بلدیاتی اداروں کامالی استحکام…محمد شریف شکیب

خیبر پختونخوا میں بلدیاتی اداروں کے قیام کو ڈیڑھ سال سے زائد کا عرصہ گذر گیا۔ مگر صوبائی حکومت کی طرف سے بلدیاتی اداروں کو فنڈز جاری نہیں کئے گئے۔ جس کی وجہ سے جمہوریت کی نرسری کہلانے والے یہ ادارے مفلوج بنے ہوئے ہیں۔اس مسئلے کا حل نکالنے کے لئے لوکل گورنمنٹ ایکٹ مجریہ دو ہزار انیس میں ترمیم زیر غور ہے جس کے تحت تحصیل کونسل کو اٹھارہ جبکہ ویلج اور نیبرہڈ کونسلوں کو چھ مختلف قسم کے ٹیکسز لگانے اور وصول کرنے کا اختیار دیا جائے گا تاکہ بلدیاتی ادارے صوبائی حکومت پرمکمل انحصار کرنے کے بجائے اپنے وسائل خود پیدا کریں۔ہمارے نمائندے کی رپورٹ کے مطابق تحصیل کونسلوں کو جن مدات میں ٹیکس، محصول، چونگی،کرائے اور فیس وصول کرنے کا اختیار دیاجارہا ہے۔ان میں خدمات کی فراہمی، اراضی کے انتقال، سکول، کلینکوں اور پرائیویٹ ہسپتالوں پر ٹیکس، آبیانہ کی وصولی، شہری علاقوں کے غیر منقولہ جائیداد پر ٹیکس، پرمٹوں کے اجراء کی فیس اور جرمانوں کی وصولی، اسلحہ، ڈرائیونگ لائسنس،مویشی منڈیوں میں جانوروں کی خرید و فروخت، تمام اقسام کے اشتہارات، بل بورڈز اور ہورڈنگز پرٹیکس، صنعتی نمائشوں اور میلوں پرٹیکس،سینما، ڈرامہ، تھیٹر،سرکاری عمارتوں کے کرائے شامل ہیں۔ویلج اور نیبر ہڈ کونسلوں کو بچوں کی پیدائش کا سرٹیفیکیٹ جاری کرنے، شادی بیاہ اور اموات کے سرٹیفیکیٹ، واٹر سپلائی سکیموں پر ٹیکس، مختلف کاروباروں کے لئے لائسنسوں کے اجراء اور مویشی منڈیوں پر ٹیکس لگانے اور وصول کرنے کے اختیارات دیئے جارہے ہیں۔ مقامی حکومت کو لوکل گورنمنٹ ایکٹ کے تحت 48مختلف کاروبارکرنے والوں سے مروجہ قوانین کی خلاف ورزی کی صورت میں ایک ہزار پانچ سو سے لے کر پچاس ہزار روپے تک جرمانہ کرنے کا اختیار حاصل ہے۔قانون کے تحت جن علاقوں میں معدنی ذخائر ہیں انہیں نکالنے پر بھی مقامی حکومتوں کوٹیکس دیاجائے گا۔ ان ٹیکسوں سے مقامی حکومتوں کے کم از کم پچاس فیصد اخراجات پورے ہوں گے اور باقی ماندہ پچاس فیصد اخراجات صوبائی مالیاتی ایوارڈ کی مد میں ملنے والے فنڈز سے پورے کئے جاسکتے ہیں۔صوبائی حکومتیں اس بنیاد پر بلدیاتی اداروں کو صوبائی مالیاتی ایوارڈ دینے سے گریزاں ہیں کہ صوبوں کو قومی مالیاتی ایوارڈ سے ان کا جائز حصہ نہیں مل رہا۔صوبوں کایہ بھی شکایت ہے کہ وفاق نے اٹھارویں ترمیم کے تحت متعددوزارتیں اورمحکمے صوبوں کومنتقل کردیئے ہیں تاہم ابھی تک ان محکموں کے اختیارات اور وسائل صوبوں کو نہیں ملے۔ ہمارے ہاں یہ المیہ رہا ہے کہ جمہوری حکومتیں ہمیشہ بلدیاتی اداروں کے خلاف رہی ہیں۔ ملک میں پہلے بلدیاتی ادارے بنیادی جمہوریتوں کے نام سے فوجی ڈکٹیٹر جنرل ایوب خان نے متعارف کرائے تھے۔ بعد ازاں انہوں نے بلدیاتی اداروں کو صدارتی انتخابات کے لئے الیکٹورل کالج کادرجہ دیا اور ان کے ذریعے خود کو محترمہ فاطمہ جناح کے مقابلے میں خود کومنتخب کروایا۔ ملکی تاریخ میں دوسری بار بلدیاتی ادارے ایک اور فوجی ڈکٹیٹر جنرل ضیاالحق نے متعارف کرائے۔ مارشل لاء کے خاتمے کے بعد یہ ادارے بھی ختم ہوگئے۔ تیسری بار ایک اور فوجی ڈکٹیٹر جنرل پرویز مشرف نے بلدیاتی ادارے قائم کئے۔ دو سال قبل بلدیاتی ادارے اپنی آئینی مدت پوری کرنے کے بعد تحلیل ہوگئے تھے۔چھ ماہ بعد خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات دو مراحل میں مکمل ہوئے۔مگر ڈیڑ ھ سال کا عرصہ گذرنے کے باوجود تحصیل، ویلج اور نیبر ہڈ کونسلوں کے دفاتر کھل سکے،نہ بلدیاتی نمائندوں کو ترقیاتی فنڈز اور اعزازیے مل سکے۔ جس کی وجہ سے منتخب ہونے والے ارکان بھی عوام سے منہ چھپاتے پھیر رہے ہیں۔ مقامی طور پر ٹیکسوں، فیسوں اور محصول چونگیوں کا اختیار بلدیاتی اداروں کوتفویض کرنے کافیصلہ خوش آئند ہے۔ اس فیصلے پر اس کی اصل روح کے ساتھ عمل درآمد بھی ہوجائے تو آئندہ دس پندرہ سالوں کے اندر بلدیاتی ادارے مالی لحاظ سے خود کفیل ہوسکتے ہیں اور نچلی سطح پر عوام کوبنیادی شہری سہولیات کی فراہمی کے قابل ہوسکیں گے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔