فکرو خیال …چترال ،گرم چشمہ ٹو گبور روڈ ۔…فرہاد خان

اس روڈ کی قسمت میں مٹی ڈالنا ہی رہ گیا ہے بس ۔
بچپن سے سنتے سنتے جوانی کی دہلیز تک پہنچے پھر بال سفید ہونے لگے مگر ہماری اس روڈ کی قسمت کبھی بدلی نہیں ۔.بات ہورہی ہے گرم چشمہ گبور روڈ کی۔ پچھلے بیس پچیس سالوں سے ہر دسمبر جنوری اس روڈ کی تعمیر کا اعلان ہوتا ہے شادیانے بجاتے ہیں اپریل مئی تک تعمیراتی کام کے آغاز کا دنگل بجتا ہے اور پھر مئی جون تک قصہ پارینہ ہوکر سرکاری فائلوں کے انبار سے میں دم گھٹتے گھٹتے کوڑا دان کی زینت بن جاتا ہے ۔پھر گہری سکوت کے بعد اگلے دسمبر کو اچانک خبر آن پہنچتی ہے لمبی چوڑی پکی سڑک کے خواب بننے شروع ہوجاتے ہیں اور پھر جون کے آتے ہی نئے بجٹ کے ساتھ یہ خواب بھی چکنار چور ۔خبر نہیں کہ ہمارے جیتے جی یہ لمبی چوڑی پکی سڑک کا خواب شرمندہ تعبیر ہو کیونکہ مٹی کی اس خستہ حال سڑک کو مٹی سے اس قدر محبت ہوگئی ہے کہ مٹی کا مٹی کے بغیر جینا محال ہے۔ اس لئے این ایچ کے ٹھیکدارون کے ہاتھوں اس کی جو قدر افزائی ہوتی ہے وہ دیکھنے لائق ہے ۔بڑی منت سماجت کے بعد ٹھیکدار صاحب کو راضی کرلیا جاتا ہے اور وہ مٹی پر مٹی ڈال کر احسان عظیم کے بعد غائب ہوجاتے ہیں۔سرکاری کاغذات میں کروڑوں روپے کا بل ٹھیکدار برخودار کو عنایت ہوتی ہے۔وہ کچھ اپنے اپنے ایجنٹوں میں بندر بانٹ کے بعد باقی مفت کی بیش بہا دولت سمیٹے گھر کی راہ لیتا ہے مگر ہمارے اس روڈ کی قسمت بدلی ہے نہ بدل گئی ۔ایک بار پھر سڑک کی کشادگی ،سی پیک کا واویلا ،موٹر وے کی بازگشت سنائی دینے لگتی ہے مگر انجام کار مٹی کے اوپر مٹی کے بعد قصہ تمام ۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔