چترال کے ممتاز ادیب و شاعر جہاندار شاہ جہاندارکا نیوزی لینڈ کے وزیر اعظم کے نام لکھی گئی کتاب ” جیسنڈو نامہ” کی تقریب رونمائی

چترال (چترال ایکسپریس )چترال کے معروف ادیب و شاعر و مصنف جہاندار شاہ جہاندار کا کھوار شعری مجموعہ جسے انہوں نے نیوزی لینڈ کے کرائسٹ چرچ کی مسجد میں دہشت گردی میں جان بحق ہونے والے مسلمان خاندانوں کے ساتھ وزیر اعظم نیوزی لینڈ جیسنڈرا آینڈرن کی دلی ہمدردی اور غمگساری کے کردار سے متاثر ہوکر شاعری کی زبان میں ان کیپ مدح سرائی اور قصیدہ گوئی کو کتابی شکل دی تھی ۔ کی تقریب رونمائی ہفتے کے روز ٹاون ہال چترال میں منعقد ہوئی ۔ اس کھوار شعری مجموعے کا انگریزی ترجمہ یونیورسٹی آف چترال کے انگریزی کے پروفیسر اور ادیب و شاعر ظہور الحق دانش کیا ہے ۔ تقریب رونمائی کے مہمان خصوصی چترال کے معروف علمی شخصیت اور آغا خان ایجوکیشن کے سابق منیجر لیاقت علی تھے ۔ جبکہ صدر محفل کے فرائض ادیب و شاعر شہزادہ فہام عزیز نے انجام دی ۔ دیگرمہمانوں میں انجمن ترقی کھوار چترال کے سابق صدر و معروف قانون دان عبد الولی خان ایڈوکیٹ ، موجودہ صدر انجمن شہزادہ تنویرالملک ایڈوکیٹ اور صاحب کتاب جہاندار شاہ جہاندار کے علاوہ ادباء و شعراء اور زبان و ادب سے محبت رکھنے والوں کی بڑی تعداد موجود تھی ۔ تقریب کی نظامت کے فرائض مترجم کتاب ظہورالحق دانش نے انجام دی ۔ کتاب پر فرید احمد رضا ، محمد عرفان عرفان ، پرووسٹ چترال یونیورسٹی ڈاکٹر تاج الدین شرر ، ظہورالحق دانش ، عنایت اللہ اسیر ،عبد الولی ایڈوکیٹ نے اپنے مقالات پیش کرتے ہوئے خطاب میں کہا ۔ کہ جہاندار شاہ جہاندار کو وزیر اعظم نیوزی لینڈ کی ان صفات و کردارنے مدح سرائی پر مجبور کیا ۔ جو انہوں نے دہشت گردی کی بھینٹ چڑھنے والے شہدا کے غمزدہ خاندانوں کے ساتھ بلا امتیاز اپنے غم و رنج کا نہ صرف اظہار کیا ۔ بلکہ ان کا ہر کردار وزیر اعظم کی حیثیت کے علاوہ ایک ماں اور بہن کی صورت میں محبت و شفقت سے بھر پور تھی ۔ اور ان کے ہر فعل سے غمگساری اور رحم کے آنسو چھلک رہے تھے ۔ جو کہ پوری دنیا کے رہنماوں کیلئے قابل تقلید ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جہاندار شاہ نے اس کتاب کے ذریعے مغرب والوں خصوصا نیوزی لینڈ کو یہ پیغام دیا ہے۔ کہ ایشیا ئی ادیب تنگ نظر اور متعصب نہیں ہیں ۔ وہ ہراس اچھے کردار کے مالک شخصیت کی قدر کرنے اور اس کی تعریف کرنے میں بخل نہیں کرتے۔چاہے اس کا تعلق کسی بھی مذہب یا ملک سے کیوں نہ ہو ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ جہاندار شاہ ایک جہان دیدہ شاعر و ادیب ہیں ۔ جنہوں نے پندرہ مارچ دو ہزار انیس کونیوزی لینڈ کی ایک مسجد میں ایک سفاک قاتل کے ہاتھوں دہشت گردی کا واقعہ کے رونما ہونے کے بعد اس ملک کے وزیر اعظم جیسنڈرا اینڈرن کے غم ، احساسات اور افعال کو باریک بینی سے دیکھا اور اپنے دل سے محسوس کیا کہ ان کا کردار نہایت ہی قابل تعریف و تقلید ہے۔ انہوں نے کہا ۔ کہ جہاندار ایک فکری شاعر ، انسانی تعلقات کا نہایت باریک بین اور انتہائی حساس شخصیت ہے ۔ جس نے تمثیل نگاری میں کمال کیا ہے۔ انہوں نے شعری مجموعے کو بہترین انداز میں انگریزی ترجمہ کرنے ، شعری لطافت کو برقرار رکھنے پر پروفیسر ظہورالحق دانش کی تعریف کی ۔ اور کہا کہ یہ کتاب ہمیں پوری دنیا کو دیکھانا ہے ۔ کہ جہان بھی انسانیت کی خدمت کی جائے۔ چترال کے ادیب و شاعر بلاتفریق مذہب اس کی تعریف کرتے رہیں ۔ مقررین نے اس امرپر زور دیا ۔ کہ اس کتاب کا اردو میں بھی ترجمہ کیا جائے۔

مہمان خصوصی لیاقت علی نے اپنے خطاب میں کہا  کہ چترال کے شعرا انتہائی باصلاحیت ہیں ۔ جس کا واضح ثبوت موجودہ شعری مجموعہ ہے ۔ انہوں نےبہترین شعری شاہکار کتابی صورت میں یش کرنے پر صاحب کتاب جہاندار شاہ جہاندار اورمترجم ظہور الحق دانش کی تعریف کی ۔

صاحب کتاب نے اپنے خیالات کا اظہار کرتےہوئےکہا کہ میں حساس انسان ہوں۔ نیوزی لینڈ کے واقعے نے جہاں مجھے متاثر کیا ۔ وہاں نیوزی لینڈ کے وزیر اعظم کا غمزدہ خاندانوں کے ساتھ سلوک و ہمدردی اور مسلمانوں کے جذبات کا احساس اور غمگساری نے مجھے اور بھی سوچنےپر مجبور کیا ۔ یوں میرے دل نے مجھے جھنجوڑا۔ اوریہ شعری مجموعہ کتابی شکل میں منظر عام پر آنےکاسبب بنا ۔ انہوں نے کہا کہ پہاڑوں کی گود میں شاید میرے اس مجموعے کو انگریزی میں ترجمہ کئے بغیر اتنی پزیرائی نہ ملتی ۔ یہ سہرا پروفیسر ظہورالحق دانش کے سرہے ۔

صدر محفل شہزادہ فہام عزیز نے کہا  کہ یہ شعری مجموعہ چترال کے لوگوں کی امن پسندی اور انسانیت سےمحبت کو واضح کرتا ہے ۔ یہاں کے لوگوں کا دہشت گردی اور قتل و غارت گری سے کوئی لینا دینا نہیں ۔ میں صاحب کتاب کا شکریہ ادا کرتا ہوں ۔ کہ انہوں نے بین الاقوامی طور پر چترال کی نمایندگی کی ۔

صدر انجمن ترقی کھوار شہزادہ تنویر الملک نے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کیا ۔ قبل ازین چترال کےمعروف فنکار انصار الہی نے محمد عرفان عرفان کا کھوار میں لکھا ہوا قصیدہ بردہ شریف پڑھ کر حاضرین سے زبردست داد وصول کی ۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔