
کہا جاتا ہے کہ ملک کی معیشت تباہی کے دہانے پر ہے اور پاکستان ڈیفالٹ ہونے کے قریب ہے ۔ آئی ایم ایف سے ملنے والا قرضہ بھی تعطل کا شکار ہے اور اس کے لئے نئی نئی شرائط پیش کی جارہی ہیں ۔ دوست ممالک نے بھی ہم سے منہ پھیر لیا ہے ۔ بجلی ، تیل اور گیس کی قیمتوں میں ہوشرباء کی وجہ سے سینکڑوں کارخانے بند ہوچکے ہیں جس کی وجہ سے وہاں کام کرنے والے ہزاروں ملازمین بے روزگار ہوچکے ہیں ۔ زرعی ملک ہونے کے باوجود ہم گندم، دالیں ، سبزیاں ، پھل اور کوکنگ آئل بھی درآمد کرتے ہیں ۔ المیہ یہ ہے کہ ملکی وسائل کا خاطر خواہ حصہ تیل کی خریداری پر خرچ ہوتا ہے ۔ اورماہانہ اربوں روپے مالیت کا تیل ارباب اختیار و اقتدار کو مفت ملتا ہے ۔ ہر وزیر،وزیر مملکت، مشیر، معاون خصوصی اور گریڈ سترہ سے اوپر کے افسروں کو چار چار گاڑیاں ملی ہوئی ہیں جن میں استعمال ہونے والا تیل قرضوں سے حاصل کیاجاتا ہے اور ان قرضوں کو سود سمیت عوام سے اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ کرکے وصول کیا جاتا ہے ۔ جب بجٹ پیش کیاجاتا ہے تو وہ خود بجٹ بنانے والے کی سمجھ میں بھی نہیں آتا ۔ بجٹ محض الفاظ اور اعدادوشمار کا گورکھ دھندہ ہوتا ہے ۔ جس کا زمینی حقائق سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہوتا ۔ معیشت کو کیسے ٹھیک کرنا ہے اس کی کسی کو سمجھ نہیں آتی ۔ کیونکہ ہماری معیشت کی بنیادیں ہی غلط زمین پر رکھی گئی ہیں ۔ دین اسلام نے زکواۃ کا جو نظام قائم کیا ہے جس کا مقصد دولت کا ارتکاز روکنا ہے ۔ موجودہ دور میں ارتکاز دولت بیشتر معاشرتی خرابیوں کی بنیاد بن گئی ہے ۔ دولت جمع کرنے کے ہوس میں لوگ اقدار،اخلاقیات ، قانونی ضابطوں کو بھی پامال کرتے ہیں ۔ منشیات کے کاروبار، زمینوں پر قبضے، مالی کرپشن اور لوگوں کے حقوق چھین کر دولت جمع کرنا زندگی کاسب سے بڑا مقصد بن گیا ہے ۔ لوگوں کو معلوم ہے کہ کل کا ٹٹ پونجیا کن ذراءع سے ناجائزدولت جمع کرچکا ہے بڑے بڑے پلازے، عالیشان محل بنا چکا ہے بڑی بڑی گاڑیوں میں پھیرتا ہے ۔ لوگ اس کی دولت سے اتنے مرغوب ہوتے ہیں کہ اس کا سماجی مقاطعہ کرنے کے بجائے اس کے ساتھ عزت و تکریم سے پیش آتے ہیں ۔ ہمارے اسی رویے کی وجہ سے ناجائز طریقے سے دولت جمع کرنے کا رواج پروان چڑھ رہا ہے کرپٹ لوگ اپنی ناجائز دولت کے بل بوتے پراعلیٰ عہدوں پر فائز ہوتے ہیں اور ان عہدوں کو دولت میں مزید اضافے کا ذریعہ بناتے ہیں ۔ آج پاکستان پر عالمی بینک، آئی ایم ایف، ایشیائی ترقیاتی بینک، اسلامی بینک، پیرس کلب اور دیگر مالیاتی اداروں اور متمول ممالک کے جتنے قرضے چڑھے ہوئے ہیں ان قرضوں سے سینکڑوں گنا زیادہ پاکستانیوں کی دولت ملک سے باہر بینکوں اور آف شور کمپنیوں میں پڑی ہے ۔ اگر یہ دولت پاکستان لائی گئی تو نہ صرف ہمارے تمام بیرونی قرضے ختم ہوسکتے ہیں بلکہ ہم دوسروں کو قرضہ دینے کی پوزیشن میں آسکتے ہیں ۔ مگر بیرون ملک منتقل کی گئی یہ دولت کون واپس لائے گا ۔ جن لوگوں نے اس کے لئے قانون سازی کرنی ہے انہی کی دولت باہر پڑی ہے ۔ بھلا اپنی ٹانگ پر کون کلہاڑی مارے گا ۔ چونکہ اس حمام میں سارے ہی برہنہ ہیں اس لئے ایک دوسرے کو بے نقاب کرنے کے اعلانات کے باوجود پردہ پوشیاں کر رہے ہیں کیونکہ دوسروں کو بچانے میں ان کا اپنا مفاد پوشیدہ ہوتا ہے ۔ ہمارے سیاست دان اور بیوروکریٹ آج بھی عوام کو سادہ گل سمجھتے ہیں حالانکہ سوشل میڈیا نے عام لوگوں کو اتنا زیادہ ایجوکیٹ کیا ہے کہ ان کے پاس ایک ایک چیز کی حقیقت معلوم ہے ۔ ایک طرف کہا جارہا ہے کہ خزانے میں ملازمین کو تنخواہیں دینے کے لئے پیسے نہیں ہیں دوسری جانب اربوں روپے کے منصوبوں کے اعلانات کئے جارہے ہیں ۔ جبکہ حکومت چند دنوں یا ہفتوں کی مہمان ہے ۔ بہترہوگا کہ عوام سے تازہ مینڈیٹ لیا جائے اور عوام بھی ایسے لوگوں کو ووٹ کے ذریعے منتخب کریں جو عوام میں سے ہوں اور عوام کے مسائل کا ادراک اور انہیں حل کرنے کا جذبہ رکھتے ہوں ۔
