داد بیداد …گرمائش کی ازمائش…ڈاکٹرعنا یت اللہ فیضی

کسی کو ازمائش کا سامنا ہے کوئی پیمائش کے ساتھ کشتی لڑ رہا ہے مگر بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہماری مو جودہ دنیا کو خصو صاً زمین اور پہا ڑوں کو گرمائش کا سامنا ہے اور یہ گر مائش اس انداز سے بڑھ رہی ہے کہ پہا ڑوں کو پسینہ آرہا ہے زمین ہمارے پاوں کے نیچے سے سرکتی ہوئی محسوس ہو رہی ہے غا لب نے دوسو سال پہلے غزل کے شعر میں تعلی کر تے ہوئے کہا تھا ”ہو تا ہے نہاں گرد میں صحرا میرے ہوتے گھستا ہے جبیں خاک پر دریا میرے آگے“ سائنس دانوں نے نصف صدی پر محیط ریسرچ کے بعد خبر دی ہے کہ سورج بے قابو ہو گیا ہے گلیشر پگھل رہے ہیں ہماری زمین پر گرمائش کی ازما ئش نا زل ہو چکی ہے اور یہ عذاب کی صورت میں آگئی ہے اس گرمائش میں دنیا کے پہا ڑی علا قوں میں جو بر فانی ذخیرے یعنی گلیشر ہیں وہ تیزی سے پگھل رہے ہیں بر فانی ذخیروں کے نیچے صدیوں سے جو جھیلیں پر ورش پا تی آئی ہیں وہ جھیلیں گر مائش کی و جہ سے پھٹ رہی ہیں بر فا نی ذخیروں کے بے ہنگم پگھلنے سے ندی نا لوں میں طعیا نی دیکھنے کو ملتی ہے جھیلوں کے پھٹنے سے تباہ کن سیلا ب آرہے ہیں اس صورت حال سے زمین کو بھی خطرہ ہے سمندر وں کو بھی خطرہ ہے خشکی اور سمندروں میں بسنے والی مخلو قات کو بھی خطرہ ہے یہ بات ایک ان پڑھ چرواہا بھی جانتا ہے کہ مو سم بدل گیا ہے یورپ، امریکہ، افریقہ یا ایشیا کے کسی پہاڑی خطے میں جو ناحواندہ چرواہا گذشتہ 60سالوں سے مال مویشی چراتا آیا ہے وہ کسی سائنسی تحقیق یا کسی بڑے ریسرچ کے بغیر کہتا ہے کہ 50سال پہلے سردیاں بہت سرد ہو تی تھیں برف بہت زیا دہ پڑتی تھی سال کے 6مہینے مال مو یشی گھروں میں بند ہوتے تھے اب ایسا نہیں ہوتا، سردی بھی کم پڑتی ہے برف بھی کم پڑتی ہے مال مویشی بمشکل دو ماہ گھروں میں بند رکھے جا تے ہیں سال کے 10مہینے خشک چرا گاہوں میں گھاس چرتے ہیں وہ سائنسی تحقیق یا ریسرچ کا کوئی علم نہیں رکھتا وہ اس بات پر خوش ہے کہ اب پہا ڑوں پر بھی برف بہت کم پڑ تی ہے اس وجہ سے میدا نی علا قوں کی گر مائش ہم کو بھی ملنے لگی ہے ایک نا خواندہ یا نیم خواندہ کا شتکار بھی یہ بات جا نتا ہے کہ 50سال پہلے والی سردی اب دیکھنے کو نہیں ملتی وہ اس پر خدا کا شکر ادا کرتا ہے کہ اب پہلے کی طرح برف باری نہیں ہو تی دیر، سوات گلگت، ہنزہ اور چترال کے تجربہ کار بوڑھے اپنے باپ دادا کے زما نے کی کہا نیاں سنا تے ہوئے کہتے ہیں کہ ان پہا ڑوں میں جہاں مٹی کی کٹی ہو ئی چٹا نیں ہیں یہ زما نہ قدیم میں بر فا نی ذخیروں سے ڈھکے ہو ئے تھے پھر بر فا نی ذخیرے پگھل گئے اور یہ چٹا نیں رہ گئیں 80یا 90سال کے بزرگ یہ بھی بتا تے ہیں کہ قدیم زما نے میں لوگ برف کا نراور ما دہ بھی جا نتے تھے وہ ایک پہا ڑ سے نر بر ف اور دوسرے پہا ڑ سے ما دہ برف لا کر ایک خندق میں ڈالتے تھے اُس پر کوئلہ اور نمک کی تہہ جما کر بھو سہ ڈال دیتے تھے جب 10فٹ یا 15فٹ برف پڑ تی تھی تو نیچے دبے ہوئے نراور ما دہ برف کے ملا پ سے گلیشر بننے کا عمل شروع ہو تا تھا اور 10سا لوں کے اندر گلیشر پھیلتا ہوا نظر آتا تھا ہر سال کی بر ف باری اس کو مزید پھیلا تی تھی یوں ایک نئی ندی کا سر چشمہ پیدا ہوجا تا تھا اس طرح گلیشر بنا نے کی آخری کو شش 1989میں چترال کی وادی انجگان میں کی گئی تھی ہنزہ اور سکر دو سے بھی تجربہ کار لو گ آئے تھے لیکن 20سال بعد پتہ لگا کہ یہاں قدرتی گلیشر بھی پگھل کر ختم ہو رہے پورا سال انتظارکے بعد پہاڑوں پر 4فٹ برف بھی نہیں پڑتی مصنو عی گلیشر کیسے بنے گا؟ یو ں روایتی دانش اور دیسی تجربہ دھرے کا دھرا رہ گیا سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ سورج اور زمین کے درمیان اوزون (Ozone) نا می جھلی حا ئل تھی کا ر خا نوں اور مو ٹر گاڑیوں کے پھیلتے ہوئے دھواں نے اوزون کو چھلنی کر دیا کا ربن کی مقدار کم ہو گئی اور مو سم پر گرمائش کا غلبہ ہوا 1982ء کا کیوٹو پروٹوکال بھی کام نہ آیا 1972کا ارتھ سمٹ بھی نا کام ہوا گرمائش کی آزمائش نے زمین اور سمندروں کے لئے عذاب کی صورت اختیار کر لی ہے انسا نی بستیوں کو خطرات سے دوچار کر دیا ہے چارہ اور سبزہ بھی خطرے کی زد میں ہے چرند پرند اور کیڑے مکو ڑے بھی خطرے کی زد میں ہیں عالمی ادارے اس پر غور کر رہے ہیں مگر اب تک کی ریسرچ کے مطا بق اس کا کوئی قابل عمل فار مولا سامنے نہیں آیا۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔