تازہ ترینمضامین

گھر کا بھیدی لنکا ڈھائے…محمدشریف شکیب

مقبوضہ جموں وکشمیر کے سابق گورنر ستیہ پال ملک نے انکشاف کیا ہے کہ 2019 کا پلوامہ حملہ مودی حکومت کی لاپرواہیوں کا نتیجہ تھا۔یہ بات مودی حکومت کے اپنے مقرر کردہ گورنرنے ایک ٹی وی انٹرویو میں بتائی۔ان کا کہنا تھا کہ بھارتی حکومت اپنی ناکامی کاملبہ پاکستان پر ڈال کر سیاسی فائدہ اٹھانا چاہتی تھی جس میں وہ بڑی حد تک کامیاب بھی رہی۔ ستیہ پال ملک کو بی جے پی نے ہی انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کا گورنر مقرر کیا تھا اور پھر آرٹیکل 370 کے تحت کشمیر کی آئینی حیثیت کے خاتمے کے بعد انھیں دوسری جگہ منتقل کر دیا گیا سابق گورنر کا کہنا تھا کہ پلوامہ میں بھارتی فوجی خطرے کی زد میں تھے سی آر پی ایف نے اپنے جوانوں کی منتقلی کے لیے وزارت داخلہ سے طیارے کی درخواست کی تھی جسے دانستہ طور پر مسترد کر دیا گیا جس راستے سے فوجیوں کو نکلنا تھا۔اس کو بھی اچھی طرح سے صاف نہیں کیا گیاانھوں خود وزیراعظم نریندر مودی کو بتایا تھاکہ ہمارےجوان خطرے میں ہیں۔واقعے کے بعدجب انہوں نے وزیر اعظم مودی سے کہا ہے کہ بروقت خطرے سے آگاہ کرنے کے باوجود جان بوجھ کر اپنے جوانوں کی زندگی خطرے سے دوچار کردی گئی۔شکوہ کرنے پر وزیراعظم مودی نےانہیں خاموش رہنے کی تلقین کی۔ فوجی کانوائے کے قریب کار بم دھماکے میں 40فوجی مارے گئے۔ اگرچہ مقبوضہ کشمیر میں برسرپیکار مجاہد تنظیم نے حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی مگر مودی حکومت نے سفارتی ذرائع سےاسے پاکستان کی کارستانی قرار دیا۔بھارتی فوج نے بالاکوٹ میں جوابی کاروائی کرکے شدت پسندون کے ٹھکانے تباہ کرنے کادعوی کیا تھا۔ اسی حملے کے دوران ایک بھارتی جنگی طیارہ مقبوضہ کشمیر کی حدود میں گر کر تباہ ہوگیا۔اور دوسرا طیارہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیرمیں گرا ۔اس طیارے کے پائلٹ ابھی نندن کو گرفتار کرکے بعد ازاں انسانی ہمدردی و خیر سگالی کے طور پر بھارت کےحوالے کیاگیا۔ جس کی ساری دنیامیں پذیرائی ہوئی۔ بھارتی حکومت نے پلوامہ حملے سے متعلق میڈیا پر مہم چلائی گئی اور بی جے پی اسی روایتی ہتھکنڈے کی بدولت ریاستی انتخابات جیتنے میں کامیاب ہوئی تھی ستیہ پال ملک بھارت کی سب سے بڑی ریاست اتر پردیش سے تعلق رکھتےہیں وہ اترپردیش اسمبلی کے رکن بھی رہے 1980 میں اترپردیش سے راجیہ سبھا پہنچے۔ پھر وہ لوک سبھا میں علی گڑھ سے منتخب ہوئے۔1996میں وہ بی جے پی میں آ گئے اور 2012 میں انھیں پارٹی کا قومی نائب صدر بنا دیا گیا۔ 2017 میں بہار کے گورنر بنائے گئے۔2018 میں انہیں مقبوضہ کشمیر اور بعد ازاں گوا اور پھر ميگھالیہ کا گورنر بنایا گیا اس عہدے پر وہ 18 اگست 2022 تک فائز رہے۔گورنر مقبوضہ کشمیرکے اس انکشاف سےبھارتیہ جنتا پارٹی اور اس کے وزیراعظم کا مکروہ چہرہ ایک بار پھربےنقاب ہوگیا ہے۔ جب بھی بھارت میں ریاستی یا عام انتخابات قریب آتے ہیں بھارت دہشتگردی کی کوئی نہ کوئی کاروائی کرکے اس کاملبہ پاکستان پر ڈالتا ہے اور انتخابی مہم میں پاکستان مخالف بیانات دےکرلوگوںکی ہمدردیاں حاصل کی جاتی ہیں اس سے قبل ممبئی حملے اور ٹرین کو آگ لگانے کے واقعات بھی رونماہوئے تھے جن کی ذمہ داری پاکستان پر ڈالی گئی تھی وقت گذرنے کے ساتھ بھارتی عوام کےسامنےساری سازشیں بے نقاب ہورہی ہیں۔بھارت کے سنجیدہ طبقے اب یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ پلوامہ حملے جیسے بڑے واقعے کو پاکستان کی سازش قرار دینا درحقیقت اپنے سیکورٹی سیکورٹی کی ناکامی تسلیم کرنا ہے۔جس پر وزیراعظم نریندر مودی اور عسکری قیادت کوقوم سے معافی مانگنی چاہئِے۔مودی کے اپنے گورنر کی طرف سے حقیقت کا اعتراف اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ جھوٹ کا راستہ بہت مختصر ہوتا ہے حقائق ایک نہ ایک دن دنیا کے سامنے آہی جاتے ہیں۔ ایسے واقعات معربی ممالک اور دنیا کے دوسرے حصوں میں بھی ہوتےہیں ۔مگر مہذب اقوام کے سربراہان حقائق سامنے آنے پر قوم سے معافی مانگتےہیں جبکہ ترقی پذیرممالک کے سربراہوں میں ابھی تک یہ اخلاقی جرات پیدانہیں ہوئی۔

زر الذهاب إلى الأعلى
Ads Blocker Image Powered by Code Help Pro

Ads Blocker Detected!!!

We have detected that you are using extensions to block ads. Please support us by disabling these ads blocker.

Powered By
Best Wordpress Adblock Detecting Plugin | CHP Adblock

اشتہارات بند کیوں ہیں؟۔

براہِ کرم ہمارے پلیٹ فارم کو سپورٹ کرنے کے لیے اشتہارات کو روکنے والی ایپ بند کر دیں۔ آپ کی معاونت ہمارے لیے اہم ہے۔