تازہ ترینمضامین

والدین کی قدردا نی…. تحریر: اقبال حیات اف برغذی

شاہی جامع مسجد چترال کے خطیب محترم خلیق الزمان صاحب نے جمعے کے دن اپنی تقریر کے دوران معاشرے میں ابھرتے ہوئے بگاڑ پر سیر حاصل روشنی ڈالتے ہوئے اولاد کی طرف سے اپنے والد کو “نائیک” نام سے موسوم کرنے کے رجحان پر آہ بھرتے ہوئے افسوس کا اظہار کئے۔ جو یقیناً اپنی نوعیت کے اعتبار سے ہماری معاشرتی زندگی کے معاملے میں لمحہ فکریہ ہے ۔وہ والدین جن کی آغوش محبت میں اولاد پروان چڑھتا ہے ۔جو اپنی راتوں کی نیندیں ان کے لئے حرام کرتے ہیں ہر وقت ان کی خیروعافیت اور کامیابی وکامرانی کے لئے دست بدعا اوران کے ہر قسم کے دکھ درد اپنے سر لینے کے لئے تیار ہوتے ہیں۔ کسی مہم یا سفر پر جانے کی صورت میں ان کے لئے فکر مند رہتے ہیں ۔واپسی پراپنی نظریں ان کے چہرے پر مرکوز کرکے لطف اندوز ہوتے ہیں۔اپنے ارمانوں کی دینا کی بنیاد پر ان کی ہریالی کے لئے ہمہ وقت سرگرم عمل رہتے ہیں ۔دنیا کے کامیاب ترین انسانوں کے ناموں سے انہیں منسوب کرتے ہیں خوبصورت تریں توصیفی الفاظ چن کر ان کے گلے کا ہار بناتے ہیں۔ چہرے پر پریشانی کے آثار دیکھ کر پروانہ ان پر فدا ہونے کے لئے تیار ہوتے ہیں۔

افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ان تمام خدمات اور احساسات کا صلہ آج کے معاشرے میں نوجوان اولاد کی طرف سے تحقیر وتضحیک کی صورت میں ملتا ہے۔ ازدواجی زندگی کے بندھن میں جڑنے کے بعد والدین کا تقدس شریک حیات کے قدموں تلے روندھا جاتا ہے۔اور بڑھاپے کی کمزوری پر ترس کھاکر اپنے بچپن کو یاد کرکے سہارا بننے کا تصور خواب کی کیفیت سے دوچار ہے ۔پیار ومحبت سے والدین کے چہرے کی طرف نظر اٹھاکر دیکھنے سے حج کے برابر ثواب کا اسلامی تصور عملی صورت میں دیکھنے کو نہیں ملتا اور موبائل پر ہمہ وقت مرکوز نظریں اس سعادت کے حصول کے لئے موقع ہی نہیں دیتے۔ والدین کے سامنے “اُف” تک نہ کہنے کا قرآنی حکم کسی کام کے سلسلے میں سرزنش پراینٹ کا جواب پتھر سے دینے کی صورت میں نظر آتا ہے۔

پھر بھی اس دور کو سائنسی ارتقاء اورعلم ودانش کا دور کہا جاتا ہے۔ اوردَور پارینہ کو جہالت اورتاریکی کے دور سے تعبیر کیا جاتا ہے حالانکہ ماضی کو اگرانسانی اخلاق اور شرافت کی روشنی سے منور دورکہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ بڑوں کا احترام اور قدردانی ،باہمی محبت اور ہمدردی ایک دوسرے کے دکھ درد میں شرکت ،حسد،بعض اور کینہ کے امراض سے پاک معاشرتی زندگی کے اندر ہر کوئی اپنی حالت پر شاکراورصابر ہوتا تھا۔اور آج کی علمی ارتقاء کے دور میں ہر کوئی مادہ پرستی کے بدترین مرض کا شکار ہونے کی وجہ سے انسانی اقدار پاوں تلے روندے جاتے ہیں۔ انسانیت ،شرافت،اخلاق اور باہمی محبت کے اوصاف قصہ پارینہ بن گئے ہیں۔میرے دور میں سے زمانہ جتنا دور ہوتا جائے خیالات قاسد ہوتے جائینگے جیسے ارشاد نبویﷺ کی حقانیت واضح طور پر نظر آتی ہے۔ اور ماضی سے آگاہی کی بنیاد پر دل میں آرزو مچلتا ہے کہ        “کوئی لوٹا دے مجھے میرے بیتے ہوئے دن “

زر الذهاب إلى الأعلى
Ads Blocker Image Powered by Code Help Pro

Ads Blocker Detected!!!

We have detected that you are using extensions to block ads. Please support us by disabling these ads blocker.

Powered By
100% Free SEO Tools - Tool Kits PRO

اشتہارات بند کیوں ہیں؟۔

براہِ کرم ہمارے پلیٹ فارم کو سپورٹ کرنے کے لیے اشتہارات کو روکنے والی ایپ بند کر دیں۔ آپ کی معاونت ہمارے لیے اہم ہے۔