیبرپختونخوا کے نام سے متعارف ہوا ہے ۔دولومس لوئرچترال کے اس منصوبے میں واٹرٹنک بناکرپانی کواسٹورکیاجائے گا۔ اوراس پراجیکٹ میں کل 60 لاکھ روپے کی لاگت آئے گی جس میں 10 لاکھ روپے مقامی کمیونٹی اداکرے گی اور50 لاکھ روپے محکمہ سائل کنزرویشن خیبرپختونخوا کی فنڈسے خرچ ہوگی۔بنجرزمین کوہموارکرکے اس میں جنگلی اورپھلدارپودے لگائیں جائیں گے۔

اس موقع وائس چانسلریونیورسٹی آف چترال پروفیسر ڈاکٹرظاہرشاہ نے کہاکہ سائل اینڈ واٹرکنزرویشن ڈیپارنمنٹ کامشکورہوں کہ انہوں نے چترال قدرتی وسائل کوبچانے کی ہرممکن کوشش کررہے ہیں۔ یہاں کے سارے پہاڑویران پڑے ہیں ان پر اگرشجرکاری کی جائے تو درجہ حرات میں بھی کمی آئے گی۔ اورقدرتی آفات بھی کم ہوں گے ۔انہوں نے یونیورسٹی آف چترال کی طرف سے ہرممکن تعاون کی یقین دہانی کرتے ہوئے کہاکہ میں خود ایگریکلچر کاایک حصہ ہوں جہاں بھی ہماری رہنمائی کی ضرورت ہوجائے ہم تیارہیں ۔شجرکاری سے ہمارے درجہ حرات میں بھی کمی آئے گی اورقدرتی آفات بھی کم ہوں گے۔
ڈی جی سائل کنزرویشن یاسین خان وزیر نے بتایا کہ چترال زرخیز علاقہ ہے اور قدرت نے جہاں اس کے پھلوں میں خاص مٹھاس رکھ دی ہے چترال میں زمین کی کمی ہے اور جہاں زمین دستیاب ہے وہاں بارشوں کی کمی کے باعث پانی کے مسائل ہیں اس لئے ہماری کوشش ہے کہ دستیاب کم پانی کو سٹور کرکے زرعی مقاصد کیلئے استعمال کریں۔ چترال کی زمین پھلداردرخت اوردوسرے فصلوں کے لئے انتہائی اہم ہے یہاں زیتون،اخروٹ ،زعفران دوسرے پھلداردرخت لگاکریہاں کے باسیوں کومالامال کریں گے ۔انہوں نے کہاکہ اس مقصد کے لئے 80 فیصد فنڈ محکمہ تحفظ اراضیات فراہم کررہاہے جبکہ بقایا20فیصداخراجات متعلقہ کاشت کارفراہم کرکے تمام رقم خودان کے ہاتھوں خرچ کیاجاتاہے تاکہ اس میں شفافیت کاعنصربرقراررہے ۔کاشت کاراپنی زرعی زمینوں سے بھرپورفائدہ اُٹھانے کے لئے محکمہ تحفظ اراضیات کے ماہرین سے رابطہ رکھتے ہوئے ان کی خدمات سے استفادہ حاصل کرسکتے ہیں۔ ڈی جی سائل اینڈ واٹر کنزرویشن خیبر پختونخوا محمد یا سین خان وزیرنے ڈائریکٹر چترال آفس امین الحق اور فیلڈ افیسرچترال مجیب الرحمن کی کارکردگی کوسراہتے ہوئے کہا۔کہ چترال میں جانفشانی سے کام میں مصروف ہے لویر اور اپر چترال کے مختلف علاقوں میں درجنوں منصوبےکامیابی سے جاری ہیں جوان کی محنت کانتیجہ ہے۔

ڈائریکٹر محکمہ سائل اینڈواٹرکنزرویشن چترال امین الحق نے کہاکہ ہمارے ڈیپارمنٹ تک رسائی ایک عام آدمی کے لئے بھی انتہائی آسان ہے ایک سادہ کاغذمیں درخواست لکھ کرزمین کی تفصیل درج کرکے جمع کرتے ہیں جس کے بعدہمارے جی ایس ٹیم جاکرزمین کی پیمائش کرکے مختصرمدت میں درخواست گزار کامسئلہ حل کرسکتے ہیں ۔اس پراجیکٹ کے تحت بارش سے جمع ہونے والے پانی سے بنجر زمینوں کو قابل کاشت بنایا جاتاہے اور پانی کوواٹرٹینگ بناکرمحفوظ کرکے فصلوں کے ساتھ مال مویشی اور گھریلو ضروریات کے لئے بھی استعمال کازریعہ بناتے ہیں۔انہوں نے مزیدکہاکہ جی ایس سروے کے بعد کسانوں کو اپنی زمینوں پرسفارش کردہ فصلیں اگانے کی ترغیب دی جائے گی۔جس کے نتیجے میں ملک کے زرعی شعبے میں آمدن بڑھانے میں مدد ملے گی۔انہوں نے کہاکہ دولومس مائیکرو واٹر شیڈ کے ساتھ چیک ڈیمز کی تعمیر ، جنگلی اورپھلدار درخت لگانے ساتھ ساتھ زمین کوسرسبز اور کار آمد بنانا شامل ہیں ۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔