دھڑکنوں کی زبان ۔۔۔”معیار تعلیم کی طرف مثبت اقدامات“۔۔۔محمد جاوید حیات

تعلیم و تعلم سیکھنے کا عمل ہے سیکھنے کے عمل میں کوتاہیاں ہو سکتی ہیں کمزوریاں ہو سکتی ہیں لیکن دھوکہ تو نہیں ہو سکتا بغیر سیکھے ہوۓ کو کوٸی سیکھا ہوا کہے تو یہ معیار نہیں ۔دنیا میں کہیں ایسا نہیں ہوا کہ بغیر سیکھا ہوا بندہ اپنے آپ کو ”سیکھا ہوا“کہہ کر اپنے آپ کو اور ساری دنیا کو دھوکہ دے۔اگر ایسا کوٸی بندہ عمل کے میدان میں آجاۓ تو مات کھاۓ گا ۔۔اگر کوٸی بندہ کہے کہ میں تیراک ہوں تب اس کو تیر کر دیکھانا ہوتا ہے ورنہ گہرے پانی میں ڈوب جاۓ گا ایسا کچھ ڈھونگ ہمارے ہاں رچ رہا ہے ۔ہمارے تعلیمی اداروں میں المیہ ہے کہ کوٸی عملی کام نہیں ہو رہا طریقہ تدریس زبانی خیالی ہے تعلیم و تعلم کا عمل خیالی ہے اساتذہ وہی روایتی طریقے پر عمل پیرا ہیں اور پھر امتحان میں بچے کی کوٸی کار کردگی سامنے نہیں آتی ۔۔اس بار کی Exam 2 میں، میں بطور residnt inspt کے ایک امتحانی ہال میں داخل ہوا سارے بچے جن میں نامی گرامی پبلک سکول کے بچے بھی تھے کتابیں کھول کے نقل کر رہے تھے اور امتحانی عملہ کہہ رہا تھا ۔۔سر یہ ”انپرو“ کر رہے ہیں مجھے اس لفظ پہ شک ہونے لگا کہ انپرومنٹ کا مطلب کیا ہے ۔سکولوں میں سائنس لیبارٹریز ہیں لیکن کوٸی عملی کام نہیں ہوتا ریاضی کے ریسورس روم ہیں وہاں کوٸی پریکٹکل نہیں ہوتی ۔ساٸنس کے مضامیں میں پریکٹکل کے الگ نمبر ہیں لیکن یہ عمل بھی صاف شفاف نہیں ۔پرانے زمانے میں رٹ لگانے اور پھر استاد محترم کے ڈنڈا کھانے کا طریقہ راٸج تھا ہم خوف کے مارے رٹ لگاتے تھے لفظ تو کم از کم زبانی یاد ہوتے تھے آج کل ، مفہوم، تصور اور پس منظر واضح کرنے پر زور دیا جاتا ہے لیکن نہ کنسپٹ واضح ہوتا ہے اور نہ بچہ اس پر دھیان دیتا ہے اس لۓ کہ امتحان ویسے بھی پاس ہوجاتے ہیں ۔۔میرے ابو بہت پرانے استاد تھے 1945 میں میٹرک پاس کرکے 1946 میں پشاور میں استاد بن گئے تھے پنشن لے کے فارغ ہوۓتھے تو ایک بار چترال میں بڑی محفل میں بڑے اہل علم اور اساتذہ کی موجودگی میں ان سے پوچھا گیا کہ ۔۔” استاد جی آپ کے زمانے کے معیار تعلیم اور اس زمانے کے معیار تعلیم میں کیا فرق ہے ذرا تفصیل سے مثالوں سے وضاحت فرماٸیں “ ۔۔۔ابو نے جھٹ سے کہا ” بچو!ہمارے زمانے میں جو جس جماعت میں پاس ہوتا تھا پھر اسی جماعت کو پڑھاتا تھا ۔۔یعنی میٹرک پاس بچہ میٹرک کو پڑھاتا تھا آج کل ایسا نہیں ہوتا “ ۔۔ابو یہ کہہ کر خاموش ہوگئے اور حاضریں دھنگ رہ گئے۔آج کل اداروں میں learning نہیں ہورہی ۔جب بچہ کچھ کر کے دیکھاۓ اس کو learning کہتے ہیں استاد والا صرف ” پڑھانا“ ہوتا ہے ”سیکھانا “ نہیں کہلاتا ۔۔سکولوں میں سرزنش اور فیل پاس کا تصور ہونا چاہیۓ ورنہ بچے کو کس چیز کا خوف ہوگا موجودہ سکریٹری صاحب اور ڈاٸریکٹر صاحب کے احسن اقدام ہیں کہ لیباریٹریز کو فعال کرنے اور اساتذہ سے عملی کام کرانے کا عزم کیا گیا ہے ۔دنیا کے تقاضے بدل گئے ہیں آجکل کچھ کرکے دیکھانے کا دور ہے ہم زیادہ نمبر لینے کی دوڑ میں لگے ہوۓ ہیں سی ایس ایس کے امتحان میں صرف 300 بچے پاس ہوتے ہیں ہرسال ہمارے ہاں ایم فل اور پی ایچ ڈی سکالرز کو ڈگریاں تھما دی جاتی ہیں لیکن اہلیت ایسی ویسی نہیں ہوتی ۔ہمارے ہاں سکولنگ کی اہمیت کم ہو رہی ہے اساتذہ کو جدید میکینیزم کے اندر رکھنا چاہیۓ ۔پراٸمری سکولوں میں بہتری آرہی ہے ہاٸی اور ہاٸر سکینڈری میں اس مکینیزم کو فعال کیا جاۓ بچے ساٸنس کے مضامین لیبارٹری میں عملی طور پر پڑھیں وہ خود کچھ کام کریں استاد کے ساتھ مل کر وہ کام میں لگے رہیں ان کے ذہنوں سے نقل کا تصور ہی نکال دیا جاۓ ۔محکمہ تعلیم اس سلسلے میں مخلص ہے اساتذہ کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیۓ ۔پرانے زمانے کےوہ سزا جزا والا مکینیزم اپنی جگہ عملی تھا بچے کچھ نہ کچھ سیکھتے تھے آجکل عدم احتساب اور نقل نے ان کے خیالوں سے محنت کے عزم کو نکال دیا ہے ۔۔معیار عملی ثبوت کا نام ہے ۔۔کسی سکول کے نتجے میں خالی سکورنگ کا نام نہیں اور یہ ایک سکول کا مسلہ نہیں پورا نظام معیار پیدا کرے ۔ ہر بچہ اپنی صلاحیتوں کا کچھ نہ کچھ مظاہرہ کرے ۔عملی بن جاۓ محنت کرنا سیکھے ۔اپنے آپ کو علم کے ترازو میں تولے اپنی اہلیت کی جانچ پڑتال کرے ۔والدین اپنے بچوں کے تعلیمی معیار کا اندازہ لگاٸیں اور اساتذہ سےروابط رکھیں تب جا کے معیار کی طرف کوٸی قدم اٹھے گا

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔