قومی مفاد پر محاذ آرائی…محمدشریف شکیب

دستور پاکستان میں اٹھارویں ترمیم کے مرکزی کردار ، سینئر سیاست دان و قانون دان رضا ربانی نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ تنہااور بے اختیار ہے کیونکہ پارلیمنٹ کے اختیارات پر ایگزیکٹیو نے قبضہ کرلیا ہے۔غیرملکی سرمایہ کاری تحفظ بل کے مسودے پر سپریم کورٹ سے رائے طلب کی گئی۔ایک بل کے مسودہ پر سپریم کورٹ نے کیسے رائے دی، جو ابھی پارلیمنٹ اور اسمبلی میں پیش ہونا تھا۔وفاقی حکومت نے پارلیمنٹ کے قانون سازی کے اختیار کی خلاف ورزی کی، ساری قانون سازی الٹ سمت میں چلنے لگی ہے۔۔رضا ربانی کا کہنا تھا کہ ایک قانون کے مسودہ کو وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ کے سامنے رکھا، سپریم کورٹ نے اس کی آئینی حیثیت کی منظوری دی۔اس قانون کو پارلیمنٹ میں بلڈوز کیا گیا، اور قانون سازی کے ذریعے 18ویں آئینی ترمیم رول بیک کی کوشش کی گئی۔جس سے پارلیمنٹ اور وفاق کو مزید نقصان پہنچا ہے۔عدالت عظمیٰ نے بار ہا یہ ریمارکس دیئے ہیں کہ پارلیمنٹ اپنے معاملات ہاوس کے اندر حل کرے ۔پارلیمانی معاملات میں عدلیہ کو نہ گھسیٹا جائے۔عدالتوں پر پہلے ہی مقدمات کا بوجھ ہے۔اسلامی نقطہ نظر سے قانون سازی کے سلسلے میں مستند رائے کی ضرورت پڑجائے تو اسلامی نظریاتی کونسل سے رجوع کیا جاتا ہے جس کی ماضی میں بہت سی مثالیں موجود ہیں۔ کونسل میں موجود جید علمائے کرام اور دانشور معاملے کو اسلامی نظریے کے مطابق پرکھتے اور پھر اپنی رائے سے پارلیمنٹ کو آگاہ کرتے ہیں۔لیکن معمول کی قانون سازی میں عدلیہ سے رائے طلب کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ہمارے سیاست دان ہمیشہ عدلیہ، فوج اور بیوروکریسی پر تکیہ کرتے ہیں انہیں پارلیمنٹ کے معاملات میں بار بار الجھاتے ہیں جس کی وجہ سےپارلیمانی معاملات میں دوسرے اداروں کی مداخلت کے راستے کھل جاتے ہیں۔پاکستان کی سیاسی تاریخ پر نظر دوڑائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ سیاسی معاملات میں فوج کی مداخلت کا سبب بھی سیاست دان ہی بنتے رہے ہیں 1958میں ایوب خان کو عنان اقتدار اپنے ہاتھ میں لینے کا موقع بھی سیاست دانوں نے فراہم کیا۔ 1977میں بھی پارلیمانی مسائل مل بیٹھ کر حل کرنے کے بجائے فوج کو اقتدار اپنے ہاتھ میں لینے کی دعوت بھی سیاست دانوں نے دی۔1998میں بھی سیاست دانوں نے فوج اور عدلیہ کے ساتھ بلاوجہ پنگے لئے جس کی وجہ سے فوج کو سیاسی معاملات میں مداخلت کا موقع مل گیا۔ 2008 میں ملک میں جمہوریت بحال ہوئی تو یہ توقع کی جارہی تھی کہ سیاست دان اپنے ماضی کی غلطیوں کو نہیں دہرائیں گے اور ذاتی و سیاسی مفادات پر قومی مفادات اور جمہوری اقدار کو مقدم رکھیں گے لیکن یہ توقعات پوری نہ ہوسکیں۔یہی وجہ ہے کہ میاں رضا ربانی جیسے سینئر لوگ ملک کے طرز سیاست پر انگشت نمائی پر مجبور ہوئے ہیں۔ہر سیاسی پارٹی کا دعوی ہے کہ قومی مفاد اس کے لئے سب سے مقدم ہے۔ اگر تمام سیاسی جماعتوں کو قومی مفاد عزیز ہے تو وہ اپنے سیاسی اختلافات بالائے طاق رکھ کر قومی مفاد کے لئے آپس میں بیٹھنے سے کیون کترا رہے ہیں۔جنگ و جدال، لڑائی، محاذارائی سے دنیا کا کوئی مسئلہ حل نہین ہوسکتا۔ قومیں آپس میں خونریز جنگوں اور لاکھوں انسانوں کاخون بہانے کے بعد بالاخر مذاکرات کی میز پرآنے پرمجبور ہوتی ہیں۔قومی مفادات کے تحفظ کی زیادہ ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ اس لئے حکومت کو سیاسی تنازعات کوانا کا مسئلہ بنانے کے بجائے مفاہمت اور مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا چاہئے۔ آج ملک میں مہنگائی اور بے روزگاری قومی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے.حکومت اور اپوزیشن اپنے اپنے محاذوں پر ڈٹے ہوئے ہیں حکومت کا موقف ہے کہ وہ اپنی آئینی مدت پوری کرے گی۔ اپوزیشن کا مطالبہ ہے کہ عوام سے تازہ مینڈیٹ لیا جائے تاکہ ملک کو موجودہ معاشی اور سیاسی بحران سے نکالا جاسکے۔ اس مرحلے پر حکومت پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ بیک ڈور سے سودے بازی کرنے کےبجائے کھلے عام اپوزیشن کو مذاکرات کی دعوت دے۔اور مذاکرات میں انتخابات کرانے، ملک کو معاشی اور پارلیمانی بحران سے نکالنے پرمشاورت کی جائے۔ محاذ ارائی کی موجودہ پالیسی ملک اور قوم کے لئے نقصان دہ ثابت ہورہی ہے۔عوام کی قوت خرید ہی نہیں بلکہ قوت برداشت بھی ختم ہونے کو ہے۔ اگر مہنگائی کے مارےعوام مجبورہوکرسڑکوں پر نکل آئے تو حالات کوقابو کرنا کسی کے بس میں نہیں ہوگا۔ جس کی ذمہ داری تمام سیاست دانوں پر عائد ہوگی۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔