کینیڈین حکومت اور اے کے آر ایس پی کے تعاؤن اور انتظام کے تحت اپر چترال پرواک میں آئس ہاکی فیسٹول شروع

چترال(چترال ایکسپریس میں): کینیڈین حکومت اور اے کے آر ایس پی کے تعاؤن اور انتظام کے تحت اپر چترال کے گاؤں پرواک میں منگل کے روز آئس ہاکی فیسٹول شروع ہوگئی جس میں بونی۔پرواک اور لاسپور کی آٹھ ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں۔
اسلام آباد میں کینیڈین ہائی کمشنر محترمہ لیسلی سکینلن اپنی بیٹی کے ساتھ پرواک پہنچ گئی ہیں جنہوں نے فاکس اور سنو لیپرڈ ٹیموں کے درمیان افتتاحی میچ میں بال پھینک کر ایونٹ کا باقاعدہ آغاز کیا جبکہ ان کی بیٹی نے ریفری کا کردار ادا کیا۔
گاؤں کے مرکز میں کینیڈین ہائی کمیشن کے مالی تعاون سے اے کے آر ایس پی نے اس کی ایس او کے ذریعے گراؤنڈ تیار کیا ہے ۔
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے محترمہ لیسلی سکینلون نے کہا کہ اپر چترال کا بیشتر حصہ اس گیم کے لیے نہایت موزون ہے کہ جہاں اس کے لیے مناسب مقامات موجود ہیں جبکہ اس گیم کے مستقبل کا انحصار مقامی کمیونٹیز کی دلچسپی پر ہوگا۔
انہوں نے مقامی لوگوں کے تجسس اور دلچسپی کے تناسب سے علاقے میں آئس ہاکی اور برف سے متعلق دیگر کھیلوں کی حمایت کرنے کے اپنے عزم کا اظہار کیا۔
بعد ازاں انہوں نے مقامی طور پر تیار کردہ دستکاری اور کھانے پینے کی اشیاء کے سٹالز کا دورہ کیا اور ان میں سے بہت سی اشیاء خرید کر اپنی دلچسپی کا اظہار کیا جبکہ وہ مقامی لوگوں میں بھی گھل مل گئی۔
لوگوں نے نئے متعارف کرائے گئے کھیل میں اپنی بھرپور دلچسپی کا اظہار کیا اور ان نوجوان کھلاڑیوں کی کارکردگی پر خوشگوار حیرت کا اظہار کیا جنہوں نے گزشتہ دو سالوں کے دوران اس میں مہارت حاصل کیا تھا۔
شرکاء کا کہنا تھا کہ یہ ان کے لیے بالکل نیا کھیل ہے جسے یہاں پولو کی طرح مقبول ہونے میں وقت نہیں لگے گا اور یہ سردیوں کے موسم میں بہترین تفریح ​​ہوگا۔
لیڈی کونسلر سارہ شاہ نے کہا کہ اس کھیل میں چھوٹی بچیوں کی شرکت انتہائی قابل تعریف ہے اور اس نے اس علاقے میں صنفی مساوات کے روشن مستقبل کا وعدہ کیا جہاں لڑکیاں پہلے ہی تعلیمی میدان میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کر چکی ہیں۔
اے کے آر ایس پی کے اپر چترال ایریا پروگرام منیجر فرید احمد اور ایکٹنگ آر پی ایم محمد یونس ، ایل ایس او کے نمائندے موجود تھے۔ سیکیورٹی کے انتظامات کے لئے ایس ڈی پی او مستوج محئ الدین پولیس کی بھاری نفری کے ساتھ موجود رہا۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔