سیاسی عدم استحکام کے صوبے پر اثرات۔۔۔محمد شریف شکیب

پاکستان تحریک انصاف کی قیادت نے خیبر پختونخوا اور پنجاب میں اپنی صوبائی حکومتیں تحلیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیراعلیٰ محمود خان کی سربراہی میں 2018میں قائم ہونے والی اسمبلی میں پی ٹی آئی کو تقریبا دو تہائی اکثریت حاصل ہے۔ ساڑھے چار سال جاری رہنے والی اسمبلی کو اندر سے کوئی خطرہ نہیں تھا۔ پارٹی کی اپنی حکومت نے وفاق کو عام انتخابات پر مجبور کرنے کے لئے دو صوبوں میں اپنی حکومتیں ختم اور اسمبلیاں تحلیل کرنے کی ٹھان لی ہے۔صوبے کی 52سالہ تاریخ میں گیارہ اسمبلیاں وجود میں آئیں جن میں سے صرف تین اسمبلیاں اپنی آئینی مدت پوری کرسکیں۔ملک میں بالغ رائے دہی کی بنیاد پر قیام پاکستان کے 23سال بعد 1970میں عام انتخابات ہوئے تھے۔اس وقت کے صوبہ سرحد میں مولانا مفتی محمود کی قیادت میں جے یو آئی کی مخلوط حکومت بنی تھی۔ وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے بلوچستان کی صوبائی حکومت کو برخاست کردیا تو صوبہ سرحد میں مفتی محمود کی حکومت بطور احتجاج مستعفی ہوگئی۔تاہم 1972میں وجود میں آنے والی اسمبلی 1977تک برقرار رہی۔جنرل ضیاء الحق نے جب بھٹو حکومت کا تختہ الٹ دیا تو صوبائی حکومت بھی ختم ہوگئی۔ صوبے میں قائم ہونے والی دو حکومتیں مارشل لاء کی نذر ہوگئیں جبکہ تین صوبائی حکومتیں اٹھاون ٹو بی کا شکار ہوگئیں۔تین اسمبلیاں قبل از وقت تحلیل کردی گئیں۔ 1985کے مارشل لاء دور میں غیر جماعتی بنیادوں پر وجود میں آنے اسمبلی مرکز میں محمد خان جونیجو کی حکومت گرائے جانے کے بعد ختم ہوگئی۔1988میں وجود میں آنے والی صوبائی اسمبلی بھی اپنی مدت پوری نہ کرسکی اور ڈھائی سال بعد تحلیل ہوگئی۔ 1990میں قائم ہونے والی حکومت صدارتی اختیار کی نذر ہوگئی۔ 1993میں نئی حکومت بنی مگر وہ بھی پائیدار ثابت نہ ہوسکی اور تین سال بعد اٹھاون ٹو بی کا شکار ہوگئی۔ 1997میں قائم ہونے والی اے این پی اور مسلم لیگ ن کی حکومت اڑھائی سال بعد مشرف کے مارشل لاء کی نذر ہوگئی۔ 2002میں قائم ہونے والی متحدہ مجلس عمل کی حکومت گورنر نے تحلیل کردی۔2008میں قائم ہونے والی صوبائی حکومت نے پہلی بار اپنی پانچ سالہ آئینی مدت پوری کرلی۔دوسری بار 2013کو وجود میں آنے والی پی ٹی آئی نے حکومت نے بھی اپنی مدت پوری کرلی۔2018میں صوبے کے عوام نے دوبارہ پی ٹی آئی کو مینڈیٹ دیدیا۔ صوبے کی سیاسی تاریخ میں یہ پہلا موقع تھا کہ کسی پارٹی کو صوبے کے عوام نے مسلسل دوسری مدت کے لئے منتخب کیا۔چونکہ مرکز اور پنجاب میں بھی پی ٹی آئی کی حکومت تھی اور بلوچستان میں بھی پی ٹی آئی مخلوط حکومت میں شامل تھی اس لئے توقع تھی کہ موجودہ اسمبلی بھی اپنی آئینی مدت پوری کرے گی تاہم مرکز میں عمران خان کی حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہونے کے بعد پی ٹی آئی نے قومی اسمبلی کی نشستوں سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا اور نئے انتخابات کے لئے عوامی تحریک شروع کردی۔جب مرکزی حکومت قبل از وقت انتخابات کرانے پر تیار نہ ہوئی تو پی ٹی آئی کی قیادت نے پنجاب اور خیبر پختونخوا کی اسمبلیاں تحلیل کرنے کا اعلان کردیا۔پچاس سالہ سیاسی تاریخ میں نو اسمبلیاں قبل ازوقت تحلیل ہونا ملک میں سیاسی عدم استحکام کی علامت ہے۔جمہوری اور سیاسی عمل کا تسلسل بار بار ٹوٹنے کے باعث حکومتیں اپنے منشور اور ایجنڈے کو عملی جامہ نہیں پہنا سکیں جس سے صوبے کو معاشی اور سیاسی طور پر ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔ مرکز اور صوبے میں مختلف سیاسی جماعتوں کی حکومتیں قائم ہونے سے بھی صوبے کو اس کے آئینی اور قانونی حقوق نہ مل سکے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ جب مرکز اور صوبے میں ایک ہی پارٹی یا اتحادی پارٹیوں کی حکومتیں تھیں تب بھی صوبے کو اس کے جائز حقوق نہیں۔ جس کا ثبوت یہ ہے کہ آج بھی قابل تقسیم قومی محاصل اور بجلی کے خالص منافع کے بقایا جات کی شکل میں اربوں روپے وفاق کے ذمے واجب الادا ہیں جس کی وجہ سے صوبے کی ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکا۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔