گاڑیوں کا نیا کرایہ نامہ…محمد شریف شکیب

حکومت کی طرف سےپٹرول اور ڈیزل کی قیمتوںمیںاضافےکےاعلان کے بعد خیبرپختونخواٹرانسپورٹ اتھارٹی نے مسافر گاڑیوں کے لئے نیا کرایہ نامہ جاری کردیا ہے۔نئےکرایہ نامہ کے مطابق منی بسوں کا کرایہ 2.95، اے سی بسوں کا3.15روپے اور عام بسوں کا کرایہ 2.80 روپے فی کلومیڑ مقررکردیا گیا۔ لگژری بسیں 2.90 روپے فی کلومیٹر کے حساب سے کرایہ وصول کرنے کی پابند ہوں گی محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے خصوصی افراد کیلئے پچاس فیصد رعایت برقراررکھی گئی ہے۔ٹرانسپورٹروں کو کرایہ نامہ بس اڈوں میں نمایاں طور پر آویزاں کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔سی این جی سے چلنے والی گاڑیوں کے کرایوں میں بھی اضافہ کردیا گیا۔عام کوچز، منی بسیں 2.30، ائر کنڈیشنڈ بسیں 2.50 اور عام بسیں 2.15 روپے کرایہ وصول کریں گی۔متعلقہ سرکاری محکمے نے نیا کرایہ نامہ جاری کرکے یہ ثابت کردیا ہے کہ اس صوبے میں ٹرانسپورٹ کا بھی ایک محکمہ موجود ہے جو تیل کی قیمتوں میں اضافے سے بخوبی آگاہ ہے ۔تاہم جو کرایہ نامہ جاری کیاگیا ہے وہ تیل کی موجودہ قیمتوں اور مسافروں سے لئے جانے والے کرایوں سےکوئی مطابقت نہیں رکھتا۔ جو نیا کرایہ نامہ جاری کیاگیا ہے یہ اس وقت قابل عمل تھا جب پٹرول کی قیمت پچاس اور ڈیزل کی قیمت پنتالیس روپے تھی۔ منی بجٹ کے اعلان کے بعد پٹرول کی قیمت 272اور ڈیزل کی قیمت285روپے مقرر کی گئی ہے۔ سی این جی کی قیمت میں بھی چالیس روپے فی کلو اضافہ ہوچکا ہے۔ تیل کی قیمتوں میں اضافے کے چند گھنٹوں کے اندر ہی نہ صرف پٹرول پمپ مالکان نے پہلے سے موجود سٹاک کی قیمتیں فوری طور پر بڑھادیں اور لوکل، بین الاضلاعی اور بین الصوبائی ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں بھی پچاس فیصد تک اضافہ کردیا گیا۔نئے کرایہ نامہ کے مطابق پشاور سے نوشہرہ کا کرایہ بیس پچیس روپے، مردان کا چالیس سےپنتالیس، سوات ڈیڑھ سو، ایبٹ آباد اور ڈیرہ اسماعیل خان دو ڈھائی سو، چترال چار سے ساڑھے چار سو بنتا ہے۔ جبکہ مسافروں سے نوشہرہ اور چارسدہ کا کرایہ ایک سو بیس، اسلام آباد 700روپے، سوات، ڈیرہ ، بنوں، دیر پانچ سو روپے اور چترال کا کرایہ بارہ سو روپے وصول کیاجارہا ہے۔ ائر کنڈیشنڈ دفتروں میں بیٹھ کر کرایہ نامہ تیار کرنے کے بجائے اگر سرکاری حکام پٹرول پمپوں پر آکر پٹرول اور ڈیزل کی تازہ قیمت معمول کریں اور ٹرانسپورٹروں کے ساتھ بیٹھ کر کرایہ نامہ مقرر کریں اور اس کی خلاف ورزی پرسخت ایکشن لیں تو عوام کوکچھ ریلیف ملنے کی توقع ہوسکتی ہے۔ بات صرف ٹرانسپورٹ کرایوں مین فرق تک محدود نہیں۔ سرکاری ادارے اشیائے ضروریہ کی جو قیمتیں مقرر کرتے ہیں ان میں اور بازار کی قیمتوں میں آسمان زمین کا فرق ہوتا ہے۔ تھوک اور پرچوں پر مال فروخت کرنے والے نرخنامے ردی کی ٹوکری میں ڈالتے ہیں اور ہر دکاں پر اشیائے ضروریہ کی الگ الگ قیمتیں مقرر ہیں۔ایک پاو والے نیسلے ملک پیک کا ڈبہ بڑے سٹورز پر جنرل سیلز ٹیکس کی وصولی کے باوجود 60 روپے ہے جبکہ عام دکاندار وہی دودھ کا پیکٹ 75روپے میں فروخت کرتے ہیں۔اچھے وقتوں میں مارکیٹ کی مانیٹرنگ اور قیمتوں کی نگرانی کےلئے پرائس مجسٹریٹ ہوا کرتےتھے۔ جو روزانہ بازاروں کے دورے کرتے۔ صفائی کا خیال نہ رکھنے، گرانفروشی اور ذخیرہ اندوزی پر تاجروں کو گرفتار اور جرمانے کرتےتھے مجسٹریسی نظام ختم ہونے کے بعد اب ہر محکمے نے چھاپے مار کاروائیاں شروع کردی ہیں۔ فوڈ سیفٹی والے دورہ کرکے واپس جاتےہیں تو محکمہ خوراک والے آتے ہیں وہ اپنا حصہ لیکر جاتےہیں تو دوسرے اور تیسرے محکمےکےاہلکار آستینیں چڑھا کر پہنچ جاتے ہیں اور اپنا حصہ بٹورتے ہیں۔ ان سرکاری حکام کی مٹھی گرم کرنے پر جو خرچہ آتا ہے وہ قیمتیں بڑھاکر دکاندار وصول کرتے ہیں۔اگر سرکاری حکام کے چھاپے بند ہوجائیں تو شاید عوام کو اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں تاجر خود کچھ ریلیف دیدیں۔کمر توڑ مہنگائی نے غریب عوام کی کمر دوہری کردی ہے۔ روزمرہ ضرورت کی اشیاء کےداموں مین روزانہ کی بنیاد پر اضافہ ہورہا ہے۔ جعل سازی اتنی بڑھ گئی ہے۔اصل قیمت تین چار گنا زیادہ قیمت ادا کرنے کے باوجود لوگوں کو اصل مال نہیں ملتا۔ اس مرحلے پر اگر سرکاری اداروں کے ذمہ دار اہلکار ہاتھی کے کان سے باہر نکل کر قیمتوں اور اشیاء کے معیار کی مانیٹرنگ شروع کریں تو یہ اس ملک کے غریبوں پر بڑا احسان ہوگا۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔